
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز وزیر اعظم آفس کے ساتھ
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف 15 سے 18 اپریل 2026 تک سعودی عرب، قطر اور ترکی کے اہم سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جسے پاکستان کی فعال اور متوازن خارجہ پالیسی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کرے گا۔
دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم سعودی عرب اور قطر جائیں گے، جہاں وہ ان ممالک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ سعودی عرب میں وزیراعظم کی متوقع ملاقاتیں محمد بن سلمان سمیت اعلیٰ حکام سے ہوں گی، جن میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع، توانائی کے شعبے میں اشتراک اور پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود قریبی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور نئے معاہدوں کے امکانات بھی زیر غور آئیں گے۔
قطر کے دورے کے دوران وزیراعظم وہاں کی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، افرادی قوت اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ قطر پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے، خاص طور پر توانائی اور ایل این جی سپلائی کے حوالے سے، جبکہ پاکستانی افرادی قوت کی ایک بڑی تعداد بھی قطر میں خدمات انجام دے رہی ہے۔
دورے کے دوسرے مرحلے میں وزیراعظم ترکی جائیں گے، جہاں وہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ اس عالمی فورم میں دنیا بھر سے سربراہان مملکت، وزرائے خارجہ، پالیسی ساز اور ماہرین شریک ہوں گے۔ وزیراعظم فورم کے لیڈرز پینل میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے، جس میں علاقائی امن، عالمی تعاون، معیشت، موسمیاتی تبدیلی اور جیوپولیٹیکل چیلنجز جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے۔
ترکی میں قیام کے دوران وزیراعظم کی رجب طیب ایردوان سے ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید فروغ دینے پر بات چیت ہوگی۔ پاکستان اور ترکی کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ہیں، اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اس دورے کے دوران وزیراعظم دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے، جس کا مقصد پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنا اور اہم بین الاقوامی مسائل پر حمایت حاصل کرنا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی “فعال سفارت کاری” کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت ملک عالمی فورمز پر اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کو بڑھا رہا ہے۔
فورم میں پاکستان کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک تعمیری سفارت کاری، کثیرالجہتی تعاون اور عالمی برادری کے ساتھ بامعنی روابط کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔ پاکستان نہ صرف علاقائی تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں بھی اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔
وزیراعظم کے ہمراہ اس اہم دورے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل ہوں گے۔ یہ اعلیٰ سطحی وفد مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور طے پانے والے ممکنہ معاہدوں کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کا یہ تین ممالک کا دورہ نہ صرف اقتصادی اور سفارتی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس سے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ، سرمایہ کاری کے مواقع اور علاقائی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان معیشت کے استحکام، خارجہ تعلقات کے فروغ اور عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔



