
سلامتی کونسل کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، ریاض کے حقِ دفاع کی توثیق
شہریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت، بحیرۂ احمر اور باب المندب میں آزادانہ بحری نقل و حرکت یقینی بنانے پر زور
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کے اپنے دفاع کے فطری حق کی توثیق کی ہے۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
سلامتی کونسل کا یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن میں جاری تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے اور حوثی حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق کو حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب یمن میں لڑائی اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات نے علاقائی سلامتی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
شہری اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت
سلامتی کونسل کے ارکان نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے جاری حملوں کی مذمت کی، جن کے بارے میں سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں شہری علاقوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
8 ستمبر کو ہونے والے ایک بڑے حملوں کے سلسلے کے بارے میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بتایا تھا کہ ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت جنوبی سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات متاثر ہوئیں اور 73 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔سعودی حکام کے مطابق بعض توانائی تنصیبات میں حملوں کے بعد آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے جبکہ سعودی آرامکو سے متعلق بعض تنصیبات متاثر ہوئیں۔ تاہم مختلف واقعات میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سعودی حکام کے بیانات پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق ہر معاملے میں دستیاب نہیں۔
سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق
سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس کے اس فطری حق کی توثیق کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی سرزمین اور شہریوں کا دفاع کرے۔
یہ مؤقف اقوام متحدہ کے چارٹر میں ریاستوں کے حقِ دفاع کے اصول سے متعلق ہے۔ حالیہ بیان میں سلامتی کونسل نے خصوصی طور پر سعودی شہریوں اور شہری تنصیبات کو متاثر کرنے والے حملوں کے تناظر میں ریاض کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل نے حالیہ حملوں میں شہری آبادی اور بنیادی شہری تنصیبات کو لاحق خطرات کو علاقائی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں اہم معاملہ قرار دیا ہے۔
بحیرۂ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی پر بھی تشویش
سلامتی کونسل نے صرف سعودی سرزمین پر ہونے والے حملوں ہی نہیں بلکہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حملوں اور دھمکیوں کی بھی مذمت کی۔
کونسل کے ارکان نے حوثی فورسز پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص اقوام متحدہ کے سمندری قانون سے متعلق کنونشن کے تحت ذمہ داریوں کا احترام کریں اور بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کی آزادی کو یقینی بنائیں۔
بحیرۂ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم بحری راستے ہیں۔ ان علاقوں میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی سے نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ عالمی تجارتی اور توانائی سپلائی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
یمن میں انسانی بحران پر بھی سلامتی کونسل کی تشویش
سلامتی کونسل نے یمن کے اندر بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور یمن کی حکومت کے ساتھ عملی تعاون پر زور دیا۔
یمن پہلے ہی طویل عرصے سے جاری جنگ، سیاسی عدم استحکام اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ حالیہ لڑائی میں اضافے نے شہری آبادی کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق یمن کے مختلف علاقوں میں نئی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے مختلف ذرائع کے اعداد و شمار مختلف ہیں، جس کی وجہ سے حتمی مجموعی تعداد کے تعین میں احتیاط ضروری ہے۔
8 ستمبر کا بڑا حملہ، 73 افراد زخمی
حالیہ کشیدگی میں 8 ستمبر کا حملہ خاص طور پر نمایاں رہا۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے۔
سعودی حکام کے مطابق متاثرہ افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ سعودی وزارت خارجہ نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ مملکت اپنی خودمختاری، قومی اثاثوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق سعودی حکام نے بتایا کہ ان حملوں میں توانائی کی تنصیبات بھی متاثر ہوئیں اور بعض مقامات پر آگ لگنے اور آپریشنل سرگرمیوں میں عارضی رکاوٹ کی اطلاعات سامنے آئیں۔
خمیس مشیط، ابہا اور دیگر علاقوں میں مسلسل حملوں کی اطلاعات
8 ستمبر کے بڑے حملے کے بعد بھی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔
سعودی حکام کے مطابق خمیس مشیط، ابہا اور دیگر علاقوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
15 ستمبر کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے بتایا کہ خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے جبکہ سات رہائشی مکانات اور دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ سعودی حکام نے ان حملوں کو شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیا۔
ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بجائے مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ برقرار ہے۔
