پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

یہودی شناخت پر خواجہ آصف کا بیان، جمائما گولڈ اسمتھ کا طنزیہ جواب: ’اپنے ہی مؤقف سے اپنا مذاق بنوا لیا‘

عمران خان کی سابق اہلیہ نے کہا ان کی والدہ پروٹسٹنٹ تھیں، والد کی والدہ فرانسیسی کیتھولک؛ خواجہ آصف کی وضاحت، ’کسی فرد یا خاندان کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں تھا‘

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ذرائع کے ساتھ

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کے درمیان یہودی شناخت سے متعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تبادلۂ خیال نے پاکستان کی سیاسی بحث میں ایک نیا موضوع پیدا کردیا ہے۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب خواجہ آصف نے یہودی مذہبی روایت میں شناخت کے مادری نسب سے طے ہونے کے اصول پر ایک پوسٹ کی، جس کے بعد جمائما گولڈ اسمتھ نے اپنے خاندانی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے مؤقف پر طنزیہ ردعمل دیا۔

خواجہ آصف نے کیا کہا؟

خواجہ آصف نے 18 ستمبر کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں یہودی شناخت کے مادری نسب (Matrilineal Descent) کے اصول کا حوالہ دیا۔

انہوں نے لکھا کہ مرکزی یہودی روایت میں اگر کسی شخص کی والدہ یہودی ہو تو والد کے مذہب سے قطع نظر اولاد کو یہودی تصور کیا جاتا ہے۔

وزیر دفاع نے اس اصول کی تاریخی وضاحت کرتے ہوئے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ قدیم دور میں ماں کی نسبت کو حیاتیاتی طور پر زیادہ یقینی سمجھا جاتا تھا، جبکہ پدری نسبت کے تعین کے ذرائع محدود تھے اور اس وقت جدید ڈی این اے ٹیسٹنگ دستیاب نہیں تھی۔

خواجہ آصف کی اصل پوسٹ میں براہِ راست جمائما گولڈ اسمتھ یا ان کے بیٹوں کے نام نہیں لیے گئے، تاہم بعد کی سوشل میڈیا بحث میں اس بیان کو عمران خان کے بیٹوں کی شناخت کے تناظر میں دیکھا گیا۔

جمائما کا براہِ راست جواب

خواجہ آصف کے بیان پر جمائما گولڈ اسمتھ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کا بیان اصولی طور پر درست ہے، لیکن اسی اصول کے مطابق خود انہیں بھی یہودی نہیں سمجھا جاتا۔

جمائما نے بتایا کہ ان کی والدہ چرچ آف انگلینڈ سے وابستہ پروٹسٹنٹ تھیں، اس لیے ان کے بقول یہودی کمیونٹی نے انہیں یہودی تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے اپنے والد کے خاندانی پس منظر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسی اصول کے تحت ان کے والد کو بھی یہودی نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ ان کی والدہ یعنی جمائما کی دادی فرانسیسی کیتھولک تھیں۔

’بیٹوں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں خود ہی اپنا مذاق بنوا لیا‘

جمائما نے اپنے جواب میں اس بحث کو اپنے بیٹوں سے بھی جوڑ دیا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹوں کو نیچا دکھانے یا ان کی شناخت پر سوال اٹھانے کی کوشش میں پاکستان کے وزیر دفاع نے الٹا خود ہی ایسی دلیل پیش کردی جو ان کے اپنے بیان پر لاگو ہوتی ہے۔

جمائما کے مطابق یہی اصول ان کے اپنے خاندانی پس منظر پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے زیر بحث آیا اور پاکستانی سیاسی ماحول میں عمران خان کے خاندان، مذہبی شناخت اور خاندانی نسب سے متعلق پہلے سے جاری بحث کو دوبارہ نمایاں کر گیا۔

خواجہ آصف کی وضاحت بھی سامنے آگئی

جمائما کے جواب کے بعد خواجہ آصف نے ایک اور پوسٹ کے ذریعے اپنے پہلے بیان کی وضاحت کی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے صرف ایک مذہبی اصول بیان کیا تھا اور ان کا مقصد کسی فرد یا خاندان کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں تمام اہلِ کتاب کا احترام ہے اور اسلام انہیں یہی تعلیم دیتا ہے۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر ان کی پہلی پوسٹ سے کسی حلقے میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ کسی مخصوص فرد یا خاندان کے بارے میں ذاتی تبصرہ کر رہے تھے تو یہ ان کا مقصد نہیں تھا۔

یہودی شناخت کا مادری نسب کیا ہے؟

خواجہ آصف کی بحث میں جس اصول کا حوالہ دیا گیا اسے عام طور پر مادری نسب کہا جاتا ہے۔

روایتی یہودی مذہبی قانون کے مطابق یہودی ماں سے پیدا ہونے والے بچے کو یہودی تصور کیا جاتا ہے، خواہ والد کا مذہب کچھ بھی ہو۔

تاہم یہ بھی واضح رہے کہ یہودی دنیا میں مذہبی شناخت کے حوالے سے تمام جدید تحریکوں کے اصول یکساں نہیں۔ روایتی یہودی مذہبی قانون اور بعض جدید یہودی تحریکوں میں شناخت کے معیار کے حوالے سے فرق پایا جاتا ہے۔

اسی لیے ’یہودی شناخت‘ کو صرف ایک تاریخی یا خاندانی نسبت کے بجائے مذہبی روایت، کمیونٹی کی شناخت اور مخصوص مذہبی اصولوں کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔

جمائما کے خاندانی پس منظر کا حوالہ

جمائما گولڈ اسمتھ برطانوی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا نام پاکستان میں خاص طور پر عمران خان سے سابق ازدواجی تعلق کی وجہ سے طویل عرصے سے عوامی اور سیاسی بحث کا حصہ رہا ہے۔

جمائما اور عمران خان کی شادی 1995 میں ہوئی تھی اور دونوں 2004 میں علیحدہ ہوگئے۔ ان کے دو بیٹے ہیں، سلیمان اور قاسم۔

جمائما نے حالیہ بیان میں اپنے والد اور والدہ کے مذہبی پس منظر کا حوالہ دے کر یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ان کے بارے میں یہودی شناخت کا سوال محض خاندانی نسبت کی بنیاد پر طے نہیں کیا جا سکتا۔

سیاسی بحث میں خاندانی پس منظر کا استعمال

عمران خان کی سیاسی زندگی کے دوران جمائما گولڈ اسمتھ کے خاندانی پس منظر کو پاکستان کی سیاسی بحث میں مختلف مواقع پر موضوع بنایا جاتا رہا ہے۔

خاص طور پر سیاسی کشیدگی کے ادوار میں ان کی یہودی خاندانی نسبت کو عمران خان کے خلاف سیاسی بیانیے میں استعمال کیے جانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

حالیہ معاملے میں بھی بحث مذہبی اصول سے شروع ہوئی لیکن چند ہی گھنٹوں میں عمران خان کے بیٹوں اور ان کی والدہ کے خاندانی پس منظر تک پہنچ گئی۔

یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے اس تبادلے کو محض مذہبی اصول پر بحث کے بجائے پاکستان کی وسیع تر سیاسی کشمکش کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

جمائما کے بیٹوں کا معاملہ کیوں زیر بحث آیا؟

خواجہ آصف کی اصل پوسٹ میں براہِ راست جمائما یا ان کے بیٹوں کا نام موجود نہیں تھا، لیکن اس کے بعد سامنے آنے والے ردعمل میں جمائما نے واضح طور پر اپنے بیٹوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹوں کو کسی مخصوص مذہبی شناخت سے جوڑنے کی کوشش درست نہیں اور ان کے خاندانی پس منظر کو بھی مادری نسب کے اصول کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

اس طرح سوشل میڈیا کی یہ بحث مذہبی اصول سے آگے بڑھ کر نسل، مذہبی شناخت، خاندانی پس منظر اور سیاسی مخالفین کے بیانیے تک پہنچ گئی۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

خواجہ آصف اور جمائما کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر دونوں مؤقف کے حق اور مخالفت میں تبصرے سامنے آئے۔

کچھ صارفین نے مادری نسب کے مذہبی اصول کو بحث کا بنیادی موضوع قرار دیا، جبکہ دوسرے صارفین نے سوال اٹھایا کہ مذہبی شناخت کے اصول کو موجودہ سیاسی اختلافات کے تناظر میں کیوں زیر بحث لایا جا رہا ہے۔

جمائما کے حامیوں نے ان کے جواب کو خواجہ آصف کے مؤقف کا براہِ راست جواب قرار دیا، جبکہ وزیر دفاع کے مؤقف کی حمایت کرنے والے صارفین نے ان کی بعد کی وضاحت کو اہم قرار دیا۔

معاملہ ذاتی تنقید یا مذہبی اصول کی وضاحت؟

اس تنازع کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں شخصیات نے معاملے کی نوعیت کو مختلف انداز میں پیش کیا۔

جمائما نے اپنے ردعمل میں اسے اپنے بیٹوں کے خلاف ایک کوشش سے تعبیر کیا، جبکہ خواجہ آصف نے بعد میں واضح کیا کہ ان کی پوسٹ کسی فرد یا خاندان کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھی۔

اس لیے موجودہ دستیاب بیانات کی بنیاد پر دونوں مؤقف کو الگ رکھنا ضروری ہے: جمائما نے اسے اپنے خاندان سے متعلق تناظر میں لیا، جبکہ خواجہ آصف نے کہا کہ ان کا مقصد کسی مخصوص فرد یا خاندان پر تبصرہ کرنا نہیں تھا۔

مذہبی شناخت اور سیاسی گفتگو

پاکستان سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں مذہبی شناخت کے سوالات انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ جب ایسے سوالات سیاسی شخصیات یا ان کے خاندانوں سے جوڑ دیے جائیں تو بحث مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔

حالیہ معاملے میں بھی یہودی مذہبی قانون کے ایک اصول سے شروع ہونے والی گفتگو نے عمران خان کے خاندان، ان کے بیٹوں اور ان کی سابق اہلیہ کے مذہبی و خاندانی پس منظر کو دوبارہ سیاسی گفتگو کا موضوع بنا دیا۔

جمائما کی حالیہ عوامی سرگرمیاں

یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جمائما گولڈ اسمتھ ایک مرتبہ پھر پاکستانی عوامی بحث میں نمایاں ہیں۔

وہ حالیہ عرصے میں اپنے بیٹوں کے حوالے سے بھی پاکستان کے سیاسی معاملات پر اظہارِ خیال کرتی رہی ہیں، خصوصاً عمران خان سے متعلق معاملات میں۔

تاہم حالیہ تبادلۂ خیال کا براہِ راست موضوع یہودی شناخت کا مذہبی اصول اور اس کا جمائما کے اپنے خاندانی پس منظر پر اطلاق تھا۔

معاملہ کہاں پہنچا؟

فی الحال دونوں جانب سے بنیادی مؤقف سامنے آچکا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کی اصل پوسٹ کسی فرد یا خاندان کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھی، جبکہ جمائما نے اپنے جواب میں کہا کہ وزیر دفاع کے بیان کا اطلاق ان کے اپنے خاندانی پس منظر پر بھی ہوتا ہے اور ان کے مطابق ان کے بیٹوں کو نیچا دکھانے کی کوشش الٹا وزیر دفاع کے لیے باعثِ تنقید بن گئی۔

سیاسی بحث کا نیا رخ

خواجہ آصف اور جمائما گولڈ اسمتھ کے درمیان یہ سوشل میڈیا تبادلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں عمران خان اور ان کے خاندان سے متعلق سیاسی بحث بدستور جاری ہے۔

اس معاملے میں ایک مذہبی اصول، خاندانی نسب اور سیاسی اختلاف ایک ہی گفتگو کا حصہ بن گئے ہیں۔ تاہم دونوں جانب کے تازہ بیانات سے یہ واضح ہے کہ خواجہ آصف اپنی پوسٹ کو عمومی مذہبی اصول کی وضاحت قرار دے رہے ہیں، جبکہ جمائما اسے اپنے بیٹوں کے حوالے سے لیے جانے والے مؤقف کے جواب کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

یوں یہ معاملہ فی الحال سوشل میڈیا کی بحث سے آگے بڑھ کر پاکستان میں مذہبی شناخت، سیاسی گفتگو اور شخصیات کے خاندانی پس منظر کے استعمال پر ایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button