
مدثر احمد-ادارت (روئٹرز کے ساتھ)
ویلیکویچ نے تاہم سکیورٹی سے متعلق حساسیت کا حوالہ دیتے ہوئے معاہدے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، لیکن کہا کہ یہ معاہدہ بغیر پائلٹ فضائی نظام (UAS) کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے آرڈر کی مالیت بتانے سے بھی انکار کیا۔
پاکستانی فوج نے بدھ کو بتایا کہ ویلیکویچ کی قیادت میں پاورَس کے ایک وفد نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں دفاعی خریداری، پیداوار اور طویل المدتی صلاحیت بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فوج کے بیان میں ایم او یو کا ذکر نہیں کیا گیا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے معاہدے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

پاورَس نے کیا کہا
پاورَس کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو اینڈریو فاکس نے کہا کہ پاکستان کا نجی دفاعی شعبہ ابھی ترقی کر رہا ہے اور مکمل طور پر تیار نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اس صورت حال میں امریکی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں کام کرنے اور اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔
پاورَس کے شریک بانی بریٹ ویلیکویچ نے کہا کہ کمپنی کا مقصد امریکہ اور پاکستان کی ٹیکنالوجی کو ملا کر ایک مشترکہ شراکت داری قائم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاورَس پاکستان میں ٹیکنالوجی تیار کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کئی برسوں تک کشیدہ رہے ہیں۔ تاہم یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان روابط میں بہتری آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کی تعریف کی ہے، جبکہ اسلام آباد نے بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے اقتصادی، مالیاتی اور دفاعی شعبوں میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔

پاورَس کمپنی کی سرگرمیاں
پاورَس فوجی اور صنعتی استعمال کے لیے فضائی اور بحری ڈرون تیار کرتی ہے۔ کمپنی جلد ہی ایک اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنی ”اوریئس گرین وے ہولڈنگز‘‘ میں ضم ہونے والی ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیٹوں کی حمایت حاصل ہے۔ دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انضمام اکتوبر کے اوائل میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
امریکی ریگولیٹری دستاویزات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ ”امریکن وینچرز‘‘ نامی سرمایہ کاری فنڈ کے ذریعے اوریئس گرین وے ہولڈنگز میں ملکیت کے حصہ دار ہیں۔
ریگولیٹری دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انضمام کے بعد ‘امریکن وینچرز‘ کے پاس مشترکہ کمپنی میں 9.9 فیصد کا ‘بینیفیشیل اوونرشپ اسٹیک ہونے کی توقع ہے۔
پاورَس کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو اینڈریو فاکس نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ کمپنی کی ترقی کا تعلق ٹرمپ کے بیٹوں کی شمولیت سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میرٹ کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں اور ٹرمپ کے بیٹوں کا ”کاروباری معاملات میں کوئی کردار نہیں‘‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ترجمان نے کہا کہ وہ ایک غیر فعال سرمایہ کار ہیں اور کمپنی میں ان کی ملکیت بالواسطہ ہے۔
ترجمان نے کہا، ”صدر ٹرمپ کے بیٹوں کا پاورَس کے انتظام یا آپریشنز سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں اور وہ امریکہ یا بیرون ملک معاہدوں کے حصول میں بالکل کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔‘‘
ترجمان کے مطابق ٹرمپ جونیئر کو اس معاہدے کے بارے میں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی اس کی بات چیت، حصول یا تکمیل میں ان کا کسی بھی نوعیت کا کوئی کردار تھا۔
ایرک ٹرمپ سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہوسکا۔




