
ایران اور متحدہ عرب امارات کا تعلقات میں بہتری اور نیا باب شروع کرنے پر اتفاق
جنگ اور خلیج فارس کے حالیہ واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی تعمیری بات چیت، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بیان
ایران اور متحدہ عرب امارات نے مشرق وسطیٰ میں جنگ اور خلیج فارس میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد اپنے باہمی تعلقات میں بہتری لانے اور مستقبل کے لیے ایک ’’نیا باب شروع کرنے‘‘ پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ بات بھارت میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے ایک روز بعد کہی۔
ایرانی صدر کے مطابق حالیہ جنگ اور خلیج فارس میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی مرتبہ ایک تعمیری نوعیت کی بات چیت ہوئی، جس میں باہمی تعلقات کو بہتر بنانے اور مستقبل کی طرف دیکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
پزشکیان نے کہا کہ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ماضی کے اختلافات اور حالیہ کشیدگی کے بجائے مستقبل پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور دونوں ممالک مل کر تعلقات کا ایک نیا باب تعمیر کریں گے۔
’’نیا باب شروع کریں گے‘‘
ایرانی صدر نے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ اتفاق ہوا ہے کہ وہ ’’نیا باب شروع کریں گے، مستقبل پر نظر رکھیں گے اور اسے مل کر تعمیر کریں گے۔‘‘
ان کے اس بیان کو ایران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تاریخی طور پر تجارتی اور معاشی روابط موجود رہے ہیں، تاہم علاقائی سلامتی، ایران کے جوہری پروگرام، خلیج فارس کی صورتحال اور خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی کشمکش کے باعث دوطرفہ تعلقات کئی مواقع پر دباؤ کا شکار رہے ہیں۔
حالیہ جنگ نے اس کشیدگی میں مزید اضافہ کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی روابط بھی متاثر ہوئے۔
جنگ کے بعد خلیج میں کشیدگی
فراہم کردہ معلومات کے مطابق فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہوئی۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خلیجی ممالک کو بھی سکیورٹی کے حوالے سے نئے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔
متحدہ عرب امارات بھی اس علاقائی کشیدگی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف سکیورٹی کے خدشات کو بڑھایا بلکہ خطے کے تجارتی، معاشی اور توانائی کے راستوں کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کی۔
ایسے ماحول میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان براہِ راست سیاسی رابطے اور تعمیری مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے تجارتی اور مالیاتی تعاون معطل
حالیہ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے اگست میں ایران کے ساتھ تجارتی اور مالیاتی تعاون معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ اقدام دونوں ممالک کے پہلے سے موجود اقتصادی روابط کے تناظر میں اہم تھا، کیونکہ متحدہ عرب امارات خصوصاً دبئی ایران کے لیے ایک اہم تجارتی اور معاشی راستہ سمجھا جاتا ہے۔
ایران پر امریکی اور دیگر بین الاقوامی پابندیوں کے باعث پہلے ہی اس کی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارتی اور مالیاتی روابط میں رکاوٹ ایرانی معیشت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے لیے بھی ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات خطے کی وسیع تر اقتصادی سرگرمیوں کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔
دبئی ایران کے لیے اہم معاشی راستہ
دبئی میں ایران سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی کمیونٹی آباد ہے اور متحدہ عرب امارات کا یہ شہر ایران کے لیے طویل عرصے سے ایک اہم تجارتی اور معاشی راستہ بھی رہا ہے۔
ایران کی بین الاقوامی تجارت کو امریکی اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں علاقائی تجارتی مراکز کے ساتھ روابط ایرانی کاروباری سرگرمیوں اور درآمد و برآمد کے لیے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
اسی لیے ایران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں کسی بھی قسم کی بہتری کا اثر صرف سیاسی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی روابط اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اگر دونوں ممالک حالیہ کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو دوطرفہ اقتصادی روابط کی بحالی کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں، تاہم اس کے لیے علاقائی سلامتی کی صورتحال اور بین الاقوامی پابندیوں سمیت کئی عوامل اہم ہوں گے۔
مسعود پزشکیان اور شیخ خالد کی ملاقات
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی ملاقات بھارت میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث خطے کے ممالک کو اپنے سفارتی اور سکیورٹی تعلقات پر ازسرنو غور کرنا پڑ رہا ہے۔
پزشکیان کے مطابق ملاقات میں حالیہ کشیدگی کے بعد پہلی مرتبہ ایک تعمیری ماحول میں بات چیت ہوئی اور دونوں فریقوں نے مستقبل میں تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات خطے کی مجموعی سلامتی اور استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
ایران کی معاشی مشکلات
ایران اس وقت امریکی اور دیگر بین الاقوامی پابندیوں کے باعث شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
