
سیلاب نے نیپال کا انفراسٹرکچر اجاڑ دیا: 1386 اموات، ہزاروں لاپتا، 4.8 ارب ڈالر کی تعمیر نو کا چیلنج
سیلاب نے متعدد افراد کو اپنے اہل خانہ کی آخری رسومات ادا کرنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ انہیں لاشوں کے بغیر ہی آخری رسومات ادا کرنی پڑیں۔
دریاؤں کے بالائی علاقوں میں نقصان کی شدت خاص طور پر نمایاں ہے، جہاں چند ہی منٹوں میں پوری پوری بستیاں غائب ہو گئیں۔ کئی علاقوں میں سڑکیں اور پل تباہ ہونے کے باعث رسائی منقطع ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے امدادی اور ریسکیو ٹیموں کو ضروری سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
نیپالی حکام کے مطابق متاثرہ پانچ اضلاع میں کم از کم ایک ہزار 386 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ 5 ہزار 130 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں 587 غیر ملکی شہری اور تقریباً 900 ایسے کارکن بھی شامل ہیں جو پن بجلی کے سرنگوں اور توانائی کے دیگر منصوبوں میں کام کرتے تھے۔
سیلاب نے متعدد افراد کو اپنے اہل خانہ کی آخری رسومات ادا کرنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ انہیں لاشوں کے بغیر ہی آخری رسومات ادا کرنی پڑیں۔
ضلع راسوا کی اترگایا دیہی میونسپلٹی، جہاں کی سرکاری زمین یا تو سیلاب میں بہہ گئی ہے یا اب رہائش کے لیے غیر محفوظ ہو چکی ہے، کی نائب چیئرپرسن چمیلی گرونگ نے بتایا، ”سیلاب کے بعد اتنی زمین بھی باقی نہیں بچی جہاں جاں بحق ہونے والوں کی آخری رسومات ادا کی جا سکیں۔‘‘
گرونگ نے بتایا کہ مقامی حکام موسم سرما سے قبل بے گھر خاندانوں کو رہائش فراہم کرنے کے لیے نجی زمین لیز پر لینے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
نیپال کے وزیرِ مواصلات بکرَم تِمِلسِینا نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو ان کے اصل گھروں کے قریب دوبارہ آباد کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے قریبی سرکاری یا نجی زمین حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ خاندان کے افراد کی تعداد کے مطابق مالی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ وہ خود کفیل ہونے تک اپنا گزارا کر سکیں۔

نیپال کو بھاری مالی بوجھ کا سامنا
نیپال کو اب ایک بڑے مالی چیلنج کا سامنا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ابتدائی ‘ریپڈ ڈیمیج اینڈ نیڈز اسیسمنٹ‘ میں تعمیر نو کی مجموعی ضرورت تقریباً 723.3 ارب نیپالی روپے، یعنی 4.8 ارب ڈالر، لگائی گئی ہے۔
اس جائزے کے مطابق تقریباً دو تہائی فنڈز توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی اداروں کی بحالی پر خرچ ہوں گے۔
پن بجلی، نیپال کی تقریباً تمام بجلی کی ضروریات پوری کرتی ہے، سیلاب سے ہونے والے نقصان نے یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ نیپال اپنی توانائی کی بحالی کے اخراجات کیسے پورے کرے گا۔
وزیرِ مواصلات تِمِلسِینا نے بتایا، ”ہم اپنے تمام ملکی وسائل کو بروئے کار لانے اور مالی ضرورتوں کے خلا کو پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی مدد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
موسمیاتی انصاف کا مطالبہ
بحالی کے لیے مالی معاونت کے علاوہ نیپال عالمی سطح پر موسمیاتی انصاف کے حوالے سے بھی اپنا مؤقف پیش کر رہا ہے۔
نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ کو 24 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا ہے، جہاں توقع ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے عالمی ذمہ داری پر زور دیں گے۔
عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 0.1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود نیپال موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قدرتی آفات کے حوالے سے انتہائی خطرے سے دوچار ملک ہے۔
کلائمیٹ اینالیٹکس ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹر منجیت ڈھاکال کے مطابق اس تباہی کا پیمانہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے بڑھتے ہوئے اثرات کو نمایاں کرتا ہے اور نیپال کو عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے آواز اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک سمیت دیگر ملکوں کو بھی اس معاملے میں زیادہ ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
مستقبل کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے کی ضرورت
نیپال تعمیر نو کو وسیع تر معاشی بحالی کی حکمت عملی کا حصہ بنانا چاہتا ہے، جس میں تباہ ہونے والی چیزوں کو محض دوبارہ تعمیر کرنے کے بجائے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر زور دیا جائے گا۔ کٹھمنڈو یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر روشِی لامیچھانے نے بتایا، ”قدرتی آفات کے بعد انتظامی امور میں ہمارے سابقہ تجربے کو دیکھتے ہوئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم زندگیوں اور روزگار کی بحالی، اور آفات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے دستیاب فنڈز کو کتنی مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔‘‘



