پاکستاناہم خبریں

پاکستان کی سیاست میں آئینی ترمیم کی گہما گہمی: اتحادیوں کے مطالبات اور مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر اثرات

اس موقع پر، مختلف اتحادی جماعتوں نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں، جن میں سے کچھ دیرینہ نوعیت کے ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر گہما گہمی لوٹ آئی ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے آئین میں ترمیم کرنے کے لیے ستائیسویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کیا ہے۔ اس ترمیم کے دوران حکومت نے اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان اتحادیوں نے اپنے مخصوص مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دیے ہیں، جن میں نہ صرف سیاسی مفاہمتیں شامل ہیں بلکہ طاقت، وسائل اور اختیارات کی نئی تقسیم کی علامات بھی موجود ہیں۔ اس آئینی ترمیم کا مقصد بنیادی طور پر عدلیہ کی ساخت میں تبدیلی، ایک علیحدہ آئینی عدالت کا قیام، اور وفاقی و صوبائی اختیارات کی نئی درجہ بندی کرنا ہے۔ تاہم، ان نکات پر حکومت کی اتحادی جماعتوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور ترمیم کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان اور وزیر مملکت برائے سمندر پار مقیم پاکستانی، اون چوہدری کی ملاقات

آئینی ترمیم کی ضرورت اور اتحادیوں کی حمایت

پارلیمانی سیاست کے روایتی انداز کے مطابق، کسی بھی آئینی ترمیم کی حمایت محض اتفاقِ رائے پر نہیں ہوتی، بلکہ یہ مخصوص مطالبات اور سیاسی مفاہمتوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ حکومت کو اس ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں اتحادی جماعتوں کی سیاسی طاقت اہمیت اختیار کرتی ہے۔

اس موقع پر، مختلف اتحادی جماعتوں نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں، جن میں سے کچھ دیرینہ نوعیت کے ہیں، جیسے شہری سندھ کے سیاسی و انتظامی حقوق، بلوچستان کی نمائندگی، اور صوبائی خودمختاری کے تحفظات۔

ایم کیو ایم کے مطالبات: شہری سندھ کے حقوق

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سب سے اہم مطالبات سامنے آئے ہیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اس آئینی ترمیم کی حمایت صرف اسی صورت میں کریں گے جب حکومت کراچی اور حیدرآباد کے عوام کے دیرینہ مطالبات کو عملی جامہ پہنائے گی۔ ان مطالبات میں سب سے اہم عوامی سطح پر شہری سندھ کی سیاسی حیثیت کو مضبوط کرنا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کی ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی تقسیم میں آئینی ضمانت فراہم کی جائے، بلدیاتی اداروں کے اختیارات کو آئینی تحفظ دیا جائے، اور بلدیاتی انتخابات کی تحلیل کے بعد مقررہ آئینی مدت میں انتخابات کرائے جائیں۔

ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ "ہم نے ہمیشہ جمہوریت کو عملی طور پر عوام کے فائدے کے لیے کارآمد بنانے کی بات کی ہے، اور ہم یہی مطالبہ ستائیسویں ترمیم پر بھی حکومت سے کر رہے ہیں۔” ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ شہری سندھ کی سیاسی حیثیت کو مضبوط کیے بغیر آئینی ترمیم کا کوئی فائدہ عوام تک نہیں پہنچ سکتا۔

بی اے پی اور بلوچستان کے مطالبات

دوسری طرف، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے بھی حکومت کی حمایت کو اپنی شرائط سے مشروط کیا ہے۔ بی اے پی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ آئینی ترمیم میں بلوچستان کی قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے گا، لیکن تاحال اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ پارٹی کا موقف ہے کہ بلوچستان کی آبادی، رقبے اور پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ پارلیمنٹ میں صوبے کے مسائل کو مؤثر انداز میں اُجاگر کیا جا سکے۔

بی اے پی کے رہنماؤں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی کابینہ میں بلوچستان کو دو نئے قلم دان دیے جائیں: ایک اقتصادی امور اور دوسرا بین الصوبائی رابطے کی وزارت۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس سے صوبے کی ترقیاتی سکیموں کی براہِ راست نگرانی ممکن ہو گی اور بلوچستان کے مسائل بہتر طور پر حل ہو سکیں گے۔

مسلم لیگ ق اور پنجاب کے مسائل

مسلم لیگ ق نے بھی پنجاب میں اپنے محدود ہوتے اختیارات کو بچانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ چودھری سالک حسین کی قیادت میں مسلم لیگ ق کے وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔ مسلم لیگ ق کے رہنماؤں نے پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت بالخصوص مریم نواز کی جانب سے اس کے وزیروں کے گجرات اور گردونواح کے اضلاع میں اختیارات محدود کرنے پر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی کی تعیناتیوں میں مشاورت کے مطالبات کے بغیر پنجاب میں مؤثر حکمرانی ممکن نہیں۔

