
عالمی رہنماؤں کی علالت کا برکس سمٹ سے کوئی تعلق نہیں، بھارت
''جہاں ممکن ہو، صدر نے متعلقہ وزرا سے کہا ہے کہ وہ طے شدہ عوامی مصروفیات میں ان کی نمائندگی کریں۔‘‘
جاوید اختر ، نئی دہلی
جمعرات کو وزارت خارجہ کے حقائق کی جانچ کرنے والے یونٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”جعلی خبر سے خبردار!!! ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی بدنیتی پر مبنی پوسٹس سے خبردار کرتے ہیں۔‘‘
بھارتی وزارت خارجہ کی وضاحت ایسے وقت سامنے آئی جب جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے دفتر نے تصدیق کی کہ برکس اجلاس سے وطن واپسی کے بعد صدر نے اپنی عوامی مصروفیات منسوخ کر دی تھیں اور ڈاکٹروں نے علالت کے باعث انہیں آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
جنوبی افریقی صدر کی طبیعت ناساز
جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا کے دفتر نے بتایا کہ بھارت میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچنے پر انہوں نے اپنی عوامی مصروفیات ملتوی کر دیں۔
بیان کے مطابق 73 سالہ صدر کو طبیعت ناساز ہونے کے باعث ڈاکٹروں نے آرام اور صحت یابی کا مشورہ دیا ہے۔
ایوانِ صدر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا، ”ایوانِ صدر آگاہ کرنا چاہتا ہے کہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث صدر سیرل رامافوسا فی الحال عوامی مصروفیات سے الگ ہیں۔‘‘
بیان کے مطابق ”رامافوسا پیر کو برکس اجلاس سے واپس پہنچے تھے اور اس کے بعد سے ڈاکٹروں کے مشورے پر آرام کر رہے ہیں۔‘‘
بیان میں کہا گیا، ”جہاں ممکن ہو، صدر نے متعلقہ وزرا سے کہا ہے کہ وہ طے شدہ عوامی مصروفیات میں ان کی نمائندگی کریں۔‘‘
دریں اثنا، غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ چینی صدر شی جن پنگ اجلاس کے دوران بے ہوش ہو گئے تھے اور طبی علاج کے لیے اجلاس سے جلد روانہ ہو گئے۔
یہ دعویٰ چائنا ڈیموکریسی پارٹی کے چیئرمین وان جون شئی سے منسوب کیا گیا، تاہم چینی یا بھارتی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ چین میں اس جماعت پر پابندی عائد ہے۔
کئی دیگر غیر مصدقہ رپورٹس میں بھی دعویٰ کیا گیا کہ چینی صدر طبی وجوہات کی بنا پر برکس اجلاس سے قبل از وقت روانہ ہوئے اور خصوصی طیارے کے ذریعے واپس چین چلے گئے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں دیے گئے ڈنر میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔
برکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر 2026 کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا۔



