
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان کی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء کے مطابق ملک میں ایک کروڑ سے ایک کروڑ 30 لاکھ گھروں کی کمی ہے۔ سالانہ طلب تقریباً پانچ لاکھ گھروں کی ہے، جبکہ صرف تین لاکھ کے قریب گھر تعمیر ہوتے ہیں۔
اس خلا کو کم کرنے کے لیے حکومت نے وزیر اعظم کا "اپنا گھر” پروگرام شروع کیا ہے، جس کے تحت پہلی بار گھر خریدنے والوں کو ایک کروڑ روپے تک کا قرض ملتا ہے۔ پہلے دس سال کے لیے اس پر پانچ فیصد مقررہ شرحِ سود لاگو ہوتی ہے۔
کیا قرض کے اہل گھر موجود ہیں؟
حکومت ہر جائیداد پر قرض نہیں دیتی۔ قرض کے لیے فلیٹ یا پلاٹ کا کسی منظور شدہ عمارت یا سوسائٹی میں واقع ہونا اور حکومتی شرائط پر پورا اترنا ضروری ہے۔
عمارتوں اور سوسائٹیوں کی منظوری ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہی ہے۔ حکام وقتاً فوقتاً ایسی سوسائٹیوں کی فہرستیں جاری کرتے ہیں، جن کے پاس این او سی (عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ) نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود یہ سوسائٹیاں بنتی رہتی ہیں اور ان کے پلاٹ بکتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ این او سی کے بغیر پلاٹ یا ایپارٹمنٹ کیسے فروخت ہو جاتے ہیں؟ اس کا کوئی واضح جواب سامنے نہیں آتا۔
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی اس اسکیم کو اچھا اقدام قرار دیتے ہیں، جس سے غریب بھی گھر کے مالک بن سکتے ہیں مگر ان کے مطابق قرض کے اہل مکانات کی کمی ہے۔
ماہرِ معیشت اور وزارت خزانہ کے سابق اقتصادی مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کو شبہ ہے کہ یہ اسکیم ان لوگوں تک پہنچ پائے گی، جن کے لیے بنائی گئی ہےماہرِ معیشت اور وزارت خزانہ کے سابق اقتصادی مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کو شبہ ہے کہ یہ اسکیم ان لوگوں تک پہنچ پائے گی، جن کے لیے بنائی گئی ہے
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ خریداری کے لیے عمارتیں موجود ہوں اور اس کے لیے منظوریاں ضروری ہیں، ”ہزاروں عمارتیں موجود ہیں لیکن ان قرضوں پر آپ ان میں فلیٹ نہیں خرید سکتے، کیونکہ وہ منظور شدہ نہیں ہیں۔ اگر عمارتیں نہیں بنیں گی اور منظوریاں نہیں ملیں گی تو ان اسکیموں کا کیا فائدہ؟‘‘
ان کے بقول منظوری دینے والے افسر کی مرضی پر منحصر ہے کہ منظوری ملے یا نہ ملے، ”افسران سمجھتے ہیں کہ منظوری دینا یا نہ دینا ان کا استحقاق ہے لیکن یہ ضوابط کی پابندی پر مبنی ہونا چاہیے۔‘‘
بخشی تجویز کرتے ہیں کہ ایپارٹمنٹ عمارتوں کی منظوری ایک ہفتے میں دی جائے یا یہ معاملہ کسی نجی ادارے کو سونپ دیا جائے۔ ان کے مطابق غیر منظور شدہ عمارتوں کو معمولی جرمانہ لے کر باقاعدہ (ریگولرائز) کیا جائے اور صرف خطرناک عمارتیں منہدم کی جائیں۔ انہوں نے پاکستان میں رشوت کے نظام پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”رشوت کے بغیر منظوری نہیں ملتی اور یہ رشوتیں بہت بھاری ہوتی ہیں۔‘‘
کیا غریب قسط ادا کر سکتا ہے؟
مالیاتی ماہرین کے مطابق ایک کروڑ روپے کے قرض کی ماہانہ قسط، پانچ فیصد شرح سود پر 20 سال کی مدت کے لیے، تقریباً 66 ہزار روپے بنتی ہے، جبکہ ابتدا میں تقریباً 11 لاکھ روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا غریب یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان میں لوگ تیزی سے پائیدار ذرائع آمدن کھو رہے ہیں؟
ماہرِ معیشت اور وزارت خزانہ کے سابق اقتصادی مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کو شبہ ہے کہ یہ اسکیم ان لوگوں تک پہنچ پائے گی، جن کے لیے بنائی گئی ہے، یا طویل مدت میں انہیں کوئی فائدہ دے سکے گی، ”ظاہر ہے یہ غریبوں کے لیے ہے لیکن کیا غریب اسے طویل عرصے تک واپس کر سکیں گے، کیا وہ سود ادا کر سکیں گے؟‘‘
ڈاکٹر اشفاق یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کون یقینی بنائے گا کہ اسکیم کا غلط استعمال نہیں ہوگا؟
ان کا یہ بھی سوال ہے کہ کیا ایک کروڑ روپے میں گھر بن سکتا ہے، جب اس قیمت پر زمین ہی دستیاب نہیں؟ ڈاکٹر اشفاق اسے ایک سیاسی اقدام قرار دیتے ہیں، "جب حکومت کے پاس دکھانے کو اور کچھ نہیں ہوتا تو ایسے کام کیے جاتے ہیں۔” ان کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی شرحِ سود کے مختلف سلیب پر اعتراض کر سکتا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے وہ نہ صرف ضرورت مندوں کو گھر دے رہی ہے بلکہ موسمیاتی اثرات سے محفوظ گھروں کی تعمیر پر بھی زور دے رہی ہےحکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے وہ نہ صرف ضرورت مندوں کو گھر دے رہی ہے بلکہ موسمیاتی اثرات سے محفوظ گھروں کی تعمیر پر بھی زور دے رہی ہے
جہاں کچھ ماہرین اسکیم کی عملی اور معاشی افادیت پر سوال اٹھاتے ہیں، وہیں بعض کے نزدیک کم از کم کچھ لوگوں کو گھر مل رہے ہیں۔ ایک بڑے ڈویلپر محمد حنیف گوہر کہتے ہیں کہ اسکیم کے اجرا کے بعد رہائشی منصوبے بک رہے ہیں، "فی الحال حکومت صرف ڈویلپ شدہ منصوبوں اور پلاٹوں پر قرض دے رہی ہے لیکن ہم بات کر رہے ہیں کہ اقساط والے منصوبوں پر بھی قرض دیا جائے، اس سے تعمیراتی رفتار بڑھے گی۔”
موسمیاتی اثرات سے محفوظ گھر کیا ہیں؟
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے وہ نہ صرف ضرورت مندوں کو گھر دے رہی ہے بلکہ موسمیاتی اثرات سے محفوظ گھروں کی تعمیر پر بھی زور دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے گھر کیا ہوتے ہیں اور کیا پاکستان میں تعمیر کے وقت ان کے معیار پر عمل ہوتا ہے؟
ماحولیاتی ماہر فہد سعید کہتے ہیں کہ وہ اور ان جیسے ماہرین برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ ملکی معاشی ترقی کے لیے بھی موسمیاتی اثرات سے محفوظ رہائش ضروری ہے، ”اگر انسان سکون سے رہ نہیں سکتا یا شدید موسم میں جی نہیں سکتا تو مؤثر کام کیسے کرے گا؟‘‘
لیکن سعید یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ حکومت ایسے گھر یقینی کیسے بنائے گی۔ ان کے مطابق حکومت الٹا وہ واحد موسمیاتی تحفظ چھین رہی ہے، جو لوگوں نے خود سولر سسٹم لگا کر حاصل کیا تھا تاکہ گرمی میں پنکھے اور کولر چلتے رہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے سولر پالیسی میں تبدیلی کر کے اس کے فوائد ختم کرنے کی کوشش کی ہے، ”سولر سسٹم موسمیاتی تحفظ کا حصہ ہیں، اس لیے اگر حکومت مخلص ہے تو محفوظ عمارتوں کے ضوابط بنانے اور نافذ کرنے کے ساتھ سولر کی حوصلہ افزائی کرے، حوصلہ شکنی نہیں۔‘‘



