
احسان احمد-ادارت
کراچی: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ تک پہنچ گئے ہیں، جہاں بعض پاکستانی سرمایہ کار اپنی جائیدادیں فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم کا کچھ حصہ پاکستان منتقل کر رہے ہیں اور کراچی کے مہنگے ترین رہائشی علاقوں، خصوصاً ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے)، میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کے مطابق یہ رجحان ابھی وسیع پیمانے پر سرمایہ کے انخلا کے مترادف نہیں، تاہم بعض دولت مند پاکستانیوں کی جانب سے اپنے رئیل اسٹیٹ پورٹ فولیو میں ردوبدل اور اثاثوں کو مختلف جغرافیائی مقامات پر منتقل کرنے کے آثار ضرور سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں جنگ کے بعد لین دین کی رفتار نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ ValuStrat کے مطابق مئی 2026 میں دبئی میں ریڈی پراپرٹی کے لین دین کی تعداد سالانہ بنیاد پر 55 فیصد کم رہی، جبکہ مجموعی رہائشی مارکیٹ میں قیمتوں کی ماہانہ کمی اگرچہ پہلے کے مقابلے میں محدود ہوئی، لیکن لین دین کی سرگرمی میں نمایاں کمی برقرار رہی۔
دبئی کی محفوظ پناہ گاہ کی ساکھ کو دھچکا
دبئی گزشتہ کئی برسوں سے عالمی سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور دولت مند افراد کے لیے نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری مرکز تصور کیا جاتا رہا ہے۔ ٹیکس فری ماحول، سیاسی استحکام، عالمی کاروباری روابط اور خطے میں سابقہ بحرانوں کے دوران نسبتاً محفوظ حیثیت نے دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کو عالمی سرمایہ کا مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اور خلیجی ریاستوں پر حملوں کے بعد سرمایہ کاروں کے ایک حصے میں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ آیا دبئی مستقبل میں بھی علاقائی بحرانوں سے اسی طرح محفوظ رہ سکے گا۔
رائٹرز کے مطابق مارچ کے پہلے 12 دنوں میں متحدہ عرب امارات میں رئیل اسٹیٹ لین دین کا حجم سالانہ بنیاد پر 37 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر تقریباً 49 فیصد کم ہوا تھا، جبکہ بعض جائیدادوں کی قیمتوں میں 12 سے 15 فیصد تک کمی کی پیشکشیں بھی سامنے آئیں۔
گولڈمین سیکس کے اعداد و شمار نے بھی سست روی کی نشاندہی کی
دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں آنے والی تبدیلی کا اندازہ گولڈمین سیکس کے تجزیے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
تجزیاتی ادارے کے مطابق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں متحدہ عرب امارات میں پراپرٹی لین دین کی سرگرمی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ مارچ کے پہلے 12 دنوں کے دوران لین دین میں سالانہ بنیاد پر 37 فیصد کمی اور ماہانہ بنیاد پر تقریباً نصف کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس صورتحال نے دبئی کے پراپرٹی سیکٹر میں خریداروں کی سودے بازی کی طاقت بڑھا دی اور بعض فروخت کنندگان کو اپنی مطلوبہ قیمتوں میں کمی کرنا پڑی۔
مئی میں دبئی پراپرٹی سیلز مزید کم
ValuStrat کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں دبئی کے ریڈی ہومز کے لین دین میں سالانہ بنیاد پر 55 فیصد کمی ہوئی۔
مجموعی مارکیٹ میں آف پلان پراپرٹی کی رجسٹریشن بھی اپریل کے مقابلے میں 29.3 فیصد کم ہوئی، جبکہ ریڈی پراپرٹی کے لین دین میں ماہانہ بنیاد پر 18.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
تاہم مارکیٹ میں قیمتوں کی صورتحال لین دین کے حجم سے کچھ مختلف رہی۔ ValuStrat کے مطابق مئی میں دبئی کے رہائشی پراپرٹی انڈیکس میں ماہانہ 1.2 فیصد کمی ہوئی، جبکہ سالانہ بنیاد پر مارکیٹ اب بھی مثبت رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں سرگرمی کم ہوئی ہے لیکن اسے مکمل طور پر قیمتوں کے انہدام سے تعبیر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
بعض پاکستانی سرمایہ کار کراچی کا رخ کرنے لگے
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان کے چیئرمین محمد حسن بخشی کے مطابق بعض پاکستانی سرمایہ کار دبئی میں موجود جائیدادیں فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم پاکستان منتقل کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق کراچی، بالخصوص ڈی ایچ اے کے اعلیٰ درجے کے رہائشی اور ترقیاتی منصوبے ایسے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں جو خطے کی موجودہ صورتحال میں اپنے اثاثوں کی جغرافیائی تقسیم تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
بخشی کے مطابق بعض سرمایہ کار دبئی میں اپنی موجودہ پوزیشن کم کرکے پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
’یہ دبئی سے مکمل سرمایہ کاری واپسی نہیں‘
دبئی میں مقیم ایک پاکستانی خاتون سرمایہ کار، جو دولت مند صارفین کو سرمایہ کاری سے متعلق مشاورت فراہم کرتی ہیں، نے بھی ایسے معاملات کا مشاہدہ کرنے کی بات کی ہے۔
تاہم ان کے مطابق اس رجحان کو دبئی سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کے اخراج کے بجائے پورٹ فولیو ری بیلنسنگ قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی سرمایہ کار کے پاس اگر پہلے دبئی میں 10 ولاز تھے تو ممکن ہے وہ ان میں سے تین یا چار فروخت کرکے باقی چھ یا سات برقرار رکھے اور فروخت شدہ اثاثوں کی رقم کسی دوسرے ملک یا مارکیٹ میں منتقل کرے۔
اس طرح کی حکمت عملی کا مقصد لازماً دبئی کی مارکیٹ سے مکمل طور پر نکلنا نہیں بلکہ سرمایہ کاری کو مختلف اثاثوں اور مقامات میں تقسیم کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
کراچی کے ڈی ایچ اے میں مہنگی جائیدادوں کی طلب میں اضافہ
پاکستان میں اس ممکنہ سرمایہ کاری کا ایک اہم مرکز کراچی کا ڈی ایچ اے بن رہا ہے۔
محمد حسن بخشی کے مطابق بعض مہنگے رہائشی علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ڈی ایچ اے میں ایسا پلاٹ جو فروری سے قبل تقریباً 400 ملین روپے میں دستیاب تھا، اب بعض معاملات میں 600 ملین روپے تک پہنچ گیا ہے۔
تاہم اس قیمت میں اضافے کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے کے لیے مکمل اور قابل اعتماد لین دین کا ڈیٹا دستیاب نہیں، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ قیمتوں میں اضافے کا کتنا حصہ بیرون ملک سے واپس آنے والی سرمایہ کاری سے منسلک ہے۔
پراپرٹی قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات
کراچی کے مہنگے علاقوں میں قیمتوں میں اضافے کو صرف دبئی سے واپس آنے والے سرمایہ سے جوڑنا بھی محتاط تجزیے کا متقاضی ہے۔
مقامی طلب، محدود دستیاب پلاٹس، تعمیراتی لاگت، روپے کی قدر، شہری زمین کی قیمتوں، سرمایہ کاروں کے رویے اور ملکی معاشی حالات سمیت کئی عوامل پراپرٹی مارکیٹ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
اسی لیے ماہرین کے مطابق دبئی سے پاکستان آنے والی رقم کو کراچی کی جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافے کا واحد سبب قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ، مگر اصل نوعیت واضح نہیں
پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اگست 2026 میں پاکستان کو 3.656 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں 16.5 فیصد زیادہ تھیں۔ جولائی اور اگست 2026 کے دوران مجموعی ترسیلات تقریباً 7.3 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 14.7 فیصد زیادہ ہیں۔
تاہم ان سرکاری اعداد و شمار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کتنی رقم معمول کی گھریلو ترسیلات ہے اور کتنی رقم بیرون ملک موجود اثاثے فروخت کرکے پاکستان منتقل کی گئی۔
متحدہ عرب امارات سے ترسیلات بھی بڑھ گئیں
اگست 2026 میں متحدہ عرب امارات سے پاکستان آنے والی ترسیلات تقریباً 749.8 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یہ رقم تقریباً 642.9 ملین ڈالر تھی۔
جولائی 2026 میں بھی متحدہ عرب امارات سے 737.3 ملین ڈالر پاکستان آئے تھے۔
یعنی جنگی صورتحال کے باوجود یو اے ای سے آنے والی ترسیلات میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی براہ راست تصدیق نہیں کرتے کہ پاکستانی سرمایہ کار بڑی تعداد میں دبئی کی جائیدادیں فروخت کرکے پاکستان رقم لا رہے ہیں، تاہم یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ یو اے ای سے پاکستان آنے والے مالی بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین: ترسیلات زر کو سرمایہ کاری کی واپسی نہ سمجھا جائے
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر سلطان پراچہ کے مطابق جنگی صورتحال نے پاکستان آنے والی رقوم میں اضافے میں ممکنہ طور پر کردار ادا کیا ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی ترسیلات زر کو بیرون ملک سرمایہ کاری کی واپسی کا براہ راست ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کے مطابق یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی رقم میں معمول کی خاندانی ترسیلات کتنی ہیں اور سرمایہ کاری یا اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کتنی۔
یہ امتیاز اس لیے بھی اہم ہے کہ ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتے، زرمبادلہ کی دستیابی اور گھریلو آمدنی کے لیے ایک بنیادی ذریعہ ہیں۔
جے ایس گلوبل: ترسیلات زر کا اضافہ وسیع البنیاد
جے ایس گلوبل کیپیٹل کے ریسرچ سربراہ محمد وقاص غنی کے مطابق پاکستان میں ترسیلات زر میں اضافہ کسی ایک ذریعے یا واقعے تک محدود نہیں بلکہ یہ وسیع البنیاد رجحان ہے۔
ان کے مطابق خلیجی خطے کی صورتحال کی وجہ سے کچھ مالی منتقلیاں احتیاطی بنیادوں پر ہو سکتی ہیں، تاہم مجموعی طور پر پاکستان کی ترسیلات زر کے اعداد و شمار مستحکم ہیں۔
یہ تجزیہ اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ موجودہ اضافہ صرف دبئی کی پراپرٹی فروخت سے حاصل ہونے والے سرمائے کی وجہ سے نہیں بلکہ بیرون ملک پاکستانیوں کے عمومی مالی بہاؤ، رسمی بینکاری ذرائع کے بڑھتے استعمال اور دیگر عوامل کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔
دبئی کی مارکیٹ مکمل طور پر بحران کا شکار نہیں
دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں سست روی کے باوجود تمام طبقات میں یکساں صورتحال نہیں۔
ValuStrat کے مطابق مئی میں شہر کی رہائشی پراپرٹی کی مجموعی قیمتیں سالانہ بنیاد پر اب بھی مثبت رہیں، جبکہ 30 ملین درہم سے زیادہ مالیت کی 16 ریڈی پراپرٹی ڈیلز بھی ہوئیں۔
جون میں ریڈی ہومز کے لین دین میں ماہانہ بنیاد پر 46.8 فیصد اضافہ بھی رپورٹ ہوا، جبکہ ValuStrat کے مطابق جون میں رہائشی قیمتوں میں ماہانہ کمی ایک فیصد تک محدود رہی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے اثرات کے باوجود دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ مارکیٹ میں خریداروں، فروخت کنندگان اور سرمایہ کاروں کا رویہ زیادہ محتاط ہوا ہے۔
جنگ نے سرمایہ کاروں کے خطرات کے تصور کو تبدیل کیا
دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کے موجودہ رجحان کا ایک اہم پہلو سرمایہ کاروں کے رسک پرسیپشن میں تبدیلی ہے۔
گزشتہ برسوں میں دبئی کو ایسے عالمی سرمایہ کاروں نے بھی ترجیح دی جو مشرق وسطیٰ کے سیاسی بحرانوں سے نسبتاً دور رہتے ہوئے اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔
لیکن اگر خلیجی ریاستیں براہ راست علاقائی جنگ کے اثرات سے دوچار ہوں تو سرمایہ کار اپنے اثاثوں کی جغرافیائی تقسیم پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض پاکستانی سرمایہ کار دبئی میں اپنی پراپرٹی ہولڈنگ کم کرکے پاکستان میں موجود اثاثوں میں اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
کراچی کے لیے نیا سرمایہ کاری موقع یا عارضی رجحان؟
کراچی کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے یہ صورتحال ایک ممکنہ نئے سرمایہ کاری رجحان کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن اس کی پائیداری کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا۔
اگر خلیجی خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو سرمایہ کار اپنے پورٹ فولیو میں مزید تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ تاہم جنگی صورتحال میں بہتری، دبئی میں مارکیٹ کے دوبارہ مستحکم ہونے یا عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کی صورت میں سرمایہ کا رخ دوبارہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔
لہٰذا موجودہ رجحان کو مستقل طور پر دبئی سے کراچی منتقل ہونے والی سرمایہ کاری قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔
پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے تناظر میں اہم پیش رفت
اگر بیرون ملک موجود پاکستانی اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم واقعی پاکستان منتقل ہوتی ہے تو اس کے ملکی زرمبادلہ کے نظام پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک بیرونی مالی ضروریات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط رکھنے پر توجہ دے رہا ہے۔
تاہم اس رقم کی نوعیت، حجم اور حتمی استعمال کے بارے میں سرکاری سطح پر تفصیلی اعداد و شمار دستیاب نہ ہونے کے باعث اس کے مجموعی معاشی اثرات کا حتمی اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
سرمایہ کار اب ’محفوظ پناہ گاہ‘ کی نئی تعریف تلاش کر رہے ہیں
موجودہ صورتحال نے صرف دبئی یا کراچی کی پراپرٹی مارکیٹ کو متاثر نہیں کیا بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ اثاثوں اور محفوظ جغرافیائی مقامات کے تصور کو بھی زیر بحث لایا ہے۔
بعض پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے یہ تبدیلی دبئی سے مکمل اخراج کے بجائے اپنے اثاثوں کو مختلف ملکوں، شہروں اور پراپرٹی مارکیٹوں میں تقسیم کرنے کی حکمت عملی بن رہی ہے۔
دبئی اب بھی عالمی سرمایہ کاری کے بڑے مراکز میں شامل ہے، تاہم موجودہ جنگی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ علاقائی بحران کی صورت میں ان کے اثاثے کس حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
مجموعی منظرنامہ
دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں 2026 کے دوران سامنے آنے والی سست روی اور پاکستان میں ترسیلات زر کے بڑھتے ہوئے حجم نے ایک دلچسپ مالی رجحان کو جنم دیا ہے۔ بعض پاکستانی سرمایہ کار دبئی میں اپنی جائیدادوں کا حجم کم کرکے کراچی کے مہنگے علاقوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جبکہ بعض دیگر اب بھی دبئی میں اپنے اثاثے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں لین دین کی سرگرمی جنگ کے بعد نمایاں طور پر کم ہوئی، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ مارکیٹ مکمل طور پر منجمد نہیں ہوئی۔ اسی طرح پاکستان آنے والی ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، مگر سرکاری اعداد و شمار اس اضافے کو دبئی کی جائیدادوں کی فروخت سے براہ راست منسلک نہیں کرتے۔
یوں موجودہ صورتحال کو سرمایہ کاری کے مکمل رخ کی تبدیلی کے بجائے سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی، پورٹ فولیو میں ردوبدل اور علاقائی خطرات کے نئے جائزے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔



