مشرق وسطیٰتازہ ترین

ریاض میں دھماکوں کی آوازیں، کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دھوئیں کا بڑا بادل

جولائی سے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ پہلا بڑا الرٹ تھا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
رائیٹرز کے ساتھ

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے کے قریب ہفتے کے روز سیاہ دھوئیں کا ایک بڑا بادل دیکھا گیا، جبکہ اس سے قبل رات کے دوران دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دینے اور ممکنہ خطرے کے پیش نظر حکام کی جانب سے الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

روئٹرز کی ویڈیو اور تصاویر میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دکھائی دیے۔ تصاویر میں ایئرپورٹ جانے والی شاہراہ، مرکزی ٹرمینل اور دیگر تنصیبات بھی نظر آ رہی تھیں۔

سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے دھوئیں یا رات کے وقت جاری کیے گئے الرٹس کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

سعودی شہری دفاع نے رات کے وقت موبائل فونز کے ذریعے ریاض اور دارالحکومت کے مشرق میں واقع شہر الخرج کے لیے ممکنہ خطرے کا انتباہ جاری کیا تھا، تاہم ہفتے کی صبح خطرہ ٹل جانے کا اعلان کر دیا گیا۔ ریاض کے علاقے العلیا میں موجود روئٹرز کے صحافی نے الرٹ ختم ہونے سے قبل دھماکوں جیسی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔

اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد رواں سال ریاض میں بعض اوقات انتباہات جاری کیے گئے تھے، لیکن جولائی سے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ پہلا بڑا الرٹ تھا۔

یمن کے ایران نواز حوثی، جو ملک کے بیشتر شمالی اور گنجان آباد علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں، جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سے متعدد حملے کر چکے ہیں۔ ان حملوں میں بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان حملوں نے عالمی تیل کی رسد کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ خلیجی ممالک کی برآمدات کے لیے اہم بحیرہ احمر کا راستہ بھی خطرات سے دوچار ہو گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پہلے ہی بندش کا سامنا کر رہی ہے۔

جمعے کو حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا تھا کہ گروپ نے صنعاء میں بعض ’’مجرمانہ کوششوں‘‘ کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس کا الزام سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں سعودی فضائیہ نے ان کے خلاف سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ اس ماہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے پورے یمنی ساحلی علاقے پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button