
مدثر احمد- امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان نے یمن میں جاری بحران کے تناظر میں خبردار کیا ہے کہ سیاسی عمل کو درپیش سنگین چیلنجز کے باعث ایک جامع اور پائیدار حل کے لیے فوری طور پر تجدید سیاسی عزم ناگزیر ہو چکا ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کے مسئلے کا حل صرف ایک ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ممکن ہے جو اقوام متحدہ کی سہولت کاری میں، یمنی قیادت اور ملکیت کے تحت آگے بڑھایا جائے اور جو ملک کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرے۔
یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یمن سے متعلق خصوصی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
یمن کی صورتحال بدستور تشویشناک
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یمن کی مجموعی صورتحال بدستور نہایت تشویشناک ہے اور اس پر مسلسل بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع سیاسی تصفیے کی جانب ٹھوس پیش رفت ممکن ہے، تاہم اس کے لیے سنجیدہ اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یمن کی اندرونی سیاسی حرکیات امن کے عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ اگرچہ صدارتی قیادت کونسل ایک تسلیم شدہ اتھارٹی ہے، لیکن مختلف سیاسی ایجنڈوں کے حامل عناصر، خاص طور پر جنوبی علاقوں میں، قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ایک مضبوط ریاستی ڈھانچے کی تشکیل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
تقسیم اور عدم استحکام کے خطرات
پاکستانی نمائندے نے خبردار کیا کہ داخلی تقسیم ریاستی اداروں کو مزید کمزور کر سکتی ہے اور جامع سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے تمام یمنی اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ تعمیری اور بامقصد مذاکرات میں شریک ہوں اور ایسا سیاسی عمل اپنائیں جو یمنی عوام کی جائز امنگوں کی حقیقی عکاسی کرے۔
علاقائی تناظر اور عالمی اثرات
سفیر جدون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یمن کی صورتحال کو وسیع تر علاقائی سلامتی کے تناظر سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کو کسی بڑے علاقائی تنازعے کا حصہ بننے سے بچایا جائے۔
انہوں نے خاص طور پر بحری راستوں پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور خوراک کی سپلائی چین کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے باب المندب کے ذریعے تجارتی جہازرانی کے آزادانہ اور بلا رکاوٹ بہاؤ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
غیر ریاستی عناصر اور کشیدگی میں اضافہ
پاکستان نے یمن کے تنازع میں غیر ریاستی عناصر کی شمولیت پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کریں تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔
انسانی بحران: فوری اقدامات کی ضرورت
یمن میں انسانی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر جدون نے کہا کہ حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں اور فوری، مربوط اور مسلسل امدادی کارروائیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کا دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے 2026 کے انسانی ضروریات و ردعمل منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ:
- 22.3 ملین افراد کو فوری انسانی امداد اور تحفظ درکار ہے
- 18.3 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں
- 19.3 ملین افراد بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں
انہوں نے عالمی برادری اور عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ مالی امداد میں اضافہ کریں اور اسے زیادہ لچکدار اور بروقت بنائیں تاکہ ضرورت مند افراد تک مؤثر طریقے سے مدد پہنچائی جا سکے۔
انسانی امداد تک بلا رکاوٹ رسائی پر زور
پاکستان نے زمین پر موجود تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ امدادی تنظیموں کو محفوظ، فوری اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں بہتر رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی حراست کی مذمت
سفیر جدون نے اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے عملے کی مسلسل من مانی حراست اور حوثی کنٹرول والے علاقوں میں اقوام متحدہ کے اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام زیر حراست اہلکاروں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور اقوام متحدہ کے عملے کے استحقاق اور مراعات کا مکمل احترام کیا جائے۔
امن کے لیے عالمی کردار ضروری
اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستانی مندوب نے کہا کہ یمن میں پائیدار امن کے لیے ایک جامع سیاسی حل، مضبوط انسانی امداد اور مستحکم علاقائی ماحول ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ایک متحد اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے یمن میں امن، استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنائے۔
اہم نکات:
- پاکستان کا یمن میں جامع سیاسی حل کے لیے تجدید عزم پر زور
- داخلی تقسیم کو امن عمل کے لیے بڑا خطرہ قرار
- بحری راستوں پر حملوں کو عالمی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا
- انسانی بحران انتہائی سنگین، لاکھوں افراد امداد کے منتظر
- اقوام متحدہ کے عملے کی حراست اور اثاثوں پر قبضے کی مذمت
- عالمی برادری سے فوری، مربوط اور مؤثر اقدامات کی اپیل
ماہرین کے مطابق، پاکستان کا یہ مؤقف نہ صرف یمن کے بحران کے حل کے لیے ایک متوازن اور اصولی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالمی برادری کو ایک بار پھر متحرک کردار ادا کرنے کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔



