
ناصر خان خٹک-ادارت
یورپ میں غیر قانونی داخلے کے لیے نئے راستوں کے طور پر انسانی سمگلر سفرِ عمرہ کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور حکام باقاعدگی سے ایسے گروہوں کو روکتے ہیں جو دینی زیارت کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کریں، ایک پاکستانی عہدیدار نے حال ہی میں بتایا۔لاکھوں پاکستانی زیارت بالخصوص حج و عمرہ کے لیے سعودی عرب اور دیگر ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام ماضی میں یہ بتا چکے ہیں کہ ان میں سے بعض افراد اپنے ویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد واپس نہیں لوٹے۔
پاکستان کو طویل عرصے سے غیر قانونی امیگریشن کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سمگلر بیرونِ ملک روزگار اور بہتر معاشی مواقع کے جھوٹے وعدے کر کے لوگوں کو یورپ کے غیر قانونی سفر پر آمادہ کرتے ہیں۔
ایف آئی اے کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے انہوں نے جنوبی اور وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایسے مسافروں کو روکا جو عمرہ ادائیگی کے بہانے سعودی عرب پہنچ کر وہاں سے یورپ جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر (امیگریشن) شہزاد اکبر نے ایک انٹرویو میں بتایا، "ہم ہر ہفتے ایسی کوشش کرنے والے دو سے تین گروہوں کو پکڑتے ہیں۔”
نیز کہا، "اس مقصد کے لیے عمرہ ایک نیا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں سختی کم ہے اور کم سوالات پوچھے جاتے ہیں۔”
عہدیدار کے مطابق سمگلر اب صرف لیبیا اور شمالی افریقہ کے دیگر ممالک کے روایتی راستوں پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ یورپ پہنچنے کے لیے متعدد درمیانی راستے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا، یورپ کو ہونے والی سمگلنگ کے مختلف مشتبہ راستوں میں مصر، مراکش اور قبرص شامل ہیں جبکہ بحرین اور متحدہ عرب امارات بھی دیگر مقامات تک پہنچنے کے لیے درمیانی راستے کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔
شہزاد اکبر کے مطابق ان غیر قانونی کارروائیوں میں منظم مجرمانہ نیٹ ورکس ملوث ہیں جن کا دائرہ کار پاکستان سے باہر تک ہے۔ سمگلر اور ان کے ایجنٹ ویزوں، امیگریشن کلیئرنس اور آگے کے سفر کا انتظام کرتے ہیں۔ رقوم کی ادائیگی اکثر مختلف مراحل میں ہوتی ہے جبکہ تارکینِ وطن کو اکثر ان کے سفر کی حتمی تفصیلات سے لاعلم رکھا جاتا ہےخصوصاً جب سفر میں خطرناک سمندری راستے شامل ہوں۔
سمگلر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول فیس بک اور ٹِک ٹاک کا استعمال کرتے ہوئے ممکنہ تارکینِ وطن کو ملازمت کے جعلی اشتہارات سے اپنی طرف راغب کرتے ہیں جن میں بہت اچھی تنخواہوں اور بیرونِ ملک مفت رہائش کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ بعض متأثرین کو ملازمت یا تربیت کے بہانے عارضی وزٹ ویزوں پر بیرونِ ملک بھیجا گیا لیکن انہیں وہاں لے جا کر قید کر دیا گیا جبکہ پاکستان میں ان کے اہلِ خانہ کو تاوان ادا کرنا پڑا۔
اکبر نے کہا، ایف آئی اے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر مشتبہ نیٹ ورکس کی تفتیش اور انسانی سمگلنگ و متعلقہ جرائم کی شکایات درج کر رہی ہے۔ کراچی ایئرپورٹ سے روزانہ تقریباً 15,000 سے 16,000 مسافر سفر کرتے ہیں جن میں سے 10 سے 15 مسافروں کو عموماً سفر سے متعلق خدشات کی بنا پر اتار دیا جاتا ہے۔
درست دستاویزات کے باوجود مسافروں کو آف لوڈ کرنے پر تشویش سے متعلق سوال پر اکبر نے کہا، "ایف آئی اے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایپ تیار کر رہی ہے جو مسافروں کو گھر سے ہی یہ چیک کرنے کی اجازت دیتی ہے کہ آیا وہ سفر کے لیے زیادہ یا کم خطرے میں تو نہیں۔” نیز کہا، ایپ بین الاقوامی سکریننگ کے طریقوں اور جلاوطنی کے سابقہ کیسز سے متعلق معلومات کا استعمال کرے گی۔
دریں اثنا سفری مسائل کا سامنا کرنے والے مسافروں کو دستاویزات اور دیگر لوازم کے لیے ایف آئی اے کے سہولت مراکز سے رجوع کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ حقیقی مسافروں کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا، "پری ڈیپارچر سیل مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہماری کوششوں کا تسلسل ہے تاکہ انہیں بیرونِ ملک مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے”۔



