پاکستاناہم خبریں

قلات میں این-25 پر دہشت گردوں کی ناکہ بندی ناکام، 5 ہلاک، 23 مغوی بازیاب

سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی؛ 6 ٹرک، 3 بسیں اور 2 گاڑیاں برآمد، بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد قبضے میں لینے کا دعویٰ

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

قلات/کوئٹہ: پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے قلات کے قریب اہم قومی شاہراہ این-25 پر دہشت گردوں کی جانب سے قائم کی گئی مبینہ ناکہ بندی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پانچ مسلح افراد کو ہلاک اور 23 مغوی افراد کو بازیاب کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائی 18 اور 19 ستمبر 2026 کی درمیانی شب چمن-کراچی این-25 قومی شاہراہ پر کی گئی، جہاں مسلح افراد نے مبینہ طور پر شہریوں کو روکنے، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور گاڑیاں چھیننے کے لیے ایک چیک پوسٹ قائم کی تھی۔

اہم قومی شاہراہ پر مسافروں کو روکنے کی مبینہ کوشش

آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افراد کا مقصد این-25 پر شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں خلل ڈالنا اور شاہراہ سے گزرنے والے افراد اور گاڑیوں کو نشانہ بنانا تھا۔

فوجی بیان کے مطابق مبینہ چیک پوسٹ کے ذریعے لوگوں کو اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور گاڑیاں چھیننے کے لیے روکا جا رہا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے اطلاع ملنے کے بعد فوری کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مسلح افراد کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 5 دہشت گرد ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

پاکستانی فوج نے ہلاک ہونے والے افراد کو ’فتنۃ الہندوستان‘ سے منسلک قرار دیا ہے اور اپنے بیان میں انہیں بھارتی سرپرستی میں سرگرم پراکسی قرار دیا۔ یہ نسبت پاکستانی فوج اور حکومت کا مؤقف ہے؛ بھارت ماضی میں پاکستان کی جانب سے عسکریت پسند گروہوں کی پشت پناہی کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

23 مغوی افراد دہشت گردوں کے ٹھکانے سے بازیاب

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کے ٹھکانے پر کارروائی کے دوران 23 مغوی افراد کو بحفاظت بازیاب کرایا۔ فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کو مبینہ طور پر اغوا اور بھتہ خوری کے لیے قائم کیے گئے نیٹ ورک کے ذریعے یرغمال بنایا گیا تھا۔

23 افراد کی بازیابی اس کارروائی کو محض انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے بجائے شہریوں اور شاہراہ پر مسافروں کے تحفظ سے متعلق کارروائی بھی بناتی ہے۔

11 گاڑیاں دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد

سکیورٹی فورسز کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے سے مجموعی طور پر 11 گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔

برآمد ہونے والی گاڑیوں میں:

  • 6 ٹرک
  • 3 بسیں
  • 2 گاڑیاں

شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق گاڑیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی قبضے میں لیا گیا۔

اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ

فوجی بیان کے مطابق کارروائی کے بعد مسلح افراد کے ٹھکانے سے بڑی مقدار میں ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔

تاہم آئی ایس پی آر نے دستیاب بیان میں برآمد ہونے والے ہتھیاروں یا دھماکا خیز مواد کی مکمل فہرست یا مقدار نہیں بتائی۔ اس لیے ان اشیا کی نوعیت اور ممکنہ استعمال کے بارے میں حتمی تفصیلات مزید تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکیں گی۔

این-25: بلوچستان کا اہم زمینی رابطہ

قلات کے قریب ہونے والی کارروائی کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ این-25 بلوچستان کے اہم قومی زمینی راستوں میں شامل ہے۔

چمن سے کراچی تک پھیلی یہ شاہراہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کو آپس میں ملانے کے ساتھ ملک کے بڑے تجارتی اور شہری مراکز سے رابطے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس نوعیت کی شاہراہ پر مسلح افراد کی جانب سے مبینہ ناکہ بندی مسافروں، مال بردار ٹرکوں، بسوں اور مقامی آبادی کے لیے سکیورٹی کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی اثرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔

شہری آمدورفت میں خلل ڈالنے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کی جانب سے شاہراہ پر عوامی آمدورفت میں خلل ڈالنے کی کوشش ناکام بنا دی۔

فوجی بیان کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں مبینہ چیک پوسٹ ختم کردی گئی، مغوی افراد بازیاب ہوئے اور دہشت گردوں کے قبضے میں موجود گاڑیاں بھی برآمد کرلی گئیں۔

قلات آپریشن بلوچستان میں جاری سکیورٹی کارروائیوں کے تناظر میں

قلات میں یہ کارروائی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے دوران سامنے آئی ہے۔

تازہ رپورٹنگ کے مطابق صوبے کے پنجگور اور چاغی اضلاع میں بھی سکیورٹی کارروائیوں میں مسلح افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پاکستانی حکام ان کارروائیوں کو بلوچستان میں عسکریت پسند سرگرمیوں کے خلاف وسیع تر سکیورٹی مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

کلیئرنس آپریشن اب بھی جاری

آئی ایس پی آر کے مطابق پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت اور مبینہ ٹھکانے کو کلیئر کرنے کے باوجود گردونواح میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

فوجی بیان کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد علاقے میں موجود ممکنہ دیگر مسلح افراد کا سراغ لگانا، ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرنا اور مقامی آبادی سمیت اہم قومی شاہراہوں کی سکیورٹی یقینی بنانا ہے۔

یہ کارروائی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ سکیورٹی فورسز کسی ایک مقام پر آپریشن مکمل کرنے کے بعد اردگرد کے علاقے کو بھی کلیئر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ مسلح افراد دوبارہ اسی علاقے میں منظم نہ ہوسکیں۔

’عزمِ استحکام‘ کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت جاری رہیں گی۔

فوج کے مطابق یہ وژن قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

’غیر ملکی سرپرستی‘ کے الزام کا فوجی مؤقف

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں غیر ملکی سرپرستی یا حمایت سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔

پاکستانی حکام بلوچستان میں ہونے والی بعض عسکریت پسند کارروائیوں کے لیے بیرونی حمایت، خصوصاً بھارتی حمایت، کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایسے الزامات کی آزادانہ تصدیق ہر واقعے میں الگ سے ضروری ہوتی ہے، جبکہ بھارتی حکام ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

بلوچستان میں شاہراہوں کا تحفظ کیوں اہم ہے؟

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے مختلف اضلاع کے درمیان زمینی رابطوں میں قومی شاہراہیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

این-25 جیسی شاہراہ پر مسافروں یا تجارتی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش نہ صرف براہِ راست متاثرہ افراد کے لیے خطرہ بن سکتی ہے بلکہ سامان کی ترسیل، بین الاضلاعی سفر اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

اسی وجہ سے قلات کے قریب کارروائی میں 23 مغویوں کی بازیابی اور 11 گاڑیوں کی برآمدگی کے ساتھ شاہراہ کو محفوظ بنانے کا پہلو بھی نمایاں ہے۔

بین الاقوامی تناظر میں بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال

بلوچستان طویل عرصے سے علیحدگی پسند عسکریت پسندی، فرقہ وارانہ تشدد اور دیگر سکیورٹی چیلنجز سے متاثر رہا ہے۔ صوبے میں بعض مسلح گروہ پاکستانی ریاست کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں اور ماضی میں سکیورٹی اہلکاروں، سرکاری تنصیبات، غیر ملکی شہریوں اور عام مسافروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا مقصد ریاستی رٹ، شہریوں کے تحفظ اور اہم مواصلاتی و تجارتی راستوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کی صورتحال کے سیاسی، سماجی اور معاشی عوامل پر بھی مختلف حلقے توجہ دلاتے رہے ہیں، جس سے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سیاسی اور انتظامی پہلو بھی بحث کا حصہ بنتے ہیں۔

حکومت اور سکیورٹی اداروں کا انسدادِ دہشت گردی عزم

قلات کارروائی کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی اداروں نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ قومی شاہراہوں، شہریوں اور اہم مواصلاتی راستوں کو مسلح گروہوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے اور باقی ماندہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کلیئرنس آپریشنز بھی جاری رہیں گے۔

مجموعی صورتحال

قلات کے قریب این-25 پر ہونے والی کارروائی میں پاکستانی فوج کے مطابق پانچ دہشت گرد ہلاک، 23 مغوی بازیاب اور 11 گاڑیاں برآمد ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے شاہراہ پر مبینہ طور پر ایک غیر قانونی چیک پوسٹ قائم کر کے شہریوں کو اغوا کرنے، بھتہ وصول کرنے اور گاڑیاں چھیننے کی کوشش کی تھی۔

آپریشن کے بعد بھی گردونواح میں کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں۔ پاکستان میں بلوچستان کے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں این-25 جیسے اہم زمینی راستوں کا تحفظ نہ صرف شہری سلامتی بلکہ ملک کے اندرونی رابطوں اور تجارتی نقل و حرکت کے لیے بھی اہم ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’عزمِ استحکام‘ کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button