
ایران کے دورے پر گئے ہوئے پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات 16 اپریل کے روز تہران میں ملکی رہنماؤں کے ساتھ اپنے ملاقاتیں جاری رکھیں، تاکہ ایران اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات کے دوسرے دور کو ممکن بنایا جا سکے اور مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ کی وجہ سے جاری شدید کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قومی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ ان کا دورہ ایران کب ختم ہو گا۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ کے آغاز کو اب تقریباﹰ سات ہفتے ہو چکے ہیں اور ان دنوں اس جنگ میں دو ہفتے کی فائر بندی ہے، جس کی مدت 22 اپریل کو پوری ہو گی۔

اس سیزفائر کے آغاز کے چند روز بعد پاکستان میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ نمائندوں کے مابین کئی عشروں بعد پہلی بار براہ راست مذاکرات بھی ہوئے تھے، جن کے لیے ثالثی پاکستان نے کی تھی لیکن 21 گھنٹوں میں ہونے والی تین نشستوں میں فریقین کے مابین کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔
ان مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں واشنگٹن کا وفد اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد واپس روانہ ہو گئے تھے۔
ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی کے باوجود ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش ابھی جاری ہے جبکہ امریکی بحریہ کے مطابق اس نے اس تنگ سمندری راستے میں تمام ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام مال بردار بحری جہازوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

پاکستان میں امریکی ایرانی امن مذاکرات کے اگلے دور کے لیے ابھی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان کی ثالثی میں ہی اسی ہفتے منعقد ہو سکتا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اسی سلسلے میں کل بدھ کو ایران پہنچے تھے، جہاں ان کے ساتھ ملکی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ایران میں ہیں۔
مختلف نیوز ایجنسیوں کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے پھر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ممکنہ طور پر پاکستانی دارالحکومت ہی میں ہو گا۔ لیکن یہ مذاکرات ابھی ممکن ہوتے نظر نہیں آتے۔ قبل ازیں پاکستانی اور امریکی حکام نے امید ظاہر کی تھی کہ مکالمت کا یہ دوسرا دور پاکستانی دارالحکومت میں جمعرات 16 اپریل کو ہو سکتا تھا۔
اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے آج جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’ابھی تک ان مذاکرات کے لیے کسی تاریخ کا تعین نہیں ہوا۔ جیسے ہی اس نئی مکالمت کے لیے کوئی تاریخ طے ہو گئی، ہم اس کا فوری طور پر اعلان کر دیں گے۔‘‘




