
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد پر مہلک دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ان عسکریت پسند گروہوں اور مبینہ نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ اعتبار، قابلِ تصدیق اور مسلسل کارروائی کرے جنہیں اسلام آباد پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں سے جوڑتا ہے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں، بھرتی اور معاونت کا ڈھانچہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ معاملہ افغان حکام کے ساتھ متعدد مرتبہ اٹھایا جا چکا ہے اور اب کابل کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا چاہیے۔
کوہاٹ حملہ، 23 افراد جاں بحق
کوہاٹ کے اولڈ پولیس لائنز کمپاؤنڈ میں جمعے کی نماز کے دوران ہونے والے حملے میں پاکستانی حکام کے مطابق 23 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 17 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
حکام کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی استعمال کی، جس کے بعد مسلح افراد نے پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ حملے کے بعد پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور سکیورٹی فورسز نے کئی گھنٹوں تک کلیئرنس آپریشن کیا۔
رات بھر جاری رہنے والا کلیئرنس آپریشن
حملے کے بعد پولیس لائنز کے اندر موجود عمارتوں کو ایک ایک کرکے کلیئر کیا گیا۔
پاکستانی حکام کے مطابق آپریشن میں پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شریک ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران حملہ آوروں نے مزاحمت کی، تاہم بالآخر کمپاؤنڈ کو محفوظ بنا لیا گیا۔
دستیاب پاکستانی رپورٹس میں سات سے آٹھ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق آخری حملہ آوروں کو خصوصی کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔
پاکستان کا افغان طالبان سے براہِ راست مطالبہ
حملے کے ایک روز بعد پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کی سرزمین پر موجود عسکریت پسند نیٹ ورکس کو ختم کیا جائے۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ صرف دہشت گرد حملوں کی مذمت کافی نہیں بلکہ ایسے گروہوں کے خلاف عملی اقدامات بھی ضروری ہیں جو مبینہ طور پر افغانستان میں موجود رہ کر پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
پاکستان نے کہا ہے کہ کابل کو دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہیں ختم کرنے، بھرتی اور تربیتی نیٹ ورکس کو توڑنے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔
’پاکستان کے پاس خطرات ختم کرنے کی صلاحیت اور عزم ہے‘
پاکستانی وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کے پاس دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عزم اور صلاحیت دونوں موجود ہیں اور پاکستان اپنے شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات کرے گا۔
اس بیان کو کابل کے لیے ایک واضح سیاسی اور سکیورٹی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار عسکریت پسندی کا معاملہ پہلے ہی شدید کشیدگی کا باعث ہے۔
اسلام آباد کا ٹی ٹی پی پر الزام
پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر عسکریت پسند گروہ افغان سرزمین پر موجود ہیں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔
اسلام آباد کے مطابق ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے سے خیبر پختونخوا اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان سرزمین پر موجود مبینہ عسکریت پسند انفراسٹرکچر صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
کابل الزامات مسترد کرتا رہا ہے
افغان طالبان پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
کابل کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا، جبکہ افغان حکام نے کوہاٹ حملے کی مذمت اور متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے۔
تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ محض مذمت کافی نہیں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اور قابلِ تصدیق کارروائی ہونی چاہیے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا سخت انتباہ
پاکستان کے بیان کے بعد افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی پاکستان کو خبردار کیا کہ اگر اسلام آباد نے افغانستان کے اندر فوجی کارروائی کی تو کابل اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی تصور کرے گا۔
مجاہد نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو بھی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
افغان طالبان ترجمان نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور انٹیلی جنس تعاون کے ذریعے مسائل حل کرے۔
آرٹیکل 51 کا حوالہ کیوں اہم ہے؟
اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 رکن ریاست کے انفرادی یا اجتماعی دفاع کے حق سے متعلق ہے جب کسی رکن ملک کے خلاف مسلح حملہ ہو۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری بیان بازی میں اس شق کا حوالہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں جانب سے معاملے کو محض داخلی سلامتی کے مسئلے کے بجائے خودمختاری اور دفاع کے وسیع تر قانونی تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔
تاہم کسی بھی ممکنہ سرحد پار فوجی کارروائی کی قانونی حیثیت کا انحصار مخصوص حالات، شواہد اور بین الاقوامی قانون کی متعلقہ شرائط پر ہوگا۔
کشیدگی کا مرکز: افغانستان میں مبینہ پناہ گاہیں
اسلام آباد اور کابل کے درمیان بنیادی اختلاف کا مرکز یہی الزام ہے کہ افغانستان میں موجود بعض عسکریت پسند گروہ پاکستان میں حملوں کے لیے وہاں سے کارروائیاں کرتے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے یہ مسئلہ افغان طالبان کے ساتھ متعدد مذاکرات اور رابطوں میں اٹھایا ہے، جبکہ کابل کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی سکیورٹی مسائل کا ذمہ دار افغانستان کو نہیں ٹھہرانا چاہیے۔
یہ اختلاف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مسلسل رکاوٹ بن رہا ہے۔
کوہاٹ حملہ، پاکستان کے لیے سکیورٹی چیلنج
کوہاٹ حملہ اس لیے بھی حساس نوعیت کا ہے کہ اسے پولیس کے ایک انتہائی اہم کمپاؤنڈ میں انجام دیا گیا، جہاں کاؤنٹر ٹیررازم اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔
حملہ آوروں نے ایک ہی کارروائی میں خودکش دھماکے، فائرنگ اور کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش جیسے حربے استعمال کیے، جس کے باعث حملے کی نوعیت ایک مربوط عسکریت پسند کارروائی کی شکل اختیار کر گئی۔
ٹی ٹی پی نے براہِ راست ذمہ داری قبول نہیں کی
حملے کے فوری بعد کسی بڑے گروہ کی جانب سے قابلِ اعتماد اور متفقہ طور پر تسلیم شدہ ذمہ داری سامنے نہیں آئی۔ رائٹرز کے مطابق تحریک طالبان پاکستان نے حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔
بعد کی بعض رپورٹس میں ایک افغان سرزمین سے منسلک گروہ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا، تاہم ایسے دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر اثرات
کوہاٹ حملے کے بعد سامنے آنے والے بیانات سے واضح ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان سکیورٹی اختلاف ایک بار پھر مرکزی مسئلہ بن گیا ہے۔
اسلام آباد ایک طرف افغانستان سے عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہا ہے، جبکہ کابل کسی بھی ممکنہ پاکستانی فوجی کارروائی کو اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دینے کی بات کررہا ہے۔
اس صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ سرحدی سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
خطے کے لیے وسیع تر خطرات
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہتی۔ دونوں ممالک کی طویل سرحد، قبائلی و تجارتی روابط اور سرحدی علاقوں میں موجود عسکریت پسند نیٹ ورکس کے باعث کسی بڑے سکیورٹی بحران کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی بحران گروپ سمیت ماہرین نے بھی حالیہ عرصے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکریت پسند سرگرمی اور باہمی کشیدگی کو علاقائی استحکام کے لیے اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔
مذاکرات یا مزید سکیورٹی کارروائیاں؟
کوہاٹ حملے کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جاتا ہے یا سرحد پار عسکریت پسندی کے الزامات مزید سخت سکیورٹی اقدامات کا باعث بنتے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات اور رابطوں کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوشش کرتا رہا ہے، لیکن اب وہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کسی بھی مبینہ دہشت گرد سرگرمی کو قبول نہیں کرے گا۔ دوسری جانب افغان طالبان پاکستان کو فوجی اقدام سے باز رہنے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
صورتحال کا حساس مرحلہ
کوہاٹ حملے کے بعد دونوں ممالک کے سرکاری بیانات میں استعمال ہونے والی سخت زبان اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک حساس مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔
اب معاملہ صرف ایک دہشت گرد حملے کی مذمت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں سرحد پار عسکریت پسندی، افغان سرزمین کے مبینہ استعمال، قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور ممکنہ سکیورٹی اقدامات جیسے اہم سوالات شامل ہوگئے ہیں۔
آنے والے دنوں میں کابل کی جانب سے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کسی قابلِ تصدیق اقدام اور اسلام آباد کے ردعمل کو دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت کے حوالے سے اہم سمجھا جائے گا۔
طاقتور اخباری سرخی
کوہاٹ حملے کے بعد پاکستان کا کابل کو سخت پیغام، ’افغان سرزمین پر دہشت گرد نیٹ ورکس ختم کریں‘
ذیلی سرخی
23 افراد جاں بحق، 17 پولیس اہلکار شامل؛ اسلام آباد کا کہنا ہے ’صرف مذمت نہیں، قابلِ تصدیق کارروائی ضروری‘، ذبیح اللہ مجاہد کا ممکنہ پاکستانی کارروائی پر جوابی ردعمل کا انتباہ



