پاکستاناہم خبریں

او آئی سی اجلاس: پاکستان کی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت، کشیدگی میں کمی اور انسانی امداد تک رسائی پر زور

پاکستان لبنان کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سفیروں کے ایک اہم اجلاس میں پاکستان نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور متاثرہ علاقوں تک بلا رکاوٹ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی فراہم کرنے پر زور دیا۔

یہ اجلاس اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوا، جس میں لبنان کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان کی نمائندگی اقوام متحدہ میں نائب مستقل نمائندے عثمان جدون نے کی۔

لبنان کی صورتحال “تباہ کن” قرار

اپنے خطاب میں عثمان جدون نے لبنان میں انسانی بحران کو “شدید اور تیزی سے بگڑتا ہوا” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اسرائیلی بمباری، خصوصاً جنوبی لبنان اور گنجان آباد شہری علاقوں میں، بڑے پیمانے پر شہری جانی و مالی نقصان کا سبب بنی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان لبنان کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت

پاکستانی نمائندے نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان حملوں کو فوری طور پر روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

لبنان کی حکومتی کوششوں کا خیر مقدم

اجلاس کے دوران پاکستان نے لبنان کی حکومت کی جانب سے استحکام کی بحالی اور ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کے اقدامات کو سراہا۔ خاص طور پر 2 مارچ کو کیے گئے کابینہ فیصلے کا ذکر کیا گیا، جس کا مقصد قومی سلامتی کے ڈھانچے کو مستحکم کرنا ہے۔

عثمان جدون نے لبنان کی قیادت کے چار نکاتی امن منصوبے کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا اور اسے خطے میں امن کے قیام کی جانب اہم قدم بتایا۔

امن فوجیوں پر حملوں کی مذمت

پاکستان نے اقوام متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان کے امن فوجیوں پر ہونے والے حملوں کی بھی سخت مذمت کی، جن میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

انسانی امداد اور فوری اقدامات کی ضرورت

پاکستانی نمائندے نے متاثرہ علاقوں میں فوری اور مؤثر انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی منصوبوں کے لیے مالی وسائل مہیا کیے جائیں اور امدادی کارکنوں کو بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت کشیدگی کم کرنے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی کوششوں کو دوبارہ فعال بنانے کی ہے تاکہ خطہ مزید عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔

پائیدار امن کے لیے سفارتکاری ناگزیر

اپنے اختتامی کلمات میں عثمان جدون نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن صرف مستقل سیاسی مذاکرات، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے انسانی بحران کو مزید گہرا ہونے سے روکے۔

اہم نکات:

  • او آئی سی اجلاس میں پاکستان نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی
  • لبنان کی انسانی صورتحال کو “تباہ کن” قرار دیا گیا
  • شہری علاقوں پر حملوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر تشویش
  • لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ
  • UN امن فوجیوں پر حملوں کی مذمت
  • فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور انسانی امداد تک رسائی پر زور
  • پائیدار امن کے لیے سفارتی حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری قرار

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عالمی برادری مشترکہ کوششوں کے ذریعے لبنان میں امن، استحکام اور انسانی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button