
سید عاطف ندیم-ادارت l روئٹرز کے ساتھ
پشاور: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی معطلی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی کابینہ کے بعض ارکان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق یہ اقدام صوبے میں امن و امان کی صورت حال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، جبکہ زیرِ حراست افراد کے خلاف مقدمات کی موجودگی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی اور دیگر افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے پیر کو گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور کابینہ کے بعض ارکان کی تحویل میں لیے جانے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ افراد کو نقصِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر حراست میں لیا گیا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اگر زیرِ حراست افراد میں سے کسی کے خلاف مقدمات موجود ہوئے تو ان پر فردِ جرم عائد کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ جن افراد کے خلاف مقدمات نہیں ہوں گے، انہیں رہا کر دیا جائے گا۔
وزیر مملکت کے اس بیان کے بعد خیبر پختونخوا کی سیاسی صورت حال مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامی ڈھانچے، امن و امان اور وفاقی و صوبائی تعلقات کے حوالے سے مختلف سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری اقدام قرار دے کر مسترد کر چکی ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کو پشاور کے گورنر ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی، جبکہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور صوبے کے دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورت حال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور امن و امان کی بحالی سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔ اجلاس کے تناظر میں وفاقی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن قائم کرنے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون کو مؤثر بنایا جائے گا۔
ایپکس کمیٹی کا اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور وفاقی حکومت نے سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں، محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد عوام کا جو ردعمل سامنے آیا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام امن چاہتے ہیں اور دہشت گردی سے نجات کے خواہاں ہیں۔
محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ لوگ سڑکوں پر نکلیں گے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کیے گئے پیغامات بھی سب کے سامنے ہیں، لیکن عوام نے سڑکوں پر نکلنے کے بجائے امن کو ترجیح دی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے خیبر پختونخوا کے عوام کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے کے شہری امن کے خواہش مند ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہتر حالات چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مؤثر قیادت ضروری ہے
محسن نقوی نے اپنے خطاب میں سابقہ صوبائی حکومت کے کردار پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کرنی چاہیے تھی، وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہی تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے بعض ارکان دہشت گردی کے واقعات میں جانیں قربان کرنے والوں کے جنازوں میں بھی شریک نہیں ہوتے تھے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قیادت کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس معاملے میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب حکومت ان لوگوں کی مؤثر انداز میں قیادت کرے گی جو دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں حالات فوری طور پر مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوں گے، بلکہ اس عمل کے دوران مشکلات اور اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو مل کر مشکلات کا سامنا کرنا اور ان پر قابو پانا ہوگا تاکہ صوبے میں امن و استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔
امن کی بحالی سب کی مشترکہ ترجیح ہے، فیصل کریم کنڈی
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن کی بحالی کے لیے تمام متعلقہ فریق ایک پیج پر ہیں اور دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بہتری کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا، کیونکہ سکیورٹی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مشکلات برداشت کی جا سکتی ہیں، لیکن شہریوں کے تحفظ اور سکیورٹی کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں برتی جا سکتی۔
گورنر خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے میں امن قائم کرنا نہ صرف حکومت بلکہ تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے سکیورٹی اداروں کو درکار وسائل فراہم کرنے اور انتظامی سطح پر تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔
صوبے میں ایمرجنسی کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے امن و امان کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلان بھی کیا گیا۔
صدر مملکت نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر صوبے کی سلامتی کی صورت حال کے حوالے سے ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا باضابطہ حکم نامہ جاری کیا گیا۔
پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 12 اکتوبر بروز پیر تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح ضلعی انتظامیہ سوات کے ترجمان نے بھی بتایا کہ ضلع میں پیر کے روز اسکولوں، کالجوں، ہائیر سیکنڈری اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعطیل ہوگی۔
انتظامی احکامات کے تحت متاثرہ تعلیمی اداروں میں مقررہ تاریخ کے لیے شیڈول امتحانات اور پرچے بھی منسوخ کر دیے گئے۔ ان اقدامات کا مقصد موجودہ صورت حال میں انتظامی نظم و ضبط برقرار رکھنا اور سکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانا بتایا گیا ہے۔
سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج تعینات
وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں فوج کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ جاری کردہ حکم نامے کے مطابق فوج سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی تاکہ امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کی جان و مال اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فوج کی تعیناتی کا بنیادی مقصد صوبے میں سکیورٹی کی صورت حال سے نمٹنے میں سول انتظامیہ کی مدد کرنا ہے۔
اس سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا، جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین کریں گے۔
وفاقی حکومت کے اس اقدام کو صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے انتظامی اور مشاورتی امور کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
اعلان کے مطابق کونسل میں مشیر برائے داخلہ و وفاقی امور کفایت اللہ خان، مشیر برائے قانونی و پارلیمانی امور امیر جاوید اور مشیر برائے اطلاعات و نشریات ثمر ہارون بلور سمیت دیگر شخصیات اور عہدیدار شامل ہیں۔
اس مشاورتی کونسل کے قیام کو صوبے میں انتظامی امور چلانے، متعلقہ معاملات پر مشاورت اور امن و امان سے متعلق حکمت عملی مرتب کرنے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد کونسل کے کردار، انتظامی اختیارات اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا ایمرجنسی کے نفاذ پر ردعمل
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو مسترد کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی جماعت صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسے ایک سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام سمجھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنے آئینی حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو قبول نہیں کریں گے۔ بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے اور اس مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کو کمزور کرکے اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم کی کیفیت پیدا کرکے نہ امن قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی استحکام لایا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں سیاسی اور انتظامی مسائل کا حل آئینی تقاضوں اور جمہوری اصولوں کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔
وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ
خیبر پختونخوا پاکستان تحریک انصاف کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے اور حالیہ اقدامات نے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے قبل بھی سیاسی سرگرمیاں جاری تھیں۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دور میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب متعدد مارچ کیے، جبکہ ان کے بعد وزیراعلیٰ بننے والے سہیل آفریدی نے بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں اس اعلان کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کیا گیا اور 4 اکتوبر سے احتجاجی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان سامنے آیا۔
وفاقی حکومت اس سیاسی سرگرمی پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو اہم مسئلہ قرار دیتی رہی ہے۔ موجودہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے پس منظر میں بھی سکیورٹی صورت حال اور انتظامی معاملات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی ان اقدامات کو سیاسی اور جمہوری حقوق کے تناظر میں دیکھتی ہے اور صوبائی مینڈیٹ کے تحفظ پر زور دے رہی ہے۔
امن و استحکام کے لیے آئندہ اقدامات اہم ہوں گے
خیبر پختونخوا میں موجودہ صورت حال کے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے سکیورٹی اقدامات، فوج کی تعیناتی، مشاورتی کونسل کے قیام اور ایپکس کمیٹی کے اجلاس کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ان اقدامات کے عملی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، شہریوں کے تحفظ اور انتظامی امور میں کس حد تک بہتری آتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ حالات میں بہتری کے لیے وقت درکار ہوگا اور حکومت کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی جانب سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور کابینہ کے بعض ارکان کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ زیرِ حراست افراد کے خلاف قانونی کارروائی کس انداز میں آگے بڑھتی ہے، صوبے میں انتظامی معاملات کیسے چلائے جاتے ہیں اور وفاقی حکومت و پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے کوئی سیاسی راستہ نکلتا ہے یا نہیں۔
موجودہ صورت حال میں صوبے کے عوام کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے، آئینی تقاضوں کی پاسداری اور سیاسی استحکام کو بیک وقت اہمیت حاصل ہے۔ ان تمام معاملات میں پیش رفت ہی خیبر پختونخوا کے مستقبل کے سیاسی اور انتظامی منظرنامے کا تعین کرے گی۔



