
سید عاطف ندیم-ادارت
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے 17 اکتوبر 2026 کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تین مختلف کارروائیاں کیں، جن کے دوران مجموعی طور پر 16 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے۔ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا جبکہ ضلع خضدار میں 490 کلوگرام دھماکہ خیز مواد بھی قبضے میں لیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق یہ کارروائیاں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کا ہدف مبینہ طور پر بھارتی حمایت یافتہ گروہ ’فتنہ الہند‘ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے۔ سیکیورٹی حکام کے بیان کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں آٹھ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ اسی روز ضلع کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں پیش آنے والے ایک الگ واقعے میں مزید پانچ دہشت گرد مارے گئے۔
پنجپائی میں سڑکیں بند کرنے کی کوشش ناکام
سیکیورٹی حکام کے مطابق ضلع کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں دہشت گردوں نے مقامی آمدورفت اور ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کے لیے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

حکام کے بیان کے مطابق اس کارروائی کے دوران پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی ایسی کوششیں مقامی شہریوں کی نقل و حرکت، تجارتی سرگرمیوں اور معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کا مقصد علاقے میں آمدورفت بحال رکھنا اور شہریوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانا تھا۔
نوشکی میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کا سراغ
ضلع نوشکی میں بھی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن کیا۔ اس دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ایک مبینہ ٹھکانے کا سراغ لگایا، جس کے بعد وہاں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں دو دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ کارروائی کے بعد جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کے ممکنہ شواہد کی بنیاد پر مزید تلاشی اور کلیئرنس کی کارروائیاں جاری رکھی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔

نوشکی بلوچستان کا ایک اہم ضلع ہے، جہاں امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانا سیکیورٹی اداروں کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تاہم اس کارروائی کے حوالے سے مزید تفصیلات، بشمول برآمد ہونے والے اسلحے کی نوعیت اور دہشت گردوں کی شناخت، فراہم کردہ بیان میں واضح نہیں کی گئیں۔
خضدار میں ایک دہشت گرد ہلاک، 490 کلوگرام دھماکہ خیز مواد برآمد
ضلع خضدار میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی ایک اور کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک مبینہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق کارروائی میں فوری اور جارحانہ حکمت عملی اختیار کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔
اس کارروائی کی اہم پیش رفت 490 کلوگرام دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی ممکنہ طور پر سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک اہم تشویش کا معاملہ ہے، کیونکہ اس نوعیت کا مواد دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے اس مواد کے ممکنہ استعمال، اس کی نوعیت، ذخیرہ کرنے کے مقام یا کسی مخصوص حملے سے تعلق کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
سیکیورٹی اداروں کے لیے اس مواد کی محفوظ تحویل، نوعیت کا تعین اور ممکنہ شواہد کا جائزہ لینا اہم ہوگا تاکہ اس کے ماخذ اور ممکنہ استعمال کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
سینیٹائزیشن آپریشنز جاری رکھنے کا اعلان
سیکیورٹی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد بھی متعلقہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کی ممکنہ موجودگی کا سراغ لگانا، ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرنا اور علاقے کو مزید خطرات سے پاک بنانا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھی جائیں گی جب تک متعلقہ علاقوں میں موجود ممکنہ خطرات کا مؤثر طور پر خاتمہ نہیں کر دیا جاتا۔ اس سلسلے میں انٹیلی جنس معلومات، مقامی حالات اور سیکیورٹی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ اس ضمن میں ’عزمِ استحکام‘ کا حوالہ دیا گیا ہے، جسے نیشنل ایکشن پلان پر قائم وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ اقدامات کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔
عزمِ استحکام کا بنیادی مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جاری قومی کوششوں کو مؤثر بنانا اور ملک میں امن و استحکام کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت دینا ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں اور دیگر سیکیورٹی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال صوبے کے عوام کی روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیوں، نقل و حمل اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شہریوں کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کو یقینی بنانا بھی اہم ہے۔
17 اکتوبر کی کارروائیوں کے حوالے سے جاری بیان کے مطابق کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں مختلف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 16 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ خضدار سے 490 کلوگرام دھماکہ خیز مواد اور نوشکی سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کے ممکنہ باقی ماندہ ٹھکانوں کا سراغ لگانے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری رہیں گے۔
نوٹ: ہلاکتوں، برآمدگی اور مبینہ غیر ملکی حمایت سے متعلق تفصیلات فراہم کردہ سیکیورٹی بیان کی بنیاد پر درج کی گئی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔



