پاکستاناہم خبریں

ایس سی او مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی امن کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار ہے، وزیراعظم شہباز شریف

کرغزستان کو ایس سی او کی چیئرمین شپ کی مدت کامیابی سے مکمل کرنے پر مبارکباد دی اور تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان عملی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کرغزستان کے کردار کو سراہا۔

سید عاطف ندیم-ادارت

بشکیک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کو عالمی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس سی او مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے اور پاکستان تنظیم کا ایک فعال اور ذمہ دار رکن ہونے کی حیثیت سے تنازعات کے پرامن حل، علاقائی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹرز میں درج بنیادی اصولوں کا احترام کرتا ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق اقوام متحدہ اور ایس سی او چارٹر کی رہنما ہدایات پر عمل پیرا رہنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کرغز قیادت کا شکریہ اور ایس سی او کے 25 سال مکمل ہونے پر مبارکباد

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بشکیک میں ایس سی او رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کو اپنے لیے باعثِ اعزاز قرار دیا اور کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف اور ان کی ٹیم کا پرتپاک میزبانی اور اجلاس کے انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کرغزستان کو ایس سی او کی چیئرمین شپ کی مدت کامیابی سے مکمل کرنے پر مبارکباد دی اور تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان عملی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کرغزستان کے کردار کو سراہا۔

وزیراعظم نے کرغزستان اور ازبکستان کی قیادت اور عوام کو ان کے یومِ آزادی پر بھی دلی مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے 25 سال مکمل ہونا ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کے بقول ایک چھوٹے سے پودے کی صورت میں شروع ہونے والی تنظیم آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو رکن ممالک کے درمیان سلامتی، استحکام اور تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔

بدلتے عالمی منظرنامے میں ایس سی او کا کردار

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، عالمی معیشت میں بے یقینی، موسمیاتی بحرانوں اور ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلیوں سے متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے پیچیدہ حالات میں ایس سی او مشترکہ مسائل سے نمٹنے اور اپنے عوام کے لیے امن، سلامتی اور خوشحالی یقینی بنانے کے اجتماعی عزم کی نمائندگی کرتی ہے۔

شہباز شریف کے مطابق پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے اصولوں اور ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ کے تحت علاقائی تعاون کے فروغ کو اہمیت دیتا ہے اور تنظیم کے مقاصد کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

علاقائی بحران اور پاکستان کا سفارتی کردار

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے رواں سال کے آغاز میں ایک علاقائی بحران کے دوران امن کے لیے موثر سفارتی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان حالات میں ایک مخلص ثالث اور سہولت کار کے طور پر سفارتی کوششیں جاری رکھیں، جن کے نتیجے میں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

وزیراعظم کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت علاقائی کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے ان برادر اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں تعاون اور حمایت فراہم کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا یقین ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ فراہم کرتی ہے اور اس پر پیش رفت کے لیے سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خودمختاری، علاقائی سالمیت، اجتماعی سلامتی اور علاقائی امن کے حوالے سے تینوں ممالک کے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی ریاست کے خلاف محاذ آرائی یا تقسیم پیدا کرنا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے دفاعی تعاون اور باہمی روابط کو اہمیت دیتا ہے۔

فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے عالمی برادری سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ

وزیراعظم نے غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام کو شدید مشکلات اور انسانی تکالیف کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی خاندان اور بالخصوص خواتین اور بچے طویل عرصے سے جنگ اور عدم تحفظ کے اثرات برداشت کر رہے ہیں۔

شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام سمیت دنیا بھر کی مظلوم اقوام کو حقِ خود ارادیت کے حصول میں مدد فراہم کرنے کے عزم کو عملی شکل دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو انسانی تکالیف کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا چاہیے، خواہ متاثرہ لوگ دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتے ہوں۔

پانی کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے

وزیراعظم نے جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے میں پانی کے مسئلے کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ پانی خطے کی زندگی، زراعت اور مستقبل کی بنیاد ہے، جو لاکھوں افراد کی زندگیوں کو سہارا دیتا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پانی کو کسی بھی صورت ہتھیار یا سیاسی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے سنجیدہ اور پابند بین الاقوامی وعدے ہوتے ہیں، جن کی پاسداری ضروری ہے۔

شہباز شریف نے زور دیا کہ ایسے معاہدوں کو سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ان پر ان کے متن اور بنیادی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔

دہشت گردی خطے کے لیے مشترکہ خطرہ ہے

وزیراعظم نے دہشت گردی کو ایس سی او خطے کے لیے سنگین خطرات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی مختلف شکلوں میں پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کو متاثر کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سے شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے کی صدارت کے دوران پاکستان نے علاقائی انسداد دہشت گردی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے گزشتہ اڑھائی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی اور معاشی نقصانات برداشت کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران 90 ہزار سے زیادہ جانوں کا نقصان ہوا جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی قربانیوں کا مقصد صرف ملکی سلامتی نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کو دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرنا بھی تھا۔

افغانستان کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے پر زور

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام پورے خطے کی ترقی کے لیے ضروری ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جب تک دہشت گرد گروہ ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرتے رہیں گے، خطے میں پائیدار امن قائم کرنا مشکل رہے گا۔

انہوں نے علاقائی اور عالمی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

علاقائی روابط کو تزویراتی ضرورت قرار

وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک کا خطہ تین ارب سے زیادہ افراد پر مشتمل ہے اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وسیع صلاحیت کے ساتھ رکن ممالک کی قیادت پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے بہتر معاشی اور سماجی مستقبل کی تشکیل کریں۔

وزیراعظم نے علاقائی روابط کو خوشحالی کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں رابطہ سازی اب صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک تزویراتی ضرورت بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی بحرانوں نے متنوع نقل و حمل کے نیٹ ورکس، محفوظ توانائی راہداریوں اور مضبوط سپلائی چینز کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کے لیے ایک اہم راستہ فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان موجودہ بین العلاقائی ریلوے منصوبوں، سڑکوں کے رابطوں اور علاقائی توانائی کے منصوبوں پر پیش رفت کے لیے بھی پُرعزم ہے۔

ایس سی او ترقیاتی حکمت عملی 2035 اور ترقیاتی بینک کی تجویز

وزیراعظم نے کہا کہ رکن ممالک کو ایس سی او ترقیاتی حکمت عملی برائے 2035 پر موثر عملدرآمد کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔

انہوں نے ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کو تنظیم کے اقتصادی تعاون اور ترقیاتی اہداف کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ غربت کے خاتمے سے متعلق ایس سی او کے خصوصی ورکنگ گروپ کے مستقل چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان سماجی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے اور تنظیم کے خطے میں جامع اور پائیدار ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

پاکستان کی آئندہ ایس سی او صدارت اور ایکشن پلان

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کی صدارت سنبھالنے کے بعد ایک جامع ’’ایکشن پلان‘‘ پیش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی اور غربت میں کمی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، صحت، ثقافت اور کھیلوں سمیت متعدد شعبوں کو ترجیح دی جائے گی۔

وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ذمہ دارانہ اور جامع ترقی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے تجویز دی کہ ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان ڈیجیٹل خودمختاری، تحقیق، جدت طرازی اور جامع تکنیکی ترقی کے لیے ’’ایس سی او سوورین اے آئی انفراسٹرکچر اور گورننس فریم ورک‘‘ تشکیل دیا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے عمل میں کوئی بھی رکن ملک پیچھے نہ رہ جائے۔

گلوبل ریزیلینس ایکسپو کی میزبانی کی تجویز

وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر خطے میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پیشگی انتباہ، امدادی سرگرمیوں اور آفات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس مقصد کے لیے پاکستان نے اسلام آباد میں 2026 اور 2027 کے دوران ’’گلوبل ریزیلینس ایکسپو‘‘ کے انعقاد کی تجویز دی۔

’’وژن کو عمل میں بدلنا‘‘ پاکستان کی صدارت کا مرکزی موضوع

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ایس سی او صدارت کا مرکزی موضوع ’’وژن کو عمل میں بدلنا: روابط، جدت طرازی اور مشترکہ خوشحالی‘‘ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس ذمہ داری کو امید اور عزم کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اس کا یقین ہے کہ علاقائی روابط سے عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں گے، جدت طرازی سے نئے معاشی اور سماجی مواقع پیدا ہوں گے جبکہ مشترکہ خوشحالی کے فوائد عوام تک پہنچ سکیں گے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ایس سی او کے وژن کو عملی اقدامات اور ترقیاتی اہداف میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ طور پر آگے بڑھیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی عالمی حالات میں شنگھائی تعاون تنظیم کو تعاون، مکالمے، رابطوں اور امید کو ترجیح دیتے ہوئے عالمی و علاقائی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر رکن ممالک اپنی صلاحیتوں، وسائل اور مشترکہ مقاصد کو یکجا کریں تو امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تاریخ شنگھائی تعاون تنظیم کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے تصادم کے بجائے تعاون، تقسیم کے بجائے مکالمے اور رکاوٹوں کے بجائے روابط کو ترجیح دی اور بدلتی ہوئی دنیا میں امن و ترقی کے لیے عملی کردار ادا کیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button