
آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کا امریکہ سے شرائط پوری کرنے کا مطالبہ
ایرانی قیادت یہ بھی چاہتی ہے کہ امریکہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے ساتھ
ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ سے اپنی تمام شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تہران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے تمام شرائط پوری کیے جانے کے بعد ہی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
قالیباف نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو مذاکرات پہلے والی صورتحال پر واپس نہیں آئیں گے۔ ان کے بقول ایران کا مؤقف واضح اور ناقابلِ مذاکرات ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا تھا کہ تہران جون میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک معاہدے کی بنیاد پر جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نےجنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی سات شرائط بیان کیں۔
ان میں امریکہ سے ایرانی منجمد اثاثے بحال کرنے، تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں اور بحری جہازوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔
ایرانی قیادت یہ بھی چاہتی ہے کہ امریکہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
تہران کے مطابق یہ مطالبات جون میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق ہیں، جس کا مقصد مستقل معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
رضائی نے کہا کہ مزید مذاکرات شروع ہونے سے پہلے امریکہ کو ان تمام شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ آئندہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر بھی بات متوقع ہے۔



