بین الاقوامیاہم خبریں

پاکستان میں امریکہ–ایران مذاکرات کا امکان، وائٹ ہاؤس نے اسلام آباد کو مرکزی ثالث قرار دے دیا

ترجمان نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں مکمل ناکہ بندی نافذ کر دی گئی ہے

مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سفارتی سرگرمیاں تیزی اختیار کر گئی ہیں، اور اب یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا اہم مرحلہ پاکستان میں منعقد ہو سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بدھ کے روز میڈیا بریفنگ کے دوران اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیا۔

ترجمان کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو اس حساس معاملے میں ایک قابلِ اعتماد ثالث سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ”پاکستانی اس سارے عمل میں غیر معمولی ثالث ثابت ہوئے ہیں، اور ہم ان کی کوششوں کو بے حد سراہتے ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ دیگر ممالک نے بھی ثالثی کی پیشکش کی ہے، تاہم امریکہ کی ترجیح یہی ہے کہ ایران کے ساتھ رابطے کا سلسلہ پاکستان کے ذریعے ہی جاری رکھا جائے۔
ذرائع کے مطابق، مذاکرات کا اگلا دور ممکنہ طور پراسلام آبادمیں ہی منعقد ہوگا، جہاں پہلے بھی بات چیت کا ایک دور ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا”اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے، اور ہم وہاں (پاکستان) جانے کی طرف زیادہ مائل ہیں۔”
یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ اس معاملے میں پاکستان کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے۔
ترجمان نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں مکمل ناکہ بندی نافذ کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام ایران کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے تمام بحری جہازوں کے خلاف کیا گیا ہے، جس سے عالمی تجارتی سرگرمیوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ایک اور اہم پیش رفت میں، ترجمان نے کہا کہ جنپنگ نے صدر ٹرمپ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو اس بحران کے دوران ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ یہ بیان عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
کیرولین لیویٹ نے ان خبروں کی بھی سختی سے تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ جنگ بندی میں توسیع کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق”ایسی تمام خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں۔”
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوا تھا، تاہم دونوں فریق اب بھی سفارتی راستہ اختیار کرنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی اس پورے عمل میں ایک اہم عنصر بن کر ابھری ہے، جو خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو ظاہر کرتی ہے۔
حالیہ بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ، ایران اور دیگر عالمی طاقتیں ایک نازک موڑ پر کھڑی ہیں، جہاں کسی بھی پیش رفت کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی نہ صرف خطے میں امن کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی سفارت کاری میں اس کے کردار کو بھی نئی جہت دے رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button