کاروبارتازہ ترین

پاکستان، اٹلی اور ڈنمارک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق، عالمی تعاون کے نئے امکانات روشن

ملاقات کے دوران وزیر تجارت نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کو اجاگر کیا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،ڈپلومیٹک انکلیو کے ساتھ
پاکستان، اٹلی اور ڈنمارک نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جسے بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی حالات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اتفاق رائے اسلام آباد میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان میں اٹلی کی سفیر ماریلینا ارمیلن اور پاکستان میں ڈنمارک کی سفیر ماجا مورٹینسن کی ملاقات کے دوران سامنے آیا، جس میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور نئے اقتصادی مواقع تلاش کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیر تجارت نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتی کوششیں کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بات چیت کے فروغ کیلئے بھی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اہم سمندری گزرگاہوں، جیسے آبنائے ہرمز، میں حالیہ رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے باعث توانائی، خوراک، ادویات اور صنعتی خام مال کی عالمی سپلائی چینز متاثر ہو رہی ہیں، جس سے متنوع تجارتی شراکت داری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
وزیر تجارت نے پاکستان کی اقتصادی صلاحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی 25 کروڑ سے زائد آبادی، قدرتی وسائل کی دستیابی اور جغرافیائی محل وقوع اسے سرمایہ کاری کیلئے ایک پرکشش منزل بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی کس آمدنی میں بہتری کے ساتھ پاکستان ایک بڑی صارف مارکیٹ کے طور پر ابھر سکتا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ اس موقع پر اطالوی اور ڈنمارک کے سفیروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کو تسلیم کرتے ہوئے غیر روایتی شعبوں میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
ملاقات میں نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت جاری اصلاحات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر نے بتایا کہ حکومت پانچ سالہ منصوبے کے تحت ٹیرف کو بتدریج کم کر رہی ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ اور مسابقت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں دنیا کے کئی ممالک معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث تحفظ پسندانہ پالیسیوں کی طرف جا رہے ہیں، وہیں پاکستان ٹیرف میں کمی کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یہ اصلاحات مقامی صنعت کے تحفظ اور اعلیٰ معیار کے خام مال کی درآمد میں توازن برقرار رکھتے ہوئے جاری رکھی جائیں گی۔
ڈیری سیکٹر کے حوالے سے بھی اہم بات چیت ہوئی، جہاں پاکستان میں اس شعبے کی بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔ ڈنمارک کی جانب سے ایسے جدید منصوبوں کا ذکر کیا گیا جن کے ذریعے دودھ سے حاصل ہونے والے ضمنی اجزاء، جیسے چھینے (whey)، کو ضائع ہونے سے بچا کر ویلیو ایڈڈ مصنوعات مثلاً پروٹین ڈرنکس اور بارز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ وزیر تجارت نے اس حوالے سے ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری اور مہارتوں کی ترقی کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کا ڈیری سیکٹر جدید خطوط پر استوار ہو سکتا ہے اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
سرمایہ کاری کے ماحول اور دانشورانہ املاک کے تحفظ کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سفیروں نے بالخصوص فارماسیوٹیکل شعبے میں مجوزہ پالیسی تبدیلیوں پر کچھ خدشات کا اظہار کیا، جس پر وزیر تجارت نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان بین الاقوامی معیارات کے مطابق آئی پی قوانین پر عملدرآمد جاری رکھے گا اور کسی بھی پالیسی اقدام سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار دوست ماحول کو فروغ دینے اور قانونی تحفظ کو مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے۔
وزیر تجارت نے برآمدات کے نئے مواقعوں پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر لائیو اسٹاک اور گوشت کے شعبوں میں، جہاں عالمی سپلائی میں خلل کے باعث پاکستان کیلئے نئی منڈیاں کھل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے ضروری ہے کہ رسمی معیشت کو مضبوط بنایا جائے، معیار کو بہتر کیا جائے اور برآمدی صلاحیت کو بڑھایا جائے۔
ملاقات کے اختتام پر تینوں ممالک کے درمیان اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وہ اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دیں گے، دوطرفہ تجارت میں اضافہ کریں گے اور کاروباری برادریوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنائیں گے۔ اس پیش رفت کو پاکستان، اٹلی اور ڈنمارک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات اور مستقبل میں وسیع تر تعاون کیلئے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button