یورپتازہ ترین

ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں فوری جنگ بندی کا اعلان، زیلنسکی کا کہنا ہے معاہدے کی اطلاع سوشل میڈیا پوسٹ سے ملی

یوکرین بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر روسی حملے رکنے کی صورت میں روسی ریفائنریز کو نشانہ بنانا بند کرنے کے لیے تیار، زیلنسکی نے جنگ بندی کے ساتھ مؤثر ضمانتوں کا مطالبہ کر دیا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ڈی پی اے کے ساتھ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے اور یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو رہا ہے۔ تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق انہیں اس مبینہ معاہدے کے بارے میں پہلی اطلاع ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ملی، جبکہ روس اور یوکرین کی جانب سے معاہدے کی تفصیلات اور اس پر باضابطہ اتفاق کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں توانائی کے شعبے میں جنگ بندی نافذ کی جا رہی ہے اور دونوں فریق اس پر متفق ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ اس جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ معاہدے میں کن تنصیبات کو شامل کیا گیا ہے، اس کا دورانیہ کیا ہوگا اور اس پر عمل درآمد کی نگرانی کیسے کی جائے گی۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین روسی توانائی کی تنصیبات، بالخصوص تیل صاف کرنے والی ریفائنریز، کو نشانہ بناتا رہا ہے، جبکہ روس کی جانب سے یوکرین کے بجلی کے نظام اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا معاملہ بھی جنگ کے اہم تنازعات میں شامل ہے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے، لیکن یہ اقدام یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر روس یوکرین کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند کرتا ہے تو کیف بھی روسی ریفائنریز کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے پر آمادہ ہے۔ زیلنسکی نے کسی بھی ایسے معاہدے کے لیے مؤثر اور قابلِ اعتماد ضمانتوں کو ضروری قرار دیا ہے۔

ٹرمپ کا اعلان، جنگ بندی فوری نافذ ہونے کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں لکھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں توانائی کے شعبے کی جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہو رہی ہے اور دونوں فریق اس پر متفق ہو گئے ہیں۔

ٹرمپ کے اس بیان نے جنگ بندی کے امکانات کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا، تاہم اعلان کے بعد سب سے اہم سوال یہ سامنے آیا کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان واقعی کوئی باضابطہ معاہدہ طے پایا ہے یا امریکی صدر کسی ممکنہ مفاہمت اور فریقین کی آمادگی کا حوالہ دے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرین کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اگر روس اس نوعیت کی جنگ بندی پر رضامند ہوتا ہے تو یوکرین بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کسی باہمی انتظام کی مخالفت نہیں کر رہا، لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ روس بھی اسی نوعیت کی پابندی قبول کرے۔

دوسری جانب زیلنسکی نے امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ ہی اس مبینہ معاہدے کے بارے میں ان کی پہلی اطلاع تھی۔ ان کے اس بیان سے جنگ بندی کے اعلان کی حیثیت اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے معاہدے کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا، لیکن اس کی شرائط، نگرانی کے طریقہ کار، خلاف ورزی کی صورت میں ممکنہ اقدامات اور مدت کے حوالے سے تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔ جنگ بندی کی عملی کامیابی کا انحصار بھی اسی بات پر ہوگا کہ دونوں فریق اس پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔

زیلنسکی: روس حملے روکے تو یوکرین بھی تیار ہے

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے توانائی کے شعبے میں جنگ بندی سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین روسی ریفائنریز پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے ماسکو کو بھی یوکرین کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند کرنا ہوں گے۔

زیلنسکی کے مطابق توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو روکنے کے لیے یک طرفہ فیصلے کے بجائے دونوں فریقوں کو یکساں ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے کے ساتھ ایسی ضمانتیں موجود ہونی چاہییں جن سے اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے شہری زندگی، بجلی کی فراہمی، صنعتی پیداوار اور بنیادی خدمات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی طرح روس کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے تیل کی پیداوار، ریفائننگ اور ایندھن کی فراہمی کے نظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

توانائی کی تنصیبات پر حملوں میں کمی دونوں ممالک کے شہریوں کو جنگ کے بعض اثرات سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ جنگ بندی کے دائرہ کار اور اس کی نگرانی کے طریقہ کار پر واضح اتفاق ہو۔

زیلنسکی نے کہا کہ یورپ میں جنگ کی بنیادی وجہ روس ہے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر بند کیے جا سکتے ہیں، لیکن ان کے بقول روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یہ یوکرینی صدر کا مؤقف ہے، جبکہ جنگ بندی کے اعلان کی حتمی حیثیت اور روس کی رضامندی کے بارے میں مزید باضابطہ تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔

ٹرمپ کا یوکرین پر روسی ریفائنریز کے خلاف کارروائیاں روکنے کے لیے دباؤ

توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کے اعلان سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے یوکرین پر زور دیا تھا کہ وہ روسی ریفائنریز پر حملے روک دے۔ امریکی صدر نے ہفتے کے روز زیلنسکی کو خبردار کیا کہ انہیں ان حملوں کو سختی سے بند کرنا چاہیے۔

ٹرمپ کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان معاہدے کے کئی مواقع ضائع ہو چکے ہیں اور یوکرینی قیادت کو جنگ ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہییں۔ انہوں نے یوکرینی عوام پر زور دیا کہ وہ نئے انتخابات کے ذریعے اپنی قیادت کے بارے میں فیصلہ کریں۔

ٹرمپ کے ان بیانات نے امریکہ اور یوکرین کے تعلقات میں موجود اختلافات کو نمایاں کیا ہے۔ کیف کا مؤقف ہے کہ روسی حملوں کے دوران یوکرین کو اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے اور روسی فوجی و توانائی سے متعلق اہداف کے خلاف کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی طرف پیش رفت پر زور دیا جا رہا ہے۔

توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو روکنے کا معاملہ اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے کہ جنگ میں فریقین کو کن اقدامات سے گریز کرنا چاہیے اور کیا کسی محدود جنگ بندی سے مکمل امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

تاہم اگر کسی ایک فریق کو اپنی کارروائیاں روکنے کے لیے کہا جائے اور دوسرے فریق کی جانب سے مساوی یقین دہانی نہ ہو تو ایسے انتظام کی پائیداری پر سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیلنسکی نے یک طرفہ پابندی کے بجائے باہمی جنگ بندی اور مؤثر ضمانتوں پر زور دیا ہے۔

زیلنسکی کا انتخابات کے لیے 60 روزہ جنگ بندی کا مطالبہ

امریکی صدر کی جانب سے یوکرین میں نئے انتخابات کی تجویز کے جواب میں زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 60 روزہ مکمل جنگ بندی پر رضامند ہو جائیں تو یوکرین انتخابات کرانے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

زیلنسکی نے امریکی صدر اور دیگر متعلقہ فریقوں سے کہا کہ روس سے دو ماہ کی جنگ بندی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری حالات پیدا ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے رہنما کا انتخاب کرنا یوکرینی عوام کا حق ہے، لیکن اس عمل کے لیے پہلے لڑائی رکنا اور شہریوں کی سلامتی یقینی بنانا ضروری ہے۔

یوکرین کے قانون کے تحت مارشل لا کے دوران سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتخابات منعقد کرنے کی ممانعت ہے۔ جنگ کے حالات میں انتخابی عمل کے انعقاد کے لیے ووٹرز کی حفاظت، انتخابی عملے کی دستیابی، نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی شرکت اور مختلف علاقوں تک رسائی جیسے مسائل بھی اہم ہیں۔

زیلنسکی کے مطابق 60 روزہ مکمل جنگ بندی انتخابات کے انعقاد کے لیے درکار ماحول پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم ان کے بیان کو انتخابات کی فوری تاریخ یا حتمی انتخابی شیڈول کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس کے لیے قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

ٹرمپ کی جانب سے انتخابات پر زور اور زیلنسکی کی جانب سے جنگ بندی کو شرط قرار دینے سے واضح ہوتا ہے کہ یوکرین میں سیاسی قیادت کے مستقبل کا معاملہ بھی جنگ کے خاتمے سے متعلق وسیع تر مذاکرات کا حصہ بن چکا ہے۔

مارشل لا اور انتخابی عمل کے قانونی تقاضے

یوکرین میں روس کے حملے کے بعد سے مارشل لا نافذ ہے۔ موجودہ قانونی صورت حال میں قومی انتخابات کا انعقاد سکیورٹی اور آئینی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔

جنگ کے دوران انتخابات کرانے کے لیے صرف سیاسی اتفاق کافی نہیں ہوگا بلکہ شہریوں کی سلامتی، انتخابی مہم کی آزادی، ووٹنگ مراکز تک رسائی اور تمام اہل ووٹرز کو شرکت کا موقع فراہم کرنے جیسے معاملات پر بھی غور کرنا ہوگا۔

جنگ کے باعث یوکرین کے متعدد شہری اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ بعض علاقے لڑائی یا روسی قبضے کی صورت حال سے متاثر ہیں۔ ایسے حالات میں ملک گیر انتخابی عمل کے لیے انتظامی تیاری اور قانونی وضاحت ضروری ہوگی۔

زیلنسکی کا مؤقف ہے کہ اگر روس 60 روزہ جنگ بندی قبول کرتا ہے تو انتخابات کے انعقاد کے امکان پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اس تجویز کی عملی حیثیت کا انحصار روس کی رضامندی، جنگ بندی کی شرائط اور یوکرین کے قانونی تقاضوں پر ہوگا۔

ایران جنگ، ڈیزل کی قیمتیں اور امریکی سیاست

رپورٹ کے مطابق توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کے اعلان کا ایک پس منظر عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکہ میں اس کے سیاسی اثرات بھی ہیں۔ ایران میں جنگ کے باعث ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک اہم مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکہ میں ایندھن کی قیمتیں عوامی اخراجات اور مہنگائی پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ، سامان کی ترسیل، زراعت اور صنعتی سرگرمیوں کے اخراجات بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات بالآخر صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد ڈیزل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ معاملہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی بوجھ بن سکتا ہے۔ ان انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کے ایک یا دونوں ایوانوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔

تاہم عالمی ایندھن کی قیمتیں متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہیں، جن میں خام تیل کی قیمت، رسد و طلب، جنگی حالات، تجارتی راستے اور توانائی کی پیداوار شامل ہیں۔ اس لیے قیمتوں میں اضافے کو کسی ایک تنازعے یا فیصلے سے منسوب کرنے کے لیے مزید معاشی شواہد درکار ہوتے ہیں۔

روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے پر بھی تنقید

توانائی کے معاملات پر ٹرمپ انتظامیہ کے مؤقف کو یوکرین میں بھی تنقید کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیلنسکی نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے اعلان پر برہمی ظاہر کی تھی۔

یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ ایندھن کی فراہمی سے متعلق ایسے انتظامات ماسکو کی جنگی صلاحیت کو سہارا دے سکتے ہیں اور بالواسطہ طور پر یوکرین پر حملوں کے لیے وسائل فراہم کر سکتے ہیں۔

اس معاہدے پر امریکی قانون سازوں نے بھی تنقید کی، جن میں ٹرمپ کی اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے رکن کانگریس ڈان بیکن بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق روس کے خلاف مزید پابندیوں پر غور کیا جانا چاہیے، نہ کہ پابندیوں میں نرمی یا انہیں ہٹانے کی طرف بڑھا جائے۔

تجزیہ کاروں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے سے ایندھن کی قیمتوں میں طویل مدت تک نمایاں کمی آنے کا امکان محدود ہے، کیونکہ اس معاہدے کے تحت شامل مقدار نسبتاً کم بتائی گئی ہے۔

اس بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین جنگ کے معاملے میں امریکہ کے سامنے دو اہم ترجیحات ہیں: ایک طرف جنگ کو ختم کرنے اور مذاکرات کی طرف بڑھنے کی کوشش، جبکہ دوسری جانب عالمی توانائی کی قیمتوں اور ملکی معاشی دباؤ کو کم کرنا۔ ان ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنا امریکی انتظامیہ کے لیے ایک مشکل سیاسی اور سفارتی چیلنج بن سکتا ہے۔

کیف کے شہریوں میں ٹرمپ کے بیانات پر ناراضی

یوکرین کے دارالحکومت کیف میں متعدد شہریوں نے ٹرمپ کی اس تجویز پر ناراضی کا اظہار کیا کہ یوکرین کو نئی قیادت منتخب کرنی چاہیے جو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہو۔

رپورٹ کے مطابق 40 سالہ پرائمری اسکول ٹیچر سبینا نے کہا کہ کسی کو یوکرینی عوام کو یہ بتانے کا حق نہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنگ کے دوران انتخابات کرانے پر قانونی پابندیاں موجود ہیں۔

انہوں نے ٹرمپ کے ریمارکس کو اتحادیوں کی جانب سے دھوکے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا ردعمل اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ یوکرین کے شہری جنگ کے مستقبل اور اپنے ملک کی سیاسی خودمختاری سے متعلق فیصلوں میں بیرونی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

یوکرین میں جنگ کے باعث انسانی جانوں کا نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور شہری زندگی میں خلل پیدا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں قیادت کے مستقبل اور روس کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق بیانات عوامی جذبات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے انتخابات کا مطالبہ اور یوکرین کے صدر کی جانب سے جنگ بندی کو شرط قرار دینا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس عمل میں یوکرین کی خودمختاری، عوامی رائے اور سکیورٹی کی ضمانتیں مرکزی اہمیت رکھتی ہیں۔

یورپی رہنماؤں سے رابطے اور فضائی دفاع کی ضرورت

زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ یورپی رہنماؤں کے ساتھ رابطے جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی پیکجز پر روزانہ کی بنیاد پر بات چیت ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ضروریات میں ایسے جنگی طیاروں کے لیے گولہ بارود بھی شامل ہے جو روس کے جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرونز کو مار گرانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

یوکرین کے لیے فضائی دفاع جنگ کے اہم ترین پہلوؤں میں شامل ہے، کیونکہ میزائلوں اور ڈرونز کے حملے توانائی کی تنصیبات، شہری علاقوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

فضائی دفاعی نظام، ان کے لیے گولہ بارود اور جدید جنگی سازوسامان کی فراہمی یوکرین کی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے زیلنسکی یورپی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں کو جاری رکھنے اور مزید معاونت حاصل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

دوسری جانب توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کا ممکنہ معاہدہ اگر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے بجلی اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں میں کمی آ سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار دونوں فریقوں کی پابندی، قابلِ اعتماد نگرانی اور خلاف ورزی کی صورت میں ردعمل کے طریقہ کار پر ہوگا۔

کیا توانائی کی جنگ بندی مکمل امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے؟

روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کا اعلان ایک محدود لیکن اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں ممالک واقعی اس پر متفق ہوں اور اس پر عمل درآمد کے لیے واضح شرائط طے کی جائیں۔

توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے سے شہریوں کو بجلی، ایندھن اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ قدم دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے بھی ابتدائی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

تاہم توانائی کے شعبے میں جنگ بندی مکمل جنگ بندی یا امن معاہدے کے مترادف نہیں ہوگی۔ اس کے لیے زمینی لڑائی، سرحدی علاقوں کی صورت حال، زیر قبضہ علاقوں، سکیورٹی ضمانتوں اور دیگر بنیادی تنازعات پر بھی پیش رفت درکار ہوگی۔

ٹرمپ کے اعلان کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ روس اور یوکرین اس مبینہ معاہدے کو کس طرح عملی شکل دیتے ہیں۔ اگر دونوں فریق توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے گریز کرتے ہیں تو اسے مزید وسیع مذاکرات کی طرف ایک قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر معاہدے کی شرائط واضح نہ ہوئیں یا خلاف ورزیوں پر تنازع پیدا ہوا تو اس کی افادیت محدود رہ سکتی ہے۔

اختتامی جائزہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں فوری جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریق اس پر متفق ہو گئے ہیں، لیکن یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق انہیں اس مبینہ معاہدے کی پہلی اطلاع ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ سے ملی۔ یوکرین نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی ریفائنریز پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ماسکو بھی یوکرین کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند کرے اور معاہدے کے لیے مؤثر ضمانتیں فراہم کی جائیں۔

دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے یوکرین میں انتخابات کے مطالبے پر زیلنسکی نے 60 روزہ مکمل جنگ بندی کو بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ اس معاملے پر کیف کے شہریوں میں ناراضی، روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے پر امریکی قانون سازوں کی تنقید اور یوکرین کی جانب سے یورپی ممالک سے اضافی فضائی دفاعی مدد کی کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ کا معاملہ عسکری محاذ سے آگے بڑھ کر سفارتی، اقتصادی اور داخلی سیاسی ترجیحات سے بھی جڑ چکا ہے۔

آنے والے دنوں میں اس پیش رفت کی اصل اہمیت کا تعین اس بات سے ہوگا کہ آیا روس اور یوکرین جنگ بندی کی شرائط کی باضابطہ تصدیق کرتے ہیں، توانائی کی تنصیبات پر حملوں میں واقعی کمی آتی ہے اور یہ محدود انتظام وسیع تر امن مذاکرات کے لیے بنیاد فراہم کر پاتا ہے یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button