
اے ایف پی
زیلنسکی کے مطابق اگر انتخابات کرانے کی طرف پیش قدمی کی گئی تو یہ ملک کو تباہ کرنے کے مترادف ہو گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب زیلنسکی کے سابق وزیر دفاع میخائیلو فیدوروف نے رواں ہفتے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم انہوں نے انتخابات کے انعقاد کا کوئی واضح طریقہ کار پیش نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران انتخابات کرانے میں کئی بڑی رکاوٹیں ہیں، جن میں محاذ پر موجود فوجیوں، بیرونِ ملک موجود لاکھوں یوکرینی پناہ گزینوں اور روس کے زیر قبضہ علاقوں کے شہریوں کا ووٹ ڈالنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ روس کی جانب سے ممکنہ غلط معلومات اور انتخابی عمل میں مداخلت کا خطرہ بھی موجود ہے۔
کییف انسٹی ٹیوٹ آف سوشیالوجی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 15 فیصد یوکرینی چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہونے سے پہلے انتخابات کرائے جائیں۔ زیلنسکی نے فیدوروف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود یا دوسروں کے دباؤ میں غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ فیدوروف اصلاحات کے حامی رہے ہیں تاہم فوجی قیادت کے ساتھ ان کے اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
یوکرین میں فیدوروف کی برطرفی کے بعد ہزاروں افراد نے احتجاج کیا تھا۔ زیلنسکی نے کہا کہ عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم فوج کے اہلکاروں کے بارے میں ”بے ادبی‘‘ سے گریز کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے اور فوج کے درمیان خلیج پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
زیلنسکی کے مطابق موجودہ حالات میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سیاسی اختلافات یوکرینی معاشرے اور فوج کے درمیان مزید تقسیم کا باعث بن جائیں۔



