کالمزناصف اعوان

سیاست‘ تُو کہاں کھو گئی ؟……..ناصف اعوان

اب تک وہی انداز سِرک رہا ہے وہی سوچ ہر جگہ ہر مقام پر دائروں کی صورت چکر کاٹ رہی ہے مگر اس نے ابھی تک بدلتی رُتوں کا حال جاننے کی کوشش نہیں کی

سیاست اپنے مخصوص انداز میں متحرک دکھائی دے رہی ہے کہ وہ کبھی ایوانوں میں اور کبھی ایوانوں کے باہر جلوہ افروز ہوتی ہے ۔آج کل لندن میں موجود خوب جوہر دکھا رہی ہے۔ صورت حال سے کیسے نمٹنا ہے کیسے کسی کے پہلو میں جگہ بنانی ہے اس پر بھر پور طور سے غور کر رہی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ اپنی خواب گاہ سے دور ہو جائے کہ یہاں تک کا سفر اس نے بڑی محنت حکمت عملی اور دانائی کے ساتھ طے کیا ہے لہذا وہ اس سفر کو جاری رکھنا چاہتی ہے جبکہ ہمیشہ کےلئے ایسا نہیں ہوتا تبدیل ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔
جی ہاں ! ہماری مروجہ و موجودہ سیاست نے فقط اپنی ذات کو ہی ترجیح دی ہے اپنے ہی عیش کے لئے جتن کیے ہیں جن پر اس کا انحصار ہے انہیں یکسر پس پشت ڈالا گیا۔ اب وہ صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں کہ انہیں کس برتے میں بے یارو مدد گار چھوڑا گیا ہے انہیں بھی بہتر مستقبل چاہیے۔ وہ اناسی برس سے تپتے صحرا میں بھٹک رہے ہیں مگر ان کے پاؤں کے چھالوں پر کسی نے بھی مرہم رکھنے کی کوشش نہیں کی۔
اس سیاست نے عوام کے ساتھ ہمیشہ دھوکا کیا انہیں بیوقوف بنایا طالع آزماؤں کے ساتھ ہمقدم ہوئی شاداں و فرحاں خراماں خراماں آگے بڑھتی رہی۔ خو د کو توانا و مضبوط بناتی رہی دولت کے ڈھیر لگا کر محو رقص رہی مگر ان کی خبر کبھی نہ لی جن کو اس نے حسیں خواب دکھائے اس پر ان کے چہرے جگمگا اٹھے ۔ ان پر چھائی خزاں کی زردی بہار رنگ میں بدل گئی مگر جب وقت کے پنچھی نے تھوڑی اڑان بھری تو منظر دل خراش پھر سے ابھر آیا ۔ اب تک وہی انداز سِرک رہا ہے وہی سوچ ہر جگہ ہر مقام پر دائروں کی صورت چکر کاٹ رہی ہے مگر اس نے ابھی تک بدلتی رُتوں کا حال جاننے کی کوشش نہیں کی۔ ان جسموں میں جنم لیتے خیالات کو پڑھنا شروع نہیں کیا ۔جو اکیسویں صدی میں جدیدیت کے رومان میں زندہ رہنے کی خواہش کر رہے ہیں ۔ وہ ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جو تہزیب و شائستگی کے پیراہن میں لپٹے پُر آسائش و آرام معاشروں میں جی رہے ہیں۔ وہاں کی سیاست کونوں کھردروں میں دبک کر نہیں بیٹھتی‘ کسی صحت افزا مقام پر جا کر کسی قسم کا صلاح مشورہ نہیں کرتی وہ اپنے وطن سے دُور گُم ہو کر بھی فیصلے نہیں کرتی مگر ہماری سیاست لُکن میٹی کھیلتی ہے۔ اقتدار کے لئے سر کے بل بھی چلتی ہے الٹے قدموں بھی مڑتی ہے اور اپنے احساسات کو بھی دھواں دھواں کر ڈالتی ہے ۔
اس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ وہ جن کے لئے ہے‘ جن کی وجہ سے ہے‘ وہ اس سے بہت سی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں آٹھ دہائیاں گزر گئیں انہیں امیدوں اور آرزوؤں کو سینے سے لگائے
مگر آج تک ایک بھی پوری نہیں ہو سکی لہذا انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اس پر انحصار نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کرکے دیکھ لیا کہ اس نے مایوس کیا خود تو روشنیوں کے شہر میں گھومتی رہی مگر انہیں تاریکیوں میں دھکیلتی رہی۔ اب ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اسے جب یہ علم ہوا ہے کہ وہ مختلف حصوں میں بٹ رہی ہے تو بے چین ہو گئی ہے ایوانوں کے اندر بھی اور ان کے باہر بھی با آواز بلند کہہ رہی ہے کہ وہ ایسا نہیں ہونے دے گی کیونکہ اس نے‘ بےچاروں پر حکمرانی کی ہے‘ ان کے حصے کواپنی ذات پر صرف کیا ہے ۔ محل بنائے جائیدادیں خرید لیں کاروباروں کی ایک بڑی لڑی پرو ڈالی ‘جسے وہ ختم نہیں ہونے دینا چاہتی مگر وقت تبدیل ہو چکا ہے لہذا لندن میں بیٹھ کر وہ جتنے چاہے سر جوڑے جو لمحات بیت گئے واپس نہیں آئیں گے بھلا کبھی جو پانی پلوں کے نیچے سے بہہ جاتا ہے کبھی مڑ کر بھی آیا ہے ؟ لہذا آس امید کے سہارے جینے والوں کو بھی سُکھ کا سانس لینے دے انہیں مہنگائیوں کے دشت سے باہر آنے دے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرنے والوں کو کہیں تو ٹھہرنے دے ۔
اب جب اسے معلوم ہوا ہے کہ تقسیم اختیارات ہونے جا رہی ہے تو خاصی مضطرب ہو گئی ہے اسے چاہیے کہ وہ حقائق کو تسلیم کر لے۔ اسی میں اس کی اور عوام کی بھلائی ہے ان کےلئے خوشی کا سامان ہے۔ بہرحال ”ڈھول بلوچا موڑ مہاراں“ کیونکہ دھرتی جاگ چکی ہے اس کو اندھیرے میں رکھ کر سلانا ممکن نہیں۔ یہ دھرتی یہ وطن سب کا ہے اس کے وسائل پر ہر کسی کا برابر حق ہے مگر چند خاندانوں نے چند بڑوں نے مل کر‘ متحد ہو کر اس کے ذرائع پیداوار کو اپنی تحویل میں لیے رکھا اسی لئے ہی آج حالات کے بھنور نے کمزوروں کو راحت و فرحت سے محروم کر دیا ہے۔ بس کرو اب خلق خدا کو بھی کھلی فضا میں گہرے سانس لینے کا موقع دو مگر ان کے ذہنوں پر ایک خوف مسلط ہے لالچ سوار ہے جو ان کی سوچ کو آزاد نہیں ہونے دے رہا مگر اب خلیل خاں کے فاختہ اڑانے کے دن گئے کیونکہ بیداری کی لہر نے ڈگمگاتے قدموں کو سہارا دے دیا ہے کہ وہ مایوسی کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں لہذا جو حقیقت ہے وہ واضح ہو گئی ہے کہ یہ سیاست ہمیشہ بھولے بھالے لوگوں کے ساتھ مزاق کرتی رہی ہے ان کے خوابوں کو بکھیرتی رہی ہے مگر انہیں یقین دلاتی رہی کہ وہ ان کی ہر امنگ ہر خواہش کا احترام کرتی ہے ان سے جو بھی کہے گی اس کو پورا کرے گی اور جب ان سے پرے جاتی تو ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہتی کہ اگر اس نے ایسا کر دیا تو وہ غیر اہم ہو جائے گی ان کے زر و جواہر کے ڈھیر آہستہ آہستہ نیچے آتے جائیں گے لہذا اس نے چالاکیوں سے کام لیا فریبوں کو اپنے پہلو میں بٹھا کر حکمرانی کے پنگھوڑے سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ جس کی وجہ سے سہانے خواب دیکھنے والی آنکھ پُر نم رہی اس کے آنسو کبھی خشک نہ ہونے ۔ خوشحالی کی مچان پر عام آدمی نہ بیٹھ سکا اسے ہر طرف خزاں ہی خزاں دکھائی دی۔
افسوس ! اس سیاست کا اب بھی جی نہیں بھرا وہ کسی صورت دوسروں کو سُکھی نہیں دیکھنا چاہتی وہ چاہتی ہے کہ سب اس کے آگے سر جھکائے رہیں اور وہ ان کی بے بسی سے اپنا دل بہلاتی رہے مگر نہیں یہ منظر تبدیل ہو کر رہے گا اسے اب زیادہ دیر موجود نہیں رہنا کہ اس میں دراڑ آچکی ہے وہ اپنا وقار کھو چکی ہے کہ اس نے صرف اقتدار کے لئے آسان راستہ منتخب کیا عیش و نشاط کے کچھ لمحوں کی خاطر اصولوں کو ذہن سے جھٹک دیا ایسی سوچ کی بھلا کیا وقعت ہو سکتی ہے؟ جاگتے لوگ اس کے لئے کیسے تالیاں بجا سکتے ہیں لہذا وہ لاکھ ہمت دکھائے کوشش کرے کہ اسے سراہا جائے سر جھکانے والے اس کو کندھوں پر بٹھائیں اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتی جسے انہوں نے اپنے کندھوں پر بٹھانا ہے وہ ایک نئی طرح کی سیاست ہے جس کی نمود ہو چکی ہے وہ ہر دل میں اتر چکی ہے جس سے امیدوں کا ایک جہاں آباد ہوتا ہوا نظر آرہا ہے لہذا لوگوں کی نگاہیں اس پر جم گئی ہیں کوئی انہیں وہاں سے نہیں ہٹا سکتا کیونکہ آٹھ دہائیوں کے بعد انہوں نے محسوس کیا ہے کہ جو سویر طلوع ہو رہی ہے وہ ان کو گُل وگلزار کی وادی میں پہنچا کر ہی رہے گی !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button