پاکستاناہم خبریں

ایرانی امریکی مذاکرات کے نئے دور کی کوششیں، پاکستانی فوج کے سربراہ کی ایران میں ملاقاتیں

ایران کے دورے پر گئے ہوئے پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات 16 اپریل کے روز تہران میں ملکی رہنماؤں کے ساتھ اپنے ملاقاتیں جاری رکھیں

پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ہمراہ، جمعرات کے روز لی گئی تصویر

پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ہمراہ، جمعرات کے روز لی گئی تصویرتصویر: Hamed Malekpour/Islamic Consultative Assembly News Agency/AP Photo/dpa/picture alliance

ایران کے دورے پر گئے ہوئے پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات 16 اپریل کے روز تہران میں ملکی رہنماؤں کے ساتھ اپنے ملاقاتیں جاری رکھیں، تاکہ ایران اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات کے دوسرے دور کو ممکن بنایا جا سکے اور مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ کی وجہ سے جاری شدید کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قومی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ ان کا دورہ ایران کب ختم ہو گا۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ کے آغاز کو اب تقریباﹰ سات ہفتے ہو چکے ہیں اور ان دنوں اس جنگ میں دو ہفتے کی فائر بندی ہے، جس کی مدت 22 اپریل کو پوری ہو گی۔

فیلڈ مارشل عاصم، منیر، بائیں، ایرانی وزیر خا‍رجہ عباس عراقچی کے ساتھ
فیلڈ مارشل عاصم، منیر، بائیں، ایرانی وزیر خا‍رجہ عباس عراقچی کے ساتھتصویر: Iranian Foreign Ministry/UPI/newscom/picture alliance

اس سیزفائر کے آغاز کے چند روز بعد پاکستان میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ نمائندوں کے مابین کئی عشروں بعد پہلی بار براہ راست مذاکرات بھی ہوئے تھے، جن کے لیے ثالثی پاکستان نے کی تھی لیکن  21 گھنٹوں میں ہونے والی تین نشستوں میں فریقین کے مابین کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔

ان مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں واشنگٹن کا وفد اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد واپس روانہ ہو گئے تھے۔

ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی کے باوجود ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش ابھی جاری ہے جبکہ امریکی بحریہ کے مطابق اس نے اس تنگ سمندری راستے میں تمام ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام مال بردار بحری جہازوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

تہران میں پاکستانی اور ایرانی وفود کی کل بدھ کے روز ہونے والی ایک ملاقات کی تصویر
تہران میں پاکستانی اور ایرانی وفود کی کل بدھ کے روز ہونے والی ایک ملاقات کی تصویرتصویر: Iranian Foreign Ministry/Anadolu/picture alliance

پاکستان میں امریکی ایرانی امن مذاکرات کے اگلے دور کے لیے ابھی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان کی ثالثی میں ہی اسی ہفتے منعقد ہو سکتا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اسی سلسلے میں کل بدھ کو ایران پہنچے تھے، جہاں ان کے ساتھ ملکی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ایران میں ہیں۔

مختلف نیوز ایجنسیوں کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے پھر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ممکنہ طور پر پاکستانی دارالحکومت ہی میں ہو گا۔ لیکن یہ مذاکرات ابھی ممکن ہوتے نظر نہیں آتے۔ قبل ازیں پاکستانی اور امریکی حکام نے امید ظاہر کی تھی کہ مکالمت کا یہ دوسرا دور پاکستانی دارالحکومت میں جمعرات 16 اپریل کو ہو سکتا تھا۔

اسلام آباد امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے آج جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’ابھی تک ان مذاکرات کے لیے کسی تاریخ کا تعین نہیں ہوا۔ جیسے ہی اس نئی مکالمت کے لیے کوئی تاریخ طے ہو گئی، ہم اس کا فوری طور پر اعلان کر دیں گے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button