سعودی عرب کا سخت ردعمل
سعودی حکومت نے بارہا کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کو برداشت نہیں کرے گی۔
8 ستمبر کے حملوں کے بعد سعودی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ مملکت اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات کا حق رکھتی ہے۔
سعودی حکام نے حوثیوں سے حملے روکنے اور کشیدگی میں کمی لانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
حوثیوں کا مؤقف بھی سامنے آیا
دوسری جانب حوثیوں نے سعودی حملوں کو اپنی کارروائیوں کا جواز قرار دیا ہے اور سعودی عرب کے خلاف اپنے حملوں کو یمن میں سعودی قیادت میں ہونے والی فضائی کارروائیوں کے ردعمل کے طور پر پیش کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے 8 ستمبر کے حملوں کو سعودی کارروائیوں کے جواب کے طور پر بیان کیا تھا۔ یوں موجودہ صورتحال میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کی کارروائیوں کو جواب یا دفاع کے تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر بین الاقوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔
یمن میں جنگ دوبارہ شدت اختیار کر گئی
یمن میں کئی سال سے جاری تنازع کے بعد حالیہ عرصے میں کشیدگی ایک بار پھر نمایاں طور پر بڑھی ہے۔
حوثی فورسز یمن کے بڑے اور گنجان آباد شمالی علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہیں، جبکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو سعودی عرب سمیت متعدد علاقائی قوتوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں مختلف محاذوں پر لڑائی میں شدت آئی ہے۔ بعض علاقوں میں حکومتی افواج اور حوثی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں نئی نقل مکانی اور انسانی امداد کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔
بحیرۂ احمر میں عالمی تجارت کے لیے خطرات
یمن کی جنگ کا ایک اہم پہلو بحیرۂ احمر اور باب المندب سے متعلق ہے۔
باب المندب ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان اہم سمندری رابطے کا حصہ ہے اور اس راستے میں کسی بھی بڑے پیمانے کی عسکری کشیدگی سے تجارتی جہازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل نے اسی وجہ سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف حملوں اور دھمکیوں کو بھی اپنی تشویش میں شامل کیا اور بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کی آزادی برقرار رکھنے پر زور دیا۔
علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر بھی دباؤ دیکھا گیا ہے۔ 8 ستمبر کے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ سعودی توانائی تنصیبات یا اہم بحری راستوں پر مسلسل حملے عالمی سپلائی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
علاقائی کشیدگی کا وسیع تر تناظر
یمن میں موجودہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی متعدد سکیورٹی بحرانوں سے دوچار ہے۔
سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کے ساتھ ساتھ خطے کے مختلف حصوں میں مسلح گروہوں، ریاستی افواج اور علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق حالیہ حوثی حملوں کے ساتھ سعودی عرب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات اور خطے میں دیگر عسکری کشیدگی نے عالمی توانائی سپلائی کے بارے میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔
سلامتی کونسل کا پیغام: شہری تحفظ اور بحری آزادی اہم
سلامتی کونسل کے تازہ مؤقف میں دو پہلو نمایاں ہیں۔ ایک طرف سعودی عرب کے خلاف شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی گئی، جبکہ دوسری طرف بحیرۂ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
اس کے ساتھ یمن کی حکومت کے ساتھ تعاون اور ملک میں انسانی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔
اس طرح اقوام متحدہ کا مؤقف صرف سعودی عرب کی سلامتی تک محدود نہیں بلکہ یمن کے اندر جاری انسانی بحران اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ کو بھی موجودہ صورتحال کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ
حالیہ واقعات کے تسلسل نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ اگر حملے اور جوابی کارروائیاں جاری رہیں تو یمن کا تنازع مزید وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات پر زور دے رہا ہے، جبکہ حوثی اپنی کارروائیوں کو یمن میں جاری فوجی کارروائیوں کے جواب کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
ایسی صورتحال میں سلامتی کونسل کی جانب سے شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی قانون کی پابندی اور بحری جہاز رانی کی آزادی پر زور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یمن کا تنازع اب صرف ایک داخلی جنگ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی تک پھیل رہے ہیں۔
سفارتی کوششوں کا امتحان
تازہ کشیدگی نے یمن میں کسی پائیدار سیاسی حل کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو انسانی بحران، نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
سلامتی کونسل کی جانب سے سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق، حوثی حملوں کی مذمت اور یمن کی انسانی صورتحال پر تشویش کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ فریقین کشیدگی کم کرنے، شہریوں کے تحفظ اور سیاسی عمل کی طرف واپسی کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کا سلسلہ برقرار ہے، جبکہ یمن میں بھی عسکری سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس لیے خطے میں آئندہ پیش رفت کا انحصار فریقین کی عسکری حکمت عملی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر بھی ہوگا۔



