
شام میں اسرائیلی فوج کی موجودگی بڑھ رہی ہے؟
مقامی حکام کے مطابق زرعی زمینوں اور پانی کے ذرائع کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ سینکڑوں بھیڑیں قبضے میں لینے اور پانی کے کنویں تباہ کر دینے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
کیتھرین شائر
اپریل 2024 میں گولان کی پہاڑیوں کے قریب شامی کسان احمد حسن الدین کے 16 سالہ بیٹے صدام کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا۔ احمد کے مطابق صدام اپنے خاندان کی زرعی زمین پر جانوروں کو چارہ ڈالنے گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے اسے یہ کہہ کر گرفتار کیا کہ وہ ”اسرائیلی ریاست کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہوا،‘‘ تاہم اس کے خاندان کا کہنا ہے کہ یہ اس کی اپنی زمین ہے اور وہاں کام کرنے کے لیے اس خاندان کو اقوام متحدہ کی طرف سے اجازت بھی حاصل تھی۔
گولان کا یہ علاقہ شام کا حصہ ہے، جس پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد قائم کیے گئے بفر زون میں شامی کسانوں اور چرواہوں کو داخل ہونے کے لیے اقوام متحدہ کی ڈس انگیجمنٹ آبزرور فورس (UNDOF) سے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔

اسرائیل نے بفر زون کا کنٹرول سنبھال لیا
دسمبر 2024 میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے اس غیر فوجی علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اسرائیلی قیادت نے کہا کہ وہاں اسرائیل کی فوجی موجودگی عارضی ہے اور اس کا مقصد اسرائیل کو سرحد پار حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
تاہم اس کے بعد وہاں اسرائیلی موجودگی بتدریج بڑھتی گئی۔ نومبر 2025 میں UNDOF کے مطابق اسرائیل نے علاقے میں 10 فوجی اڈے قائم کیے تھے، جہاں سے درعا اور قنیطرہ میں تقریباً روزانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
ان کارروائیوں میں بکتر بند گاڑیوں کا گشت، عارضی چوکیاں، شہریوں کی تلاشی، موبائل فون کی جانچ اور بعض اوقات بائیومیٹرک معلومات کا حصول بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے گھروں، کاروباری مراکز اور اسکولوں پر چھاپے بھی مارے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق زرعی زمینوں اور پانی کے ذرائع کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ سینکڑوں بھیڑیں قبضے میں لینے اور پانی کے کنویں تباہ کر دینے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
حمیدیہ کے 65 سالہ رہائشی موسیٰ خلیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے گزشتہ سال ان کا دو منزلہ مکان مکمل طور پر تباہ کر دیا، جس میں چار اپارٹمنٹس تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب انہیں اپنے آٹھ افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت اور گھر دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے ہر دستیاب کام کرنا پڑتا ہے۔
اسرائیلی دراندازیوں میں اضافہ
شام میں قائم سِجل سینٹر کے مطابق گزشتہ سال 25 اگست سے 31 دسمبر تک اسرائیلی فوج کی 818 دراندازیاں ریکارڈ کی گئیں۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک یہ تعداد 1,632 تک پہنچ چکی ہے۔ اس مرکز کے مطابق دسمبر 2024 سے تقریباً 200 شامی شہری گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ 40 سے 50 افراد اب بھی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بعض کارروائیوں کو ممکنہ جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی دوسرے ملک کی حدود میں داخل ہو کر شہریوں کو گرفتار کرنا اور انہیں اپنی جیلوں میں منتقل کرنا بین الاقوامی قانون کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔

اسرائیل ایسا کیوں کر رہا ہے؟
اسرائیلی حکومت کا موقف ہے کہ جنوبی شام کو غیر فوجی علاقہ رہنا چاہیے اور وہاں فوجی کارروائیوں کا مقصد اسرائیل کے خلاف دہشت گردانہ حملوں، اسمگلنگ اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق بعض گرفتاریاں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبے کی بنیاد پر بھی کی گئی ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اسرائیل کے مقاصد اس سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔ واشنگٹن میں قائم نیو لائنز انسٹیٹیوٹ کی تجزیہ کار الزبتھ تورکوف کے مطابق حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل میں سرحد پار حملوں کا خوف بڑھ گیا ہے۔ اسرائیل شام کی نئی حکومت کو بھی ممکنہ خطرہ سمجھتا ہے اور اسے جہادی گروہوں اور ترکی کے قریب تصور کرتا ہے۔
حالیہ دنوں میں اسرائیل نے شمالی شام کے ابو ظہور فوجی ہوائی اڈے پر بھی حملہ کیا، جو ایک ترک وفد کے دورے کے فوراً بعد کیا گیا۔ اسرائیلی رہنما یہ خدشہ بھی ظاہر کر چکے ہیں کہ مستقبل میں اسرائیل کی جنگ شام یا ترکی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔
پانی اور اہم پہاڑی علاقوں کی اہمیت
ماہرین کے مطابق شام میں اسرائیلی کارروائیوں کے پیچھے سکیورٹی کے علاوہ اسٹریٹیجک اور آبی مفادات بھی ہو سکتے ہیں۔ شام کی بلند ترین چوٹی جبل الشیخ یا ماؤنٹ ہرمون پر کنٹرول اسرائیل کو لبنان اور شام کے بڑے علاقوں کی نگرانی میں مدد دیتا ہے۔
تھنک ٹینک ایٹانا کی تحقیق کے مطابق اسرائیلی موجودگی کے نتیجے میں قنیطرہ اور مغربی درعا کے ایسے علاقوں تک بھی براہ راست یا بالواسطہ رسائی حاصل ہوئی ہے، جہاں پانی کے اہم ذخائر موجود ہیں۔

آگے کیا ہو گا؟
ماہرین کے مطابق اسرائیلی ”سکیورٹی زون‘‘ کتنی دیر تک عارضی رہیں گے، یہ واضح نہیں۔ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ایچ اے ہیلیر کا کہنا ہے کہ ماضی میں بعض سکیورٹی زون اسرائیل کے مستقل قبضے یا الحاق شدہ علاقوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
شامی حکومت اسرائیل کی فوجی برتری کے باعث فی الحال سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ہیلیر کے مطابق دمشق حکومت جانتی ہے کہ اسرائیل کے خلاف کوئی براہ راست فوجی راستہ اختیار کرنا اس کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔



