
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز مکہ پر ہونے والے مبینہ حملے کو ’’بزدلانہ اور گھناؤنا‘‘ عمل قرار دیتے ہوئے اس کی ’’سخت ترین الفاظ میں‘‘ مذمت کی ہے۔ اس حملے کا الزام سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن کے حوثیوں پر عائد کیا ہے۔
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (X) پر لکھا ’’پاکستان کے عوام اس انتہائی قابلِ مذمت حرکت پر رنجیدہ اور پریشان ہیں۔‘‘
حوثیوں نے مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ پر حملے کے سعودی الزام کی تردید کی ہے۔
ادھر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی بدھ کے روز مکہ مکرمہ پر مبینہ حوثی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین اور قابلِ مذمت کارروائی قرار دیا۔
او آئی سی کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا گیا، ’’ او آئی سی کا جنرل سکریٹیریٹ مکہ مکرمہ اور مدینہ کے علاقے کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوششوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی مسلسل کارروائیوں کی بھی مذمت کرتا ہے۔‘‘ تنظیم نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا کیا۔

سعودی عرب نے منگل کو ملک کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی الرٹس جاری کیے تھے، جن میں مقدس شہر مکہ اور ملک کا دوسرا بڑا شہر جدہ بھی شامل تھے۔ گزشتہ ہفتے کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ الرٹس سب سے وسیع پیمانے پر جاری کیے گئے تھے، جبکہ مکہ میں خطرے کا انتباہ اس جنگ کے دوران پہلی بار جاری کیا گیا۔ مکہ مکرمہ میں اسلام کے مقدس ترین مقامات واقع ہیں، جس کے باعث اس پیش رفت نے غیر معمولی توجہ حاصل کی۔
یہ اقدامات ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہونے والے حملوں کے بعد کیے گئے۔ ان حملوں کے بعد سعودی مملکت مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع میں مزید شامل ہو گئی ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی عرب پر کئی بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق پیر کے روز ایک سعودی فضائی اڈے پر کیا گیا حملہ یمن میں ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر ہونے والی فضائی بمباری کے جواب میں تھا۔
یمنی حوثیوں کے گروپ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں سعودی حملوں کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں، جبکہ سعودی حکام کی جانب سے ان دعووں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کشیدگی میں حالیہ اضافے نے خطے میں سلامتی کی صورتحال سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔



