
دریائے لیطانی اور اسرائیلی سرحد کے درمیان لبنانی علاقے میں اسرائیلی فوجی حملوں کا مقصد کیا؟
ان کارروائیوں کا مقصد سرحد سے دریا کے درمیان تک کے علاقے میں ایک بفر زون قائم کرنا ہے
اسرائیل اپنی سرحد اور جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے درمیان لبنانی علاقے میں گھروں کو منہدم کرتے اور مقامی باشندوں کو وہاں سے نکالتے ہوئے اپنی کارروائیاں تیز کرتا جا رہا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد سرحد سے دریا کے درمیان تک کے علاقے میں ایک بفر زون قائم کرنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں یہ خطہ بہت زیادہ اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل کیوں ہے؟
مشرق وسطیٰ کے علاقائی سطح پر کافی پھیلے ہوئے خونریز تنازعے میں لبنان میں ایک چھوٹا دریا بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے اور مسلح کارروائیوں کا مرکز بھی بنا ہوا ہے۔ لبنان میں 145 کلومیٹر (90 میل) طویل دریائے لیطانی اسرائیل اور ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مابین جنگ کا اولین محاذ بن چکا ہے۔
یہی دریا اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد اور اس کے احترام کی صورت حال کتنی نازک ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگی کشیدگی مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہے لیکن اس ملک میں طویل عرصے سے تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل (UNIFIL) کا مینیڈیٹ رواں برس کے اختتام پر فنڈز کی کمی کی وجہ سے ختم ہو جائے گا۔

یونیفل لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فوج کے نام کا مخفف ہے اور اس امن مشن میں شامل بین الاقوامی فوجی دستے 1978ء سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی علاقے میں مسسل فرائض انجام دے رہے ہیں۔
لبنان کے ریاستی علاقے میں اسرائیل کا قائم کردہ بفر زون
اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جو موجودہ جنگ 28 فروری کو ایران پر فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی، اس میں اب دو ہفتوں کی فائر بندی پر عمل درآمد جاری ہے۔ اس جنگ میں دو مارچ کو لبنان میں حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کر دیے تھے، جن کے بعد سے اسرائیل لبنان کے وسیع تر علاقوں میں اپنے فضائی اور زمینی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل اپنی قومی سرحد اور جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے درمیانی علاقے کو ایک بفر زون میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ اسرائیلی شہریوں کو لبنان سے کیے جانے والے حملوں کے خلاف تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

اس بفر زون کے قیام کے لیے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کئی دنوں سے وہاں مقامی آبادی کو انخلا کے لیے کہہ رہی ہے اور وہاں گھروں کو بھی بلڈوزروں کے ساتھ منہدم کیا جا رہا ہے۔
اس پس منظر میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں رہنے والے باشندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ نقل مکانی کر کیے اپنی حفاظت کے لیے دریائے لیطانی کے شمال میں چلے جائیں۔
ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے اس لبنانی علاقے میں اب تک کئی پل اس لیے تباہ کر دیے ہیں کہ وہاں حزب اللہ کو سپلائی کے لیے استعمال ہونے والے راستوں کو بند کیا جا سکے۔
دریائے لیطانی کو لازمی طور پر اسرائیل کی نئی سرحد بنا دینا چاہیے، وزیر خزانہ اسموٹریچ
اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ جنوبی لبنان میں جتنے بھی پل باقی بچے ہیں، اسرائیلی فوج ان کو کنٹرول کرے گی اور ساتھ ہی دریائے لیطانی تک ایک سکیورٹی زون قائم کر دیا جائے گا۔ دریائے لیطانی اسرائیل کی سرحد سے شمالی کی طرف تقریباﹰ 30 کلومیٹر (18 میل) کے فاصلے پر لبنانی ریاستی علاقے میں ہے۔
اسرائیل کے کٹر دائیں بازو کے وزیر خزانہ اسموٹریچ نے تو اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے ساتھ ایک انٹرویو میں گزشتہ ماہ کے اواخر میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اسرائیل کو اپنی موجودہ قومی سرحد کو وسعت دیتے ہوئے اسے لبنان کے اندر دریائے لیطانی کے کنارے تک پھیلا دینا چاہیے۔
اسموٹریچ کے الفاظ میں، ’’دریائے لیطانی کو لازمی طور پر لبنانی ریاست کے ساتھ اسرائیل کی نئی قومی سرحد بننا چاہیے۔‘‘




