سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے گرفتار کیے گئے فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عمر دین عرف "جذبہ” کے اعترافی بیان نے کالعدم دہشت گرد تنظیم کے گمراہ کن نظریات، مجرمانہ سرگرمیوں اور نوجوانوں کو ورغلانے کے طریقہ کار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ گرفتار دہشت گرد نے دورانِ تفتیش ایسے انکشافات کیے ہیں جن سے نہ صرف دہشت گرد تنظیم کے اندرونی معاملات سامنے آئے ہیں بلکہ اس کے حقیقی عزائم بھی واضح ہوگئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق عمر دین عرف جذبہ نے اعتراف کیا کہ اس نے 12 جنوری 2025 کو اپنے والد کے ساتھ گھریلو تنازع کے بعد ٹی ٹی پی، جسے ریاستی ادارے "فتنہ الخوارج” قرار دیتے ہیں، میں شمولیت اختیار کی۔ اس نے بتایا کہ تