
بحیرۂ عرب میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جنگی تیاریوں میں مصروف، ٹرمپ کا ایران کو معاہدے یا فوجی کارروائی کا عندیہ
ان کے بقول، جنگ ہو یا نہ ہو، ایران اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور حالیہ جنگ کے بعد کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے ساتھ
واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان کو رد نہ کیے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک مرتبہ پھر بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ بحیرۂ عرب میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے کمانڈر نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج ممکنہ دفاعی یا جارحانہ کارروائی سمیت مختلف آپشنز کے لیے تیار ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے نئے خطرات تہران کو اپنی پالیسیوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔
امریکی اور ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی معاہدے کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم کسی ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بھی برقرار ہیں۔
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی جنگی تیاری
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیتے ہوئے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے کمانڈر کیپٹن نکولس ڈیلیو نے کہا کہ امریکی فوج کا موجودہ مشن مختلف ممکنہ آپشنز تیار کرنا اور انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پیش کرنا ہے، تاکہ انتظامیہ کے فیصلے کی صورت میں ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر اسلحے اور دیگر ضروری سامان کی بڑی مقدار پہنچائی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تیاریوں میں دور سے زمینی اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائل اور مضبوط بنکرز سمیت زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے بم بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران سے متعلق وائٹ ہاؤس کے کسی بھی ممکنہ فیصلے کے لیے امریکی فوج کو تیار رکھنا ہے۔ تاہم ان تیاریوں کو ایران پر حملے کے حتمی فیصلے کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ امریکی صدر کی جانب سے کسی کارروائی کے وقت یا حتمی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ کا ایران کو واضح پیغام: معاہدہ یا فوجی کارروائی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے سامنے دو بنیادی راستے موجود ہیں: ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا فوجی کارروائی کے ذریعے امریکی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ٹرمپ کے مطابق اس معاملے کا فیصلہ تہران کی قیادت کو کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا نہیں، تاہم ان کے بقول دونوں صورتوں میں امریکہ اپنا مقصد حاصل کر لے گا۔
ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے وقت اور امریکی فوجی منصوبہ بندی کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے سوال کے جواب میں کہا کہ کیا وہ واقعی صحافیوں کو بتا دیں گے کہ امریکہ کس مرحلے تک پہنچ چکا ہے؟
امریکی صدر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ممکن ہے کارروائی کا وقت بہت قریب ہو، حتیٰ کہ اگلے ہی روز، لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ امکان بھی برقرار رکھا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا اور قابلِ قبول معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ آیا تہران کسی ممکنہ معاہدے کی شرائط کی پابندی کرے گا یا نہیں۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کے ساتھ فوجی آپشن کو بھی خارج نہیں کر رہی۔
عباس عراقچی کا دوٹوک مؤقف
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو ایران پر دوبارہ حملوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے نئے خطرات تہران کی پالیسیوں میں تبدیلی کا سبب نہیں بنیں گے۔
اتوار کے روز تہران میں سفارت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ اگرچہ ایک مرتبہ پھر جنگ کے امکان پر بات ہو رہی ہے، لیکن ان کی توجہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر بھی ہے۔
ان کے بقول، جنگ ہو یا نہ ہو، ایران اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور حالیہ جنگ کے بعد کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کو آسانی سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کے عرب ممالک کے ساتھ تعاون کی آمادگی کا اعادہ بھی کیا، جو علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
خلیجی خطے کے لیے کیا خطرات پیدا ہو سکتے ہیں؟
امریکی فوجی تیاریوں اور ایرانی قیادت کے سخت بیانات کے باعث خلیج فارس اور بحیرۂ عرب کی صورتِ حال پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہتی ہیں اور امریکہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کرتا ہے تو اس کے اثرات دونوں ممالک تک محدود رہنے کے بجائے وسیع تر خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ممکنہ تصادم سے علاقائی سلامتی، تجارتی سرگرمیوں، بحری آمدورفت اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم ان اثرات کی نوعیت اور شدت کا انحصار کسی بھی ممکنہ کارروائی کے دائرۂ کار، دورانیے اور متعلقہ ممالک کے ردعمل پر ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تعاون کی پیشکش اس تناظر میں اہم ہے کہ خطے کے ممالک کشیدگی کو محدود رکھنے اور اپنے سلامتی کے مفادات کا تحفظ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
سفارت کاری یا نئی جنگ؟
موجودہ صورتِ حال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تہران کسی ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں جو فوجی تصادم کے خطرات کم کر سکے، یا دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ایک نئی فوجی محاذ آرائی کی طرف بڑھیں گے۔
امریکی صدر نے معاہدے کا امکان برقرار رکھا ہے، لیکن فوجی کارروائی کو بھی ایک ممکنہ راستہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ دھمکیوں اور جنگ کے خدشات سے اس کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔
فی الحال دستیاب بیانات کی بنیاد پر کسی نئے امریکی حملے کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آئندہ صورتِ حال کا انحصار امریکی انتظامیہ کے فیصلوں، ایران کے ردعمل اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں پر ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان عالمی برادری کی توجہ اب اس بات پر ہے کہ آیا دونوں فریق مذاکرات کے ذریعے اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا فوجی تیاریوں کا یہ سلسلہ ایک نئے تصادم کا سبب بنتا ہے۔



