
سید عاطف ندیم-ادارت
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے، غیر قانونی نقل مکانی اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور پاکستانی ہنرمند کارکنوں و پیشہ ور افراد کے لیے یورپ میں محفوظ، منظم اور قانونی ہجرت کے مواقع بڑھانے پر زور دیا ہے۔ یورپی یونین کے کمشنر برائے امورِ داخلہ و ہجرت میگنس برونر کے دورۂ پاکستان کے دوران ہونے والی الگ الگ ملاقاتوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، افرادی قوت کی نقل و حرکت، غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، قانونی روزگار کے راستوں میں توسیع اور ادارہ جاتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایسے عملی اور قابلِ اعتماد راستے بھی فراہم کرنا ضروری ہیں جن کے ذریعے پاکستانی شہری قانونی طریقے سے بیرونِ ملک روزگار حاصل کر سکیں۔ ان کے مطابق پاکستانی ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی مواقع میں اضافہ نہ صرف یورپی ممالک کی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس سے انسانی اسمگلنگ اور تارکینِ وطن کے استحصال میں ملوث نیٹ ورکس پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
یورپی یونین کے کمشنر میگنس برونر نے پاکستان کی جانب سے غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور فراہم کردہ تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مشترکہ کوششیں قانونی ہجرت کے راستوں کو وسعت دینے اور دونوں فریقوں کے درمیان باہمی طور پر فائدہ مند لیبر موبلٹی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی محفوظ اور قانونی ہجرت پر توجہ
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز یورپی یونین کے کمشنر برائے امورِ داخلہ و ہجرت میگنس برونر سے ملاقات کی۔ یہ کمشنر برونر کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ وزیراعظم نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور ہجرت و نقل و حرکت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت اجاگر کی۔
ملاقات میں خصوصی طور پر غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ اور تارکینِ وطن کی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات، قانونی روزگار کے مواقع اور دونوں فریقوں کے درمیان ادارہ جاتی رابطوں کو مؤثر بنانے پر توجہ دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان غیر قانونی ہجرت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے قانون سازی میں اصلاحات، متعلقہ اداروں کی استعدادِ کار میں اضافے، قانون کے مؤثر نفاذ اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ ان کوششوں کا مقصد غیر قانونی نقل مکانی کی حوصلہ شکنی، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی اور بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند افراد کو محفوظ راستوں کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔
شہباز شریف نے اس موقع پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری کو اہم قرار دیتے ہوئے پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تمام شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستانی ہنرمندوں کے لیے یورپی روزگار کے دروازے کھولنے پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی ہنرمند کارکنوں، تکنیکی ماہرین اور پیشہ ور افراد کے لیے یورپی ممالک میں قانونی روزگار کے راستوں کو وسعت دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کی افرادی قوت مختلف شعبوں میں مہارت اور صلاحیت رکھتی ہے، جسے یورپی ممالک کی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے منسلک کرنے کے لیے منظم تعاون کی ضرورت ہے۔
قانونی ہجرت کے راستے بڑھانے سے ایسے افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو بہتر روزگار، پیشہ ورانہ ترقی اور معاشی استحکام کے لیے بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی ذرائع سے سفر کرنے، اسمگلنگ نیٹ ورکس کو بھاری رقوم ادا کرنے اور انسانی استحصال کا شکار ہونے کے خطرات میں بھی کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اس شعبے میں تعاون کا ایک اہم مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ کارکنوں کی مہارتوں، پیشہ ورانہ قابلیت اور تربیت کو یورپی منڈی کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اس عمل کے لیے متعلقہ اداروں، تربیتی مراکز اور روزگار فراہم کرنے والے شعبوں کے درمیان رابطے مضبوط بنانا بھی اہمیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور قانونی نقل و حرکت کے فروغ کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مؤثر پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ غیر قانونی راستوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ قانونی اور محفوظ مواقع بھی پیدا کیے جائیں۔
میگنس برونر کی ایف آئی اے کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف
یورپی یونین کے کمشنر میگنس برونر نے پاکستان کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور متعلقہ اداروں کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی پیشہ ورانہ مہارت کی بھی تعریف کی۔
برونر نے اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان کی جانب سے جاری کوششیں قانونی ہجرت کے راستوں کو وسعت دینے اور پاکستان و یورپی یونین کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی لیبر موبلٹی کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کریں گی۔
ان کے بیان کے مطابق، غیر قانونی نقل مکانی میں کمی لانے کے اقدامات مستقبل میں قانونی نقل و حرکت کے لیے بہتر ماحول پیدا کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس مقصد کے حصول کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل رابطہ، ادارہ جاتی تعاون اور قانونی روزگار کے لیے قابلِ عمل طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اس معاملے پر تعاون اس لیے بھی اہم ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے پیچھے اکثر معاشی مشکلات، بیرونِ ملک بہتر مستقبل کی خواہش اور قانونی مواقع تک محدود رسائی جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ قانونی راستوں کو زیادہ شفاف اور قابلِ رسائی بنانا ان عوامل سے پیدا ہونے والے خطرات کم کرنے کی کوششوں کا حصہ بن سکتا ہے۔
صدر زرداری کی یورپی یونین کمشنر سے ایوانِ صدر میں ملاقات
دریں اثنا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایوانِ صدر میں یورپی یونین کے کمشنر میگنس برونر سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام اور پاکستانی کارکنوں و پیشہ ور افراد کے لیے یورپ میں قانونی مواقع بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔

ایوانِ صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کے ساتھ قانونی نقل مکانی کے راستوں میں توسیع، مہارت پر مبنی نقل و حرکت اور یورپی یونین کے ساتھ منظم تعاون کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
صدر نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے وسیع البنیاد تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو محض غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام تک محدود رکھنے کے بجائے قانونی روزگار، پیشہ ورانہ تربیت اور افرادی قوت کی منظم نقل و حرکت تک وسعت دی جانی چاہیے۔
30 ہزار سے زائد افراد کی واپسی اور قبولیت کا معاہدہ
صدر آصف علی زرداری نے ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان واپسی اور قبولیت کے معاہدے (Readmission Agreement) کے تحت تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاہدے پر مسلسل عمل درآمد کر رہا ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران 30 ہزار سے زائد افراد کو واپس قبول کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی کے خاتمے کے لیے سخت قانون سازی، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، سرحدی کنٹرول اور بین الاقوامی تعاون سمیت مختلف اقدامات پر کام کر رہا ہے۔
واپسی اور قبولیت کے معاہدے ایسے انتظامات میں شامل ہوتے ہیں جن کے تحت متعلقہ ممالک مخصوص قانونی شرائط کے مطابق واپس بھیجے جانے والے افراد کی قبولیت اور ان کے معاملات سے متعلق تعاون کرتے ہیں۔ تاہم، صدر کے بیان میں دیے گئے اعداد و شمار کی تفصیلات، مدت اور متعلقہ زمروں کی الگ سے وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔
صدر زرداری کے مطابق، پاکستان کی کوششوں کا بنیادی مقصد غیر قانونی نقل مکانی کے راستوں کو محدود کرنا اور ایسے نظام کو فروغ دینا ہے جس میں بیرونِ ملک روزگار کے خواہش مند افراد قانونی طریقے سے آگے بڑھ سکیں۔
پاکستان سے غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی کا دعویٰ
صدر مملکت نے غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے حوالے سے پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان سے ہونے والی غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی آئی ہے۔
صدر نے اس پیش رفت کو پاکستان کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ یہ صورتِ حال محفوظ اور قانونی ہجرت کے راستوں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ان کے مطابق، غیر قانونی نقل مکانی میں کمی کے ساتھ قانونی روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ کارکنوں کو انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
اس موقع پر یہ بات اہم ہے کہ 64 فیصد کمی کا عدد صدر مملکت کے بیان میں یورپی یونین کے اعداد و شمار سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس کے درست تناظر، پیمائش کے طریقۂ کار اور اس میں شامل نقل مکانی کے زمروں کی تفصیلات کے لیے متعلقہ یورپی یونین کے اعداد و شمار کا مکمل حوالہ ضروری ہوگا۔
اس کے باوجود، صدر کے بیان کا مرکزی نکتہ واضح تھا کہ غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام میں پیش رفت کو قانونی ہجرت کے مواقع بڑھانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، تاکہ پاکستانی شہری محفوظ طریقے سے روزگار حاصل کر سکیں اور پاکستان و یورپی ممالک دونوں کو اس تعاون سے فائدہ پہنچے۔
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مائیگریشن اینڈ موبلٹی ڈائیلاگ
صدر زرداری نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ’مائیگریشن اینڈ موبلٹی ڈائیلاگ‘ یعنی نقل مکانی اور نقل و حرکت سے متعلق مکالمے کو ایک مفید فریم ورک قرار دیا۔
ان کے مطابق، اس مکالمے کے ذریعے پاکستان کی افرادی قوت کی مہارتوں اور صلاحیتوں کو یورپی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں کارکنوں کی تربیت، پیشہ ورانہ قابلیت کی جانچ، مہارتوں کی شناخت اور متعلقہ روزگار کے مواقع تک رسائی جیسے امور پر تعاون اہم ہو سکتا ہے۔
صدر نے امید ظاہر کی کہ اگلے سال کے اوائل میں برسلز میں متوقع مکالمے کا اگلا دور دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو مزید آگے بڑھائے گا۔
اس مکالمے کی اہمیت اس تناظر میں بڑھ جاتی ہے کہ یورپی ممالک کو مختلف شعبوں میں ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کی ضرورت ہو سکتی ہے، جبکہ پاکستان کے لیے بیرونِ ملک روزگار کے محفوظ مواقع، ترسیلاتِ زر اور افرادی قوت کی پیشہ ورانہ ترقی اہم معاشی پہلو ہیں۔
اگر دونوں فریق ان ضروریات کو ایک مشترکہ اور شفاف نظام کے تحت مربوط کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے کارکنوں کو قانونی راستوں کے بارے میں بہتر معلومات مل سکتی ہیں اور غیر قانونی ایجنٹوں یا اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے بیرونِ ملک جانے کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ٹیلنٹ پارٹنرشپ اور سرکلر مائیگریشن کی توسیع
صدر آصف علی زرداری نے یورپی یونین کے ’ٹیلنٹ پارٹنرشپ‘ فریم ورک کی توسیع کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستانی ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں سرکلر مائیگریشن کے طریقۂ کار کو بھی اہم قرار دیا۔
سرکلر مائیگریشن سے مراد ایسا انتظام ہو سکتا ہے جس کے تحت کارکن مخصوص مدت کے لیے بیرونِ ملک کام کریں اور پھر اپنے ملک واپس آ جائیں، یا طے شدہ قانونی شرائط کے تحت دوبارہ روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے کا موقع حاصل کریں۔ اس نوعیت کے انتظامات میں کارکنوں کے حقوق، معاہدوں کی شفافیت، ملازمت کی شرائط اور واپسی کے طریقہ کار کی وضاحت ضروری ہوتی ہے۔
صدر کے مطابق، پاکستان اپنی افرادی قوت کو یورپی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ ایک منظم طریقہ کار پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس مقصد کے لیے پیشہ ورانہ تربیت، تکنیکی مہارتوں میں اضافے، زبان کی تعلیم اور متعلقہ شعبوں کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کرنے جیسے اقدامات معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم، قانونی راستوں کی حقیقی توسیع کے لیے ضروری ہوگا کہ متعلقہ پروگراموں کے تحت دستیاب شعبوں، اہلیت کے معیار، درخواست دینے کے طریقہ کار اور کارکنوں کے حقوق سے متعلق معلومات واضح طور پر فراہم کی جائیں۔
پاکستان میں یورپین لیگل گیٹ وے آفس کے قیام کی تجویز
صدر زرداری نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین پاکستان میں ’یورپین لیگل گیٹ وے آفس‘ (European Legal Gateway Office) کے قیام پر غور کرے گی۔
ان کے مطابق، ایسا دفتر پاکستانی ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کو یورپ میں دستیاب قانونی روزگار کے مواقع کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنے، متعلقہ پروگراموں سے آگاہ کرنے اور قانونی نقل و حرکت کے لیے ضروری معلومات تک رسائی بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
اگر اس تجویز پر پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے ذریعے پاکستانی شہریوں کو مستند معلومات فراہم کرنے، روزگار کے قانونی راستوں کی شناخت اور متعلقہ اداروں سے رابطے کے نظام کو بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی ایجنٹوں کے جھانسے میں آنے کے خطرات کم کرنے کے لیے بھی معلوماتی اور رہنمائی کا مؤثر نظام اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم، پاکستان میں ایسے دفتر کے قیام کے حوالے سے حتمی فیصلہ، اس کا دائرۂ کار، انتظامی ڈھانچہ اور عملی ذمہ داریاں متعلقہ فریقوں کے باضابطہ فیصلوں اور معاہدوں سے مشروط ہوں گی۔ صدر زرداری کے بیان میں اسے ایک تجویز اور امید کے طور پر پیش کیا گیا، نہ کہ قائم شدہ دفتر کے طور پر۔
وسیع البنیاد تعلقات اور اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی مکالمے، تجارت، ترقیاتی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں پر مشتمل وسیع البنیاد تعلقات موجود ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ محفوظ اور قانونی نقل مکانی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے سے مجموعی تعلقات کو بھی مزید تقویت مل سکتی ہے۔
پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کے لیے ایک اہم فریم ورک ہے۔ ہجرت اور نقل و حرکت اس منصوبے کے آٹھ ستونوں میں شامل ہے، جس کے تحت غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے ساتھ قانونی نقل و حرکت، ادارہ جاتی رابطوں اور متعلقہ پالیسی امور پر تعاون کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کمشنر برونر سے ملاقات کے دوران اس منصوبے کے تمام شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس معاملے کو صرف سرحدی انتظام یا غیر قانونی ہجرت کے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے یورپی یونین کے ساتھ وسیع تر شراکت داری کا حصہ بھی سمجھتا ہے۔
قانونی ہجرت پاکستان اور یورپ دونوں کے لیے اہم کیوں؟
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں سے یہ نکتہ سامنے آیا کہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اقدامات کافی نہیں، بلکہ محفوظ اور قانونی نقل و حرکت کے قابلِ عمل مواقع بھی ضروری ہیں۔
پاکستان کے لیے قانونی بیرونِ ملک روزگار افرادی قوت کی پیشہ ورانہ ترقی، خاندانوں کی معاشی بہتری اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کے امکانات سے جڑا ہوا ہے۔ دوسری جانب یورپی ممالک کے لیے ہنرمند کارکنوں کی دستیابی بعض شعبوں میں افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔
اس تعاون کو مؤثر بنانے کے لیے چند امور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں: قانونی بھرتی کے شفاف طریقہ کار، کارکنوں کے حقوق کا تحفظ، پیشہ ورانہ قابلیت کی قابلِ قبول شناخت، روزگار کے معاہدوں کی وضاحت اور ویزا و امیگریشن قوانین سے متعلق مستند معلومات تک رسائی۔
اسی طرح انسانی اسمگلنگ اور تارکینِ وطن کی اسمگلنگ میں فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ انسانی اسمگلنگ میں افراد کو استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ تارکینِ وطن کی اسمگلنگ عموماً سرحد پار غیر قانونی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے سے متعلق ہوتی ہے۔ دونوں جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور متعلقہ اداروں کی صلاحیت میں اضافہ اہم ہے۔
پاکستان اور یورپی یونین کے تعاون کے لیے آئندہ کا راستہ
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی ملاقاتوں میں سامنے آنے والا مشترکہ مؤقف یہ ہے کہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور قانونی نقل و حرکت کے فروغ کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ پاکستان نے قانون سازی، ادارہ جاتی استعداد، سرحدی کنٹرول اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے غیر قانونی نقل مکانی کے خلاف اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ یورپی یونین کی جانب سے قانونی ہجرت کے راستوں اور لیبر موبلٹی کے امکانات کو آگے بڑھانے کی امید ظاہر کی گئی۔
آئندہ سال کے اوائل میں برسلز میں متوقع مائیگریشن اینڈ موبلٹی ڈائیلاگ کا اگلا دور اس سلسلے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ٹیلنٹ پارٹنرشپ کے تحت مواقع میں توسیع اور پاکستان میں یورپین لیگل گیٹ وے آفس کے قیام کی تجویز پر ممکنہ غور بھی دونوں فریقوں کے تعاون کو نئی سمت دے سکتا ہے۔
تاہم، ان تجاویز کو عملی شکل دینے کے لیے واضح پالیسی، باقاعدہ مشاورت، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطوں کی ضرورت ہوگی۔ قانونی ہجرت کے مواقع اس وقت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوں گے جب پاکستانی کارکنوں کو روزگار کے حقیقی مواقع، درخواست دینے کے شفاف طریقے اور بیرونِ ملک اپنے حقوق کے تحفظ سے متعلق مکمل معلومات میسر ہوں۔
مجموعی طور پر، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی یورپی یونین کمشنر میگنس برونر سے ملاقاتوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہجرت اور نقل و حرکت کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی ہے۔ پاکستان کی کوششوں کو سراہنے کے ساتھ قانونی روزگار کے راستوں میں توسیع پر زور اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں دونوں فریق غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات اور ہنرمند پاکستانی افرادی قوت کے لیے محفوظ مواقع پیدا کرنے پر مشترکہ طور پر کام کر سکتے ہیں۔