پابندیوں نے ایرانی معیشت کے مختلف شعبوں، خصوصاً مالیاتی نظام، تجارت اور بین الاقوامی کاروباری روابط کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں علاقائی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط ایران کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں بہتری تہران کے لیے معاشی اعتبار سے بھی اہم ہوسکتی ہے، خصوصاً اس لیے کہ دبئی خطے کے بڑے تجارتی اور مالیاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
تاہم دوطرفہ اقتصادی تعلقات کی مکمل بحالی کا انحصار صرف ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی فیصلوں پر نہیں ہوگا بلکہ بین الاقوامی پابندیوں، علاقائی سکیورٹی اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی صورتحال بھی اس میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ٹرمپ کا ردعمل
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والی ملاقات سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ خلیجی ممالک کے رہنما ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن خلیجی اتحادیوں اور ایران کے درمیان ہونے والے براہِ راست سفارتی رابطوں کو اپنی موجودگی میں ایک الگ علاقائی سفارتی عمل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں، جبکہ خطے میں امریکی اتحادیوں کی سکیورٹی بھی واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
ایسے میں متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ملک کا تہران کے ساتھ براہِ راست رابطہ اور تعلقات میں بہتری کی کوشش خطے میں سفارتی حرکیات کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔
خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان سفارت کاری
ایران اور خلیجی عرب ممالک کے تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران سفارتی رابطوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خطے کے کئی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ علاقائی تنازعات اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے براہِ راست رابطہ اور سفارت کاری ضروری ہے۔
متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان بھی معاشی روابط کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی رابطے موجود رہے ہیں، اگرچہ علاقائی تنازعات نے ان تعلقات کو مختلف ادوار میں متاثر کیا۔
حالیہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ تعمیری مذاکرات کا آغاز اس وسیع تر رجحان کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے جس میں خطے کے ممالک علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے براہِ راست سفارتی راستے تلاش کر رہے ہیں۔
کیا تعلقات واقعی نئے مرحلے میں داخل ہوسکتے ہیں؟
ایرانی صدر کی جانب سے ’’نیا باب‘‘ شروع کرنے کی بات اگر عملی اقدامات میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے کئی ممکنہ اثرات سامنے آسکتے ہیں۔
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں بہتری آسکتی ہے۔ اس کے بعد تجارت اور مالیاتی تعاون کی بحالی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح خلیج فارس میں سکیورٹی اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطہ بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
تاہم حالیہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والے اعتماد کے مسائل، بین الاقوامی پابندیاں اور ایران و امریکہ کے درمیان کشیدگی ایسے عوامل ہیں جو دوطرفہ تعلقات کی رفتار کو متاثر کرسکتے ہیں۔
اس لیے صرف ایک ملاقات یا بیان کی بنیاد پر تعلقات میں مستقل تبدیلی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
خطے کے لیے ممکنہ سفارتی اہمیت
ایران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں بہتری صرف دونوں ممالک کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خلیجی خطے کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
ایران خلیج فارس کا ایک اہم ملک ہے جبکہ متحدہ عرب امارات خطے کی نمایاں معاشی اور تجارتی قوتوں میں شمار ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی سے علاقائی تجارت، توانائی کے راستوں، سرمایہ کاری اور سفارتی ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
اس کے برعکس اگر خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیج فارس کی سکیورٹی، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
مستقبل پر نظر رکھنے کا اعلان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ’’نیا باب‘‘ شروع کرنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید جغرافیائی سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔
حالیہ جنگ، خلیج فارس میں کشیدگی، ایران پر بین الاقوامی دباؤ اور خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صف بندیوں نے خلیجی ممالک کے لیے نئی سفارتی ترجیحات پیدا کی ہیں۔
ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعمیری بات چیت کا دوبارہ آغاز اس وسیع تر تناظر میں ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار آنے والے دنوں میں ہونے والے اقدامات پر ہوگا۔
اگر دونوں ممالک سیاسی رابطوں کو برقرار رکھنے، اقتصادی روابط کی بحالی اور سکیورٹی سے متعلق خدشات کو سفارتی طریقے سے حل کرنے میں پیش رفت کرتے ہیں تو حالیہ کشیدگی کے بعد واقعی تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتے ہیں۔ دوسری صورت میں ’’نئے باب‘‘ کا اعلان محض ایک سفارتی بیان تک محدود رہنے کا خدشہ بھی موجود رہے گا۔



