پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

چین پاکستان میں جدید لا انفورسمنٹ سنٹر کے قیام میں تعاون کرے گا، محسن نقوی سے چینی نائب وزیر پبلک سکیورٹی کی ملاقات

گاو چی کے ساتھ ملاقات میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون، تجربات کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے چین کے نائب وزیر پبلک سکیورٹی گاو چی نے ملاقات کی، جس میں پاک چین دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات اور داخلی سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی روابط بڑھانے، پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرام کو وسعت دینے اور جدید ٹیکنالوجی و آلات کے استعمال سے متعلق تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات کا ایک اہم فیصلہ یہ سامنے آیا کہ چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سنٹر کے قیام میں تعاون کرے گا۔ پاکستانی وزیر داخلہ نے اس مرکز کو پاک چین دوستی اور سکیورٹی تعاون کی ایک اور علامت قرار دیا۔

انسداد دہشت گردی اور منشیات کے خلاف تعاون پر گفتگو

ملاقات کے دوران انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں دونوں ممالک کے مشترکہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان اور چین کے درمیان سکیورٹی تعاون دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم پہلو ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں دہشت گردی، سرحد پار جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور جدید ٹیکنالوجی سے جڑے سکیورٹی خطرات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔

گاو چی کے ساتھ ملاقات میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون، تجربات کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

پاکستان میں جدید لا انفورسمنٹ سنٹر کے قیام پر اتفاق

ملاقات میں چین کی جانب سے پاکستان میں ایک جدید Law Enforcement Center کے قیام میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس مرکز کو پاک چین دوستی کی ایک اور روشن علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید مرکز قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے اور سکیورٹی سے متعلق جدید تقاضوں سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم جاری کردہ معلومات میں اس مرکز کے مقام، تعمیراتی لاگت، تکمیل کی مدت یا اس میں شامل کیے جانے والے مخصوص تکنیکی نظام کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرام کو وسعت دینے پر اتفاق

ملاقات میں پاکستان اور چین کے درمیان پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرام کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اس پروگرام کے تحت دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان تربیتی تجربات اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کے امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں۔

مختلف نوعیت کے جرائم اور سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید تفتیشی طریقوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور بین الاقوامی تجربات سے استفادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

ملاقات میں اس شعبے میں دونوں جانب سے تعاون کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی اور آلات کے استعمال پر زور

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کے دوران سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور آلات کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ چینی اے آئی بیسڈ ٹیکنالوجی اور آلات پاکستان کو مختلف سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دائرہ کار میں بڑھ رہا ہے۔ اس میں ڈیٹا کا تجزیہ، نگرانی، جرائم کے رجحانات کی نشاندہی، معلومات کو مربوط کرنا اور بعض انتظامی امور میں معاونت جیسے شعبے شامل ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی وزیر داخلہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد داخلی سلامتی کے شعبے میں جدید تکنیکی نظام کے استعمال اور چینی تجربات سے استفادہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

محسن نقوی: داخلی سلامتی میں تعاون مزید وسعت دینا چاہتے ہیں

ملاقات کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ داخلی سلامتی سے متعلق تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو سکیورٹی کے موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم قرار دیا اور چینی ٹیکنالوجی و آلات سے استفادے کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی وزیر داخلہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور آلات کا امتزاج اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

چینی نائب وزیر پبلک سکیورٹی نے پاکستان کی قربانیوں کو سراہا

ملاقات کے دوران چین کے نائب وزیر پبلک سکیورٹی گاو چی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور عزم کو سراہا۔

پاکستان نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف مختلف فوجی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں جانی نقصان اٹھایا ہے۔ چینی عہدیدار کی جانب سے پاکستانی کوششوں اور قربانیوں کو سراہنا دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا ہے۔

ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سکیورٹی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان روابط اور تجربات کا تبادلہ جاری رہنا چاہیے۔

انسداد منشیات کے شعبے میں بھی مشترکہ اقدامات

ملاقات میں انسداد منشیات کے شعبے کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔

منشیات کی اسمگلنگ ایک ایسا مسئلہ ہے جو مختلف ممالک اور خطوں کو متاثر کرتا ہے، جبکہ اس کی روک تھام کے لیے سرحدی نگرانی، معلومات کے تبادلے، تفتیشی صلاحیت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان اس شعبے میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کا مقصد بھی مشترکہ طور پر ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔

تاہم ملاقات کے جاری کردہ بیان میں کسی مخصوص انسداد منشیات آپریشن، نئی کارروائی یا الگ معاہدے کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔

پاک چین سکیورٹی تعاون میں ٹیکنالوجی کا نیا پہلو

پاک چین تعلقات میں سکیورٹی تعاون پہلے ہی ایک اہم پہلو رکھتا ہے، تاہم موجودہ ملاقات میں اس تعاون کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو بھی نمایاں اہمیت دی گئی۔

پاکستانی حکام کی جانب سے چینی AI-based ٹیکنالوجی اور جدید آلات سے استفادے کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دونوں ممالک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو روایتی تربیت اور معلومات کے تبادلے سے آگے بڑھا کر تکنیکی شعبوں تک لے جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ مجوزہ لا انفورسمنٹ سنٹر بھی دونوں ممالک کے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مستقبل کے تعاون کے لیے ایک ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔

لا انفورسمنٹ سنٹر ممکنہ طور پر کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

اگرچہ مرکز کے حتمی خدوخال ابھی سامنے نہیں آئے، تاہم جدید لا انفورسمنٹ مراکز عمومی طور پر تربیت، تکنیکی معاونت، معلومات کے تجزیے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے اور جدید سکیورٹی طریقہ کار سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستانی وزیر داخلہ کی جانب سے مرکز کو پاک چین دوستی کی علامت قرار دیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے محض ایک تکنیکی منصوبے کے بجائے دونوں ممالک کے ادارہ جاتی تعاون کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم مرکز کی حقیقی ساخت، اختیارات اور عملی ذمہ داریوں کا تعین اس منصوبے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

تربیت، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی روابط پر مشترکہ توجہ

مجموعی طور پر ملاقات میں تین بڑے شعبے نمایاں رہے: قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت، جدید ٹیکنالوجی و آلات اور انسداد دہشت گردی و انسداد منشیات کے شعبوں میں تعاون۔

پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرام کے ذریعے دونوں ممالک کے اہلکار ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ جدید آلات اور AI-based ٹیکنالوجی کے ذریعے سکیورٹی اداروں کی تکنیکی صلاحیت میں اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح جدید لا انفورسمنٹ سنٹر کا قیام دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کو ایک مستقل ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔

داخلی سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا عندیہ

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

محسن نقوی نے واضح کیا کہ پاکستان داخلی سلامتی سے متعلق تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے، جبکہ چینی نائب وزیر پبلک سکیورٹی نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہا۔

اس ملاقات کے نتیجے میں فوری طور پر کسی مخصوص دفاعی یا سکیورٹی معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم جدید لا انفورسمنٹ سنٹر، پولیس ٹریننگ ایکسچینج، جدید ٹیکنالوجی اور آلات، انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات ایسے شعبے ہیں جن میں پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

پاکستانی وزارت داخلہ اور چینی سکیورٹی حکام کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے روایتی سکیورٹی خطرات کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے جڑے نئے چیلنجز بھی اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان تربیت، تکنیکی تعاون اور ادارہ جاتی روابط میں اضافہ مستقبل کے سکیورٹی تعاون کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button