پاکستاناہم خبریںتازہ ترین

بحیرہ عرب میں بھارتی اور پاکستانی بحری جہازوں کا تصادم، دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر الزام

واقعہ پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں اس وقت پیش آیا جب پاکستان بحریہ SEASPARK-26 کے تحت دو سالہ بحری مشقیں کر رہی تھی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

شمالی بحیرہ عرب میں 15 ستمبر کو بھارتی اور پاکستانی بحریہ کے جہازوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، جبکہ واقعے کی وجوہات کے بارے میں دونوں جانب سے متضاد مؤقف سامنے آیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق واقعہ پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں اس وقت پیش آیا جب پاکستان بحریہ SEASPARK-26 کے تحت دو سالہ بحری مشقیں کر رہی تھی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی بحری جہاز نے پاکستانی بحری جہاز کے انتہائی قریب آ کر خطرناک اور جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کے درمیان رابطہ ہوا۔

دوسری جانب بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی بحری جہاز نے شمالی بحیرہ عرب میں معمول کے نگرانی کے مشن پر موجود بھارتی جنگی جہاز کے قریب غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں پیش قدمی کی، جس کے نتیجے میں تصادم ہوا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اس واقعے پر نئی دہلی میں پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔

پاکستان کا مؤقف

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی بحری جہاز نے پاکستانی بحری جہاز کے قریب خطرناک انداز میں مشقیں اور نقل و حرکت کی۔ اسلام آباد نے بھارتی اقدام کو ’’انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرز عمل سے سمندر میں حادثات کے خطرات اور خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے باضابطہ احتجاج کیا اور بھارت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور دونوں ممالک کے درمیان 1991 کے معاہدے کی متعلقہ شقوں کی پابندی کرے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ناظم الامور بھی بھارتی وزارت خارجہ کے سامنے اسی معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

بھارت کا مؤقف

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی بحری جہاز بھارتی بحری جنگی جہاز کے قریب آیا اور مبینہ طور پر تیز رفتاری سے غیر محفوظ انداز میں نقل و حرکت کی۔ بھارت نے اس طرز عمل کو ’’ناقابل قبول اور غیر پیشہ ورانہ‘‘ قرار دیا۔

بھارتی حکام کے مطابق واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا اور بھارتی جہاز کو کوئی بڑا ساختی نقصان نہیں پہنچا، جس کے بعد وہ اپنا نگرانی کا مشن جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔ بھارتی حکام نے 1991 کے پاک بھارت معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سمندری حدود میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں کے لیے حفاظتی ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔

بھارتی ذرائع نے تصادم میں شامل پاکستانی جہاز کی شناخت پی این ایس حنین (PNS Hunain) کے طور پر کی ہے۔ بعض بھارتی رپورٹس کے مطابق یہ جہاز تصادم کے بعد بندرگاہ واپس چلا گیا، تاہم نقصان کی نوعیت اور شدت کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

1991 کے معاہدے کا حوالہ

دونوں ممالک نے اپنے اپنے مؤقف کی تائید میں 1991 کے پاک بھارت معاہدے کا حوالہ دیا ہے، جس کا مقصد فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور بحری سرگرمیوں کے حوالے سے پیشگی اطلاع اور حفاظتی انتظامات کے ذریعے غلط فہمیوں اور حادثات کے امکانات کو کم کرنا ہے۔

بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی بحری یونٹ کا طرز عمل معاہدے کی متعلقہ شقوں کے منافی تھا، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارتی بحری جہاز کی نقل و حرکت نے اسی معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

واقعے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں

دونوں حکومتیں اس بات پر متفق ہیں کہ 15 ستمبر کو ان کے بحری جہازوں کے درمیان تصادم یا رابطہ ہوا، تاہم حادثے سے قبل جہازوں کی درست پوزیشن، رفتار، سمت، انتباہات اور ایک دوسرے کے قریب آنے کی وجوہات کے بارے میں دونوں کے بیانات مختلف ہیں۔

دستیاب اطلاعات میں واقعے کے بارے میں بھارت اور پاکستان کے سرکاری مؤقف موجود ہیں، تاہم تصادم کی مکمل ترتیب اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے ایسے آزادانہ اور قابلِ تصدیق شواہد درکار ہوں گے جو دونوں فریقوں کے دعووں سے ہٹ کر ہوں۔

واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب دونوں جوہری طاقت رکھنے والے پڑوسی ممالک کے درمیان پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔ بحیرہ عرب میں بحری جہازوں کے اس تصادم کے بعد دونوں دارالحکومتوں میں سفارتی احتجاج سے معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button