سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شنگھائی تعاون تنظیم کو زیادہ مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔ وہ کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک مین شنگھائی کانفرنس کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے سائبر کرائمز اور منشیات و انسانی سمگلنگ اور دہشت گردی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کوششیں بڑھانے پر زور دیا ۔
شنگھائی میں دس رکنی ریاستی اتحاد ہے۔ ان ملکوں میں پاکستان، چین ، روس ، ایران اور بھارت نمایاں ہیں۔ ‘ایس سی او’ کے رکن ممالک لگ بھگ 36 ملین کلومیٹر کے مجموعی رقبے پر محیط ہیں، ان کی آبادی 3 ارب 40 کروڑ کے قریب ہے۔ جبکہ ان کی جی ڈی پی مجموعی طور پر پوری دنیا کے ملکوں کے جی ڈی پی کا ایک چوتھائی ہے۔
فطری طور پر یہ ممالک اپنے سرحدی تحفط کی بات کرتے ہیں اور دہشت گردی کی روک تھام چاہتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے غیر ملکی حمایت سے کی جانے والی دہشت گردی کا سامان کر رہا ہے۔ افغان سرحد کی طرف سے پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دہشت گردی کی سرپرستی کے لیے پاکستان بھارت کو بھی مود الزام ٹھہراتا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم شروع سے معاشی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے شعبوں کے لیے متحرک ہے۔ اس کے رکن ملک یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے انہیں انٹیلی جنس شیئرنگ کے علاوہ دہشت گردی کے خطرات کے مشترکہ اندازے کے سلسلے میں کام کرنا چاہیے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا پاکستان ان امور میں تمام ملکوں کی ان چیلنجوں کے خلاف حمایت کرتا ہے۔ سائبر کرائم اور آن لائن سرگرمیوں کے ذریعے دہشت گردی پھیلانے کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور تنظیم پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے۔
انہوں نے منشیات کی سمگلنگ کے بارے میں کہا اسے روکنے اورکرپٹو کرنسی کی ٹرانزکشنز کے لیے علاقائی سطح پر تعاون بڑھانا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا سرحدوں کی نگرانی اور تحفظ علاقائی سلامتی کے لیے اہم تر ہے۔ ہم ایک وسیع تر تنظیمی تعاون کے لیے کوشش پر زور دیتے ہیں۔ تاکہ فریب دہی کے لیے تیار کی جانے والی دستاویزات کا پتہ لگانے اور انسانی سمگلنگ کے انسداد کی کارروائیاں موثر ہو سکیں۔



