پاکستانتازہ ترین

پاکستان کا بگڑتی عالمی صورتِ حال کے تناظر میں اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کے مابین مضبوط تعاون پر زور

اس تناظر میں انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے باب ہشتم کے تحت علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو ایک اسٹریٹجک ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اقوامِ متحدہ: پاکستان نے بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی کے ماحول میں اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کے درمیان گہرے تعاون کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وسیع ہوتی جغرافیائی سیاسی خلیجیں کثیرالجہتی نظام کو کمزور کر رہی ہیں اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کو ایک نازک موڑ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کی شراکت داری سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور سے دیرینہ وابستگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور اقوامِ متحدہ کو مرکز بناتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے اس کے عزم کا خیرمقدم کرتا ہے۔
سفیر عاصم نے کہا کہ عالمی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں اسٹریٹجک مسابقت تعاون کی جگہ لے رہی ہے جس سے ایسے وقت میں عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے جب ترقیاتی خلیج کو کم کرنے اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
اس تناظر میں انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے باب ہشتم کے تحت علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو ایک اسٹریٹجک ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین جیسی علاقائی تنظیمیں امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ میں اہم شراکت دار ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2788، جو گزشتہ جولائی پاکستان کی صدارت میں منظور ہوئی، علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے کردار کو تسلیم کرتی ہے جو تنازعات کی روک تھام اور پرامن حل میں اقوامِ متحدہ کی کوششوں کو تقویت دیتی ہیں، اور رکن ممالک کو ایسے تعاون کو مضبوط بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔
سفیر عاصم نے کہا کہ حالیہ تنازعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بحران جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہتے۔ مغربی ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف اقوامِ متحدہ کے منشور پر مبنی ہے، اور وہ مسلسل مکالمے، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کی وکالت کرتا ہے۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت پر یورپی یونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کی آوازیں اجتماعی امن کی کوششوں کو تقویت دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم سفارتی اور انسانی ہمدردی کا کردار ادا کر رہی ہے، اور مسئلہ فلسطین پر اس کے اصولی مؤقف کو سراہا، جس میں بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی حمایت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کا اثر و رسوخ فلسطینی عوام کی مشکلات کم کرنے اور ان کے جائز حقوق، بشمول حقِ خودارادیت اور ریاستی حیثیت، کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے یوکرین کے تنازع کے بارے میں بھی امید ظاہر کی کہ وہ تمام متعلقہ فریقین کے مفادات کے مطابق بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل ہو گا۔
انہوں نے ان عالمی چیلنجز کی نشاندہی کی جو بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو متاثر کر رہے ہیں، جن میں غذائی عدم تحفظ، پانی کی قلت، توانائی میں اتار چڑھاؤ، سپلائی چین میں خلل، وبائیں، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات شامل ہیں۔ انہوں نے 2030 ایجنڈا، پیرس معاہدہ، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور انسانی ہمدردی کی امداد کے لیے یورپی یونین کے عزم کا خیرمقدم کیا، اور کہا کہ اقوامِ متحدہ کے اداروں، فنڈز اور پروگرامز کے لیے اس کی مسلسل حمایت نہایت بروقت اور اہم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ترقیاتی تعاون میں کمی آ رہی ہے۔
سفیر عاصم نے امن مشنز اور امن سازی میں یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے تعاون کو بھی سراہا، جس میں رضاکارانہ مالی معاونت، فوجی و پولیس دستے فراہم کرنے والے ممالک کی استعداد کار میں اضافہ، اور سیکیورٹی سیکٹر اصلاحات، قانون کی حکمرانی کے اداروں اور استحکام کی کوششوں میں معاونت شامل ہے۔
انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے مضبوط شراکتی تعلقات کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس فریم ورک نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت میں اضافہ کیا ہے اور یہ باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی تعاون کی ایک کامیاب مثال ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین مشترکہ اقدار اور مفادات رکھتے ہیں جو مسلسل مکالمے اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے ایک زیادہ مستحکم، خوشحال اور منصفانہ مستقبل کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button