پیپلز پارٹی کا موقف: صوبائی خودمختاری کا تحفظ

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس آئینی ترمیم پر محتاط مگر مضبوط موقف اپنایا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح طور پر کہا ہے کہ پارٹی اٹھارویں آئینی ترمیم پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ستائیسویں ترمیم کے ذریعے وفاقی حکومت اختیارات کو دوبارہ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گی یا صوبوں کے دائرہ کار کو محدود کرے گی، تو پیپلز پارٹی اس کی سخت مزاحمت کرے گی۔

پیپلز پارٹی نے حکومت سے تحریری یقین دہانی مانگی ہے کہ کسی بھی نئی آئینی ترمیم کے نتیجے میں صوبائی خودمختاری متاثر نہیں ہوگی اور وفاق و صوبوں کے درمیان طاقت کے توازن کو برقرار رکھا جائے گا۔ حکومت نے پیپلز پارٹی کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر صوبائی اختیارات سے متعلق اتفاق رائے نہ ہو سکا تو اس معاملے کو موجودہ آئین سے نکال دیا جائے گا اور دیگر ترامیم پر اتفاق کیا جائے گا۔

چھوٹے اتحادیوں اور آزاد ارکان کی حمایت کے بدلے مطالبات

حکومت کے چھوٹے اتحادی اور آزاد ارکانِ پارلیمنٹ بھی اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے اجرا اور مخصوص وزارتوں کے حصول کے خواہاں ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی اور بعض آزاد ارکان نے اپنی حمایت کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی سے مشروط کیا ہے۔ ان تمام مطالبات کے ساتھ ساتھ، سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتیں مستقبل کے سیاسی منظرنامے کے حوالے سے غیرعلانیہ یقین دہانیاں بھی چاہتی ہیں۔ بعض جماعتوں نے آئندہ عام انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ، کابینہ میں اختیارات میں اضافے، اور اہم تعیناتیوں میں مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔

حزبِ اختلاف کا موقف: عدلیہ کی آزادی پر تحفظات

حزبِ اختلاف کی جماعتوں، خصوصاً پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس مجوزہ آئینی ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد عدلیہ کو پارلیمنٹ کے زیرِاثر لانا ہے، جس سے ریاستی اداروں کے درمیان توازن بگڑ جائے گا۔ پی ٹی آئی کے مطابق آئینی ترمیم کے نام پر اداروں کی حدود میں مداخلت پاکستان میں مزید سیاسی عدم استحکام پیدا کرے گی۔

حکومت کے لیے چیلنج: اتحادیوں کے مطالبات کا توازن

حکومت کے لیے ستائیسویں آئینی ترمیم نہ صرف قانون سازی کا عمل ہے بلکہ یہ ایک سیاسی امتحان بھی ہے۔ حکومت کے اتحادی جماعتوں کے ساتھ آئینی ترمیم کے حوالے سے مفاہمت کرنا ایک بڑا چیلنج ہو گا، کیونکہ ہر اتحادی اپنے مخصوص سیاسی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حمایت مشروط کر رہا ہے۔ اس ترمیم کا مقصد صرف آئینی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست میں طاقت کے توازن کی ازسرِنو تقسیم بھی ہے۔

حکومت کے چھوٹے اتحادیوں، بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں، اور شہری سندھ کے حقوق کے داعی ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں کے مطالبات آئندہ کے سیاسی منظرنامے کو متاثر کریں گے۔ یہ سوال اب پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے سے پہلے کون سی جماعت کس یقین دہانی کے بدلے میں اپنا ووٹ دے گی؟

آگے کا منظرنامہ:

حکومت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم، استحکام پاکستان پارٹی، اور بی اے پی کے وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد اتحادی جماعتوں کے خدشات کو سننا اور ان کے جائز مطالبات کو آئینی دائرے میں حل کرنا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ترمیمی بل کو قومی اتفاقِ رائے سے منظور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ یہ فیصلہ قومی استحکام کی علامت بن سکے۔

اگر حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کا عمل کامیاب ہو گیا تو یہ ترمیم ملک کے آئینی مستقبل کے حوالے سے ایک اہم قدم ثابت ہو گی۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی حزبِ اختلاف کی مزاحمت اور آئینی ترمیم کے اثرات پر عوامی ردعمل کا انتظار کیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button