
پاکستان-ترکی دفاعی تعاون میں اہم سنگِ میل: مشترکہ کمانڈو مشق "جناح XIII” کامیابی سے مکمل
شرکاء نے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتے ہوئے جدید جنگی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملیوں پر کام کیا
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز سیکورٹی فورسز کے ساتھ
پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کمانڈو اور اسپیشل فورسز کی مشق "جناح XIII” کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کی افواج نے بھرپور پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ یہ مشق انسداد دہشت گردی کے میدان میں تعاون کو فروغ دینے اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
مشق کے دوران پاکستان آرمی کی خصوصی جنگی ٹیموں نے ترک افواج کے ساتھ مل کر مختلف تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ یہ سرگرمیاں خاص طور پر انقرہ اور اسپارتا میں منعقد ہوئیں، جہاں عملی مشقوں کے ذریعے جدید جنگی مہارتوں کو مزید نکھارا گیا۔
اس مشترکہ مشق کا بنیادی مقصد انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے متعلق حکمت عملی، طریقہ کار اور تکنیکی مہارتوں کو بہتر بنانا تھا۔ دونوں ممالک کے کمانڈوز نے شہری علاقوں میں جنگ (Urban Warfare) کے پیچیدہ مراحل پر خصوصی توجہ دی، جہاں محدود وسائل اور مشکل حالات میں مؤثر کارروائی کی تربیت دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (IEDs) سے نمٹنے کے لیے جدید تکنیکوں اور حفاظتی اقدامات کی بھی مشق کی گئی، جو موجودہ دور کی جنگی صورتحال میں نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔
مشق "جناح XIII” کے دوران دونوں افواج کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور مشترکہ آپریشنل صلاحیتوں کو فروغ ملا۔ شرکاء نے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتے ہوئے جدید جنگی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملیوں پر کام کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے دستوں نے اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ معیار، نظم و ضبط اور آپریشنل مہارت کا مظاہرہ کیا، جسے عسکری ماہرین نے انتہائی سراہا۔
اس مشق کے ذریعے نہ صرف تربیتی اہداف کامیابی سے حاصل کیے گئے بلکہ فوجی سفارت کاری کے میدان میں بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید تقویت ملی، جو دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بھی مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی مشترکہ مشقیں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہیں بلکہ دہشت گردی جیسے مشترکہ خطرات کے خلاف مؤثر اور مربوط حکمت عملی تشکیل دینے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
مشق "جناح XIII” اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اور ترکی مستقبل میں بھی دفاعی تعاون کو مزید وسعت دیں گے اور مشترکہ تربیت کے ذریعے اپنی افواج کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرتے رہیں گے، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔



