بین الاقوامیاہم خبریں

دریائے لیطانی اور اسرائیلی سرحد کے درمیان لبنانی علاقے میں اسرائیلی فوجی حملوں کا مقصد کیا؟

ان کارروائیوں کا مقصد سرحد سے دریا کے درمیان تک کے علاقے میں ایک بفر زون قائم کرنا ہے

دریائے لیطانی پر بنا لیکن اسرائیلی فوج کی طرف سے تباہ کر دیا گیا ایک پل

اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے دریائے لیطانی کے ساتھ ساتھ بنے کئی پل اس لیے تباہ کر دیے کہ حزب اللہ کے سپلائی روٹ ختم کیے جا سکیںتصویر: Ahmad Kaddoura/Anadolu Agency/IMAGO

اسرائیل اپنی سرحد اور جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے درمیان لبنانی علاقے میں گھروں کو منہدم کرتے اور مقامی باشندوں کو وہاں سے نکالتے ہوئے اپنی کارروائیاں تیز کرتا جا رہا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد سرحد سے دریا کے درمیان تک کے علاقے میں ایک بفر زون قائم کرنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں یہ خطہ بہت زیادہ اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل کیوں ہے؟

مشرق وسطیٰ کے علاقائی سطح پر کافی پھیلے ہوئے خونریز تنازعے میں لبنان میں ایک چھوٹا دریا بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے اور مسلح کارروائیوں کا مرکز بھی بنا ہوا ہے۔ لبنان میں 145 کلومیٹر (90 میل) طویل دریائے لیطانی اسرائیل اور ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مابین جنگ کا اولین محاذ بن چکا ہے۔

یہی دریا اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد اور اس کے احترام کی صورت حال کتنی نازک ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگی کشیدگی مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہے لیکن اس ملک میں طویل عرصے سے تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل (UNIFIL) کا مینیڈیٹ رواں برس کے اختتام پر فنڈز کی کمی کی وجہ سے ختم ہو جائے گا۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں سے تباہ شدہ عمارات اور اقوام متحدہ کے یونیفل امن دستوں کا ایک فوجی اپنا نیلا ہیلمٹ پہنے ہوئے
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں سے تباہ شدہ عمارات اور اقوام متحدہ کے یونیفل امن دستوں کا ایک فوجی اپنا نیلا ہیلمٹ پہنے ہوئےتصویر: Silvia Casadei/MEI/SIPA/picture alliance

یونیفل لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فوج کے نام کا مخفف ہے اور اس امن مشن میں شامل بین الاقوامی فوجی دستے 1978ء سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی علاقے میں مسسل فرائض انجام دے رہے ہیں۔

لبنان کے ریاستی علاقے میں اسرائیل کا قائم کردہ بفر زون

اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جو موجودہ جنگ 28 فروری کو ایران پر فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی، اس میں اب دو ہفتوں کی فائر بندی پر عمل درآمد جاری ہے۔ اس جنگ میں دو مارچ کو لبنان میں حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کر دیے تھے، جن کے بعد سے اسرائیل لبنان کے وسیع تر علاقوں میں اپنے فضائی اور زمینی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل اپنی قومی سرحد اور جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے درمیانی علاقے کو ایک بفر زون میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ اسرائیلی شہریوں کو لبنان سے کیے جانے والے حملوں کے خلاف تحفظ فراہم  کیا جا سکے۔

کٹر دائیں بازو کے سیاست دان اور اسرائیلی وزیر خزانہ اسموٹریچ
کٹر دائیں بازو کے سیاست دان اور اسرائیلی وزیر خزانہ اسموٹریچتصویر: Bezalel Smotrich/newscom/picture alliance

اس بفر زون کے قیام کے لیے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کئی دنوں سے وہاں مقامی آبادی کو انخلا کے لیے کہہ رہی ہے اور وہاں گھروں کو بھی بلڈوزروں کے ساتھ منہدم کیا جا رہا ہے۔

اس پس منظر میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں رہنے والے باشندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ نقل مکانی کر کیے اپنی حفاظت کے لیے دریائے لیطانی کے شمال میں چلے جائیں۔

اضافی مواد دکھایا جائے؟
یہ مواد اس متن کا حصہ ہے، جسے آپ پڑھ رہے ہیں۔ یہ مواد X / Twitter نے فراہم کیا ہے اور جب آپ ’’مواد دکھائیں‘‘ پر کلک کریں گے تو وہ ممکنہ طور پر براہ راست آپ کے استعمال کا ڈیٹا جمع کر سکتے ہیں۔

ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے اس لبنانی علاقے میں اب تک کئی پل اس لیے تباہ کر دیے ہیں کہ وہاں حزب اللہ کو سپلائی کے لیے استعمال ہونے والے راستوں کو بند کیا جا سکے۔

دریائے لیطانی کو لازمی طور پر اسرائیل کی نئی سرحد بنا دینا چاہیے، وزیر خزانہ اسموٹریچ

اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ جنوبی لبنان میں  جتنے بھی پل باقی بچے ہیں، اسرائیلی فوج ان کو کنٹرول کرے گی اور ساتھ ہی دریائے لیطانی تک ایک سکیورٹی زون قائم کر دیا جائے گا۔ دریائے لیطانی اسرائیل کی سرحد سے شمالی کی طرف تقریباﹰ 30 کلومیٹر (18 میل) کے فاصلے پر لبنانی ریاستی علاقے میں ہے۔

اسرائیل کے کٹر دائیں بازو کے وزیر خزانہ اسموٹریچ نے تو اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے ساتھ ایک انٹرویو میں گزشتہ ماہ کے اواخر میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اسرائیل کو اپنی موجودہ قومی سرحد کو وسعت دیتے ہوئے اسے لبنان کے اندر دریائے لیطانی کے کنارے تک پھیلا دینا چاہیے۔

اسموٹریچ کے الفاظ میں، ’’دریائے لیطانی کو لازمی طور پر لبنانی ریاست کے ساتھ اسرائیل کی نئی قومی سرحد بننا چاہیے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button