پاکستاناہم خبریں

کشمیر ایکشن کمیٹی کو افغانستان سے اسلحہ سپلائی کرنے والے نیٹ ورک کا دعویٰ، طلال چوہدری نے اہم تفصیلات بتا دیں

ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار کے باعث مبینہ طور پر اسلحے کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی نسبتاً آسان بنائی گئی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) سے وابستہ افراد کو افغانستان سے مبینہ طور پر غیر قانونی اسلحہ فراہم کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا ہے۔

بدھ 16 ستمبر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ مبینہ نیٹ ورک میں ایک سرکاری ملازم بھی بطور سہولت کار یا کیریئر استعمال ہو رہا تھا، جو اپنے سرکاری عہدے اور شناخت کو اسلحے کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کرتا تھا۔

طلال چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران مبینہ نیٹ ورک سے متعلق فرانزک شواہد، آڈیو ریکارڈنگز اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والی معلومات کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا حصہ ہے۔

آپریشن کیسے شروع ہوا؟

وزیر مملکت کے مطابق کارروائی کا آغاز کشمیر موڑ پر سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد ہوا، جس کے دوران ضیا نامی ایک مبینہ ملزم کو گرفتار کیا گیا۔

طلال چوہدری کے مطابق تفتیش کے دوران ضیا کے مبینہ رابطوں اور اسلحے کی سپلائی کے حوالے سے معلومات سامنے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضیا گزشتہ تقریباً دو برس سے جیک کی قیادت سے وابستہ بعض افراد کے لیے اسلحہ فراہم کرنے کے مبینہ نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ ضیا کے روابط جیک کی اعلیٰ قیادت سے منسلک ایک شخص ماجد تک پہنچتے تھے، جسے انہوں نے سردار امان کا کارِ خاص قرار دیا۔

تاہم ان تمام دعووں کی آزادانہ عدالتی تصدیق یا مقدمات کے حتمی فیصلے اس مرحلے پر سامنے نہیں آئے، اس لیے ان معلومات کو حکومتی مؤقف اور تفتیشی دعووں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

افغانستان سے باڑہ اور پھر کشمیر تک مبینہ سپلائی

طلال چوہدری کے مطابق مبینہ نیٹ ورک میں اسلحہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے حاصل کیا جاتا تھا۔

ان کے بقول افغانستان میں زرشاد نامی ایک ڈیلر سے مبینہ طور پر اسلحہ حاصل کرنے کے بعد اسے خیبر پختونخوا کے علاقے باڑہ تک پہنچایا جاتا، جہاں سے ایک سرکاری ملازم، جس کا نام انہوں نے اکبر بتایا، مبینہ طور پر اسلحہ آزاد کشمیر منتقل کرتا تھا۔

وزیر مملکت کے مطابق اکبر سرکاری ملازمت اور اپنے عہدے سے حاصل ہونے والی سہولت کو استعمال کرتے ہوئے مختلف چیک پوسٹوں سے اسلحے کی ترسیل میں مدد کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار کے باعث مبینہ طور پر اسلحے کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی نسبتاً آسان بنائی گئی۔

مبینہ اسلحہ ڈیل اور ہنڈی کے ذریعے ادائیگی

پریس کانفرنس میں وزیر مملکت نے مبینہ نیٹ ورک میں ہونے والی مالی لین دین کی تفصیلات بھی بیان کیں۔

طلال چوہدری کے مطابق ملزمان کے درمیان ایک کھیپ کے حوالے سے 22 لاکھ روپے کی ڈیل ہوئی، جبکہ اس رقم میں سے ایک حصہ ہنڈی کے ذریعے ادا کیا گیا۔

ان کے مطابق سرکاری ملازم مبینہ طور پر اسلحہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے کے عوض فی چکر ایک سے دو لاکھ روپے وصول کرتا تھا۔

ایک الگ میڈیا رپورٹ میں پریس کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے مبینہ بیان کے حوالے سے ایک مخصوص کھیپ میں پانچ کلاشنکوف، ایک ایم فور رائفل اور چار ہزار گولیوں کا ذکر بھی سامنے آیا، جبکہ ادائیگی کے لیے ہنڈی کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا۔

ان دعوؤں کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی سے ہونا باقی ہے۔

آڈیو ریکارڈنگز اور فرانزک شواہد کا حوالہ

وزیر مملکت نے کہا کہ سکیورٹی اداروں نے کارروائی کے دوران مبینہ نیٹ ورک سے متعلق آڈیو ریکارڈنگز، بیانات اور دیگر فرانزک شواہد حاصل کیے ہیں۔

ان کے مطابق انہی معلومات کی بنیاد پر اسلحے کی مبینہ خریداری، ترسیل، مالی لین دین اور متعلقہ افراد کے باہمی روابط کا سراغ لگایا گیا۔

طلال چوہدری نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار کیے گئے مبینہ ملزمان سے تفتیش کے دوران نیٹ ورک کے مختلف کرداروں اور روابط سے متعلق معلومات سامنے آئیں۔

تاہم فرانزک شواہد کی مکمل نوعیت اور ان کی آزادانہ تصدیق کے بارے میں تفصیلی تکنیکی رپورٹ عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی۔

وزیر مملکت کا دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ پر مؤقف

طلال چوہدری نے پریس کانفرنس میں دہشت گردی کو صرف عسکری کارروائیوں کے ذریعے ختم کرنے کے بجائے اس کے مالی اور جرائم پیشہ معاون ڈھانچے کو توڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، اسمگلنگ، منشیات، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے درمیان موجود مبینہ روابط کو ختم کرنا ضروری ہے۔

وزیر مملکت کے مطابق اگر دہشت گرد گروہوں کو مالی وسائل، نقل و حرکت، اسلحے کی فراہمی اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی جائے تو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا ہدف مشکل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے سیاسی اور سرکاری سطح پر مبینہ سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا دعویٰ

طلال چوہدری نے بتایا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق حالیہ کارروائی بھی اسی وسیع تر سکیورٹی آپریشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد دہشت گردی اور جرائم کے مبینہ باہمی نیٹ ورکس کو توڑنا ہے۔

وزیر مملکت نے خاص طور پر افغانستان، خیبر پختونخوا، باڑہ اور آزاد کشمیر کے درمیان مبینہ رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جیک کے مطالبات اور احتجاجی سرگرمیوں کا ذکر

پریس کانفرنس میں طلال چوہدری نے آزاد کشمیر میں جیک کی سیاسی و احتجاجی سرگرمیوں اور اس کے مطالبات کا بھی حوالہ دیا۔

ان کے مطابق جیک کے 38 میں سے 37 مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود کشمیر میں انتخابات کے دوران پرتشدد کارروائیاں کی گئیں اور بعض واقعات میں ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم پیدا ہوا۔

وزیر مملکت نے الزام عائد کیا کہ بعض کارروائیاں بیرونی اشاروں پر ریاست کے خلاف سازش کا حصہ تھیں۔

تاہم یہ دعوے بھی حکومتی مؤقف کے طور پر سامنے آئے ہیں، جبکہ ان کے بارے میں مختلف فریقوں کے مؤقف اور کسی بھی ممکنہ عدالتی فیصلے کو الگ سے دیکھنا ضروری ہوگا۔

جیک کی تشکیل اور پس منظر

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں بنیادی طور پر عوامی مطالبات کے حوالے سے سامنے آنے والی احتجاجی تحریک سے منسلک رہی ہے۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق اس کے مطالبات میں بجلی کے نرخوں، آٹے پر سبسڈی، حکمران طبقے کی مراعات میں کمی اور سیاسی نمائندگی سمیت مختلف معاملات شامل رہے ہیں۔

بعد ازاں آزاد کشمیر حکومت نے 5 جون 2025 کو اس تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جبکہ احتجاجی سرگرمیوں اور پرتشدد جھڑپوں کے پس منظر میں اس کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔

یہ پس منظر موجودہ حکومتی دعووں کو سمجھنے کے لیے اہم ہے، تاہم کسی سیاسی یا احتجاجی تنظیم سے وابستہ تمام افراد کو کسی مبینہ مسلح سرگرمی سے جوڑنے کے لیے ہر فرد کے خلاف الگ شواہد اور قانونی کارروائی ضروری ہوتی ہے۔

سرکاری ملازم کے مبینہ کردار کی تحقیقات

اس معاملے میں خاص توجہ ایک سرکاری ملازم کے مبینہ کردار پر مرکوز ہے۔

وزیر مملکت کے مطابق مذکورہ شخص نے اپنی سرکاری شناخت اور ملازمت کی نوعیت کو مبینہ طور پر اسلحے کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا۔

اگر تحقیقات میں یہ الزام ثابت ہوتا ہے تو معاملہ محض غیر قانونی اسلحے کی ترسیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سرکاری حیثیت کے مبینہ غلط استعمال اور کسی منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کی معاونت کے پہلو بھی قانونی کارروائی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

تاہم اس مرحلے پر الزام اور ثابت شدہ جرم میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے اور حتمی تعین متعلقہ عدالت ہی کرے گی۔

حکومت کا سخت قوانین اور تیز رفتار عدالتوں پر زور

طلال چوہدری نے دہشت گردی اور جرائم کے مبینہ گٹھ جوڑ میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کے لیے سخت قوانین اور سپیڈی ٹرائل کورٹس کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں صرف گرفتاری کافی نہیں بلکہ تفتیش، استغاثہ اور عدالتی کارروائی کو بھی مؤثر بنانا ضروری ہے تاکہ مبینہ سہولت کاروں اور مالی و لاجسٹک نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نتیجہ خیز ہو سکے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا وسیع تر تناظر

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ حکومت کے مطابق ایسے آپریشنز کا مقصد مشتبہ دہشت گردوں، سہولت کاروں، مالی معاونین اور اسلحے کی مبینہ ترسیل کے نیٹ ورکس کا سراغ لگانا ہے۔

حالیہ پریس کانفرنس میں بھی طلال چوہدری نے اسی حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی صرف مسلح افراد کے خلاف آپریشن تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسلحے، مالی وسائل، اسمگلنگ اور دیگر سہولت کاری کے ذرائع کو بھی نشانہ بنایا جانا چاہیے۔

معاملے کے اہم سوالات

اس کارروائی کے بعد کئی اہم سوالات بھی سامنے آتے ہیں جن کا جواب مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے ذریعے سامنے آ سکتا ہے۔ ان میں مبینہ اسلحے کی اصل مقدار، اس کی ترسیل کے مکمل راستے، مالی لین دین کے ذرائع، سرکاری ملازم کا کردار، مبینہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور جیک سے وابستہ افراد کے ساتھ روابط شامل ہیں۔

اسی طرح پیش کیے گئے آڈیو اور فرانزک شواہد کی قانونی حیثیت اور ان کا عدالتی جانچ میں برقرار رہنا بھی اہم ہوگا۔

فی الحال حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات ایک تفتیشی مؤقف کی حیثیت رکھتی ہیں اور مقدمات کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ مبینہ نیٹ ورک میں کون سے افراد کا کیا کردار ثابت ہوتا ہے۔

حکومتی کارروائی کا اگلا مرحلہ

وزیر مملکت کے مطابق سکیورٹی ادارے ملک بھر میں دہشت گردی اور جرائم کے باہمی روابط کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حالیہ کارروائی میں افغانستان سے مبینہ اسلحہ سپلائی، خیبر پختونخوا میں اسلحے کی منتقلی، سرکاری ملازم کے مبینہ استعمال اور آزاد کشمیر تک ترسیل کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایسے نیٹ ورکس کی مالی، اسلحہ جاتی اور انتظامی معاونت ختم کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب ان الزامات سے متعلق حتمی قانونی نتائج تحقیقات اور عدالتوں کے فیصلوں سے سامنے آئیں گے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ کی پریس کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی اور منظم جرائم کے مبینہ باہمی تعلق، سرحد پار اسلحے کی غیر قانونی ترسیل اور داخلی سلامتی کے لیے سہولت کاری کے کردار کو نمایاں کیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی جاری رکھنے اور ان کے مبینہ مالی و لاجسٹک ڈھانچے کو ختم کرنے کو اپنی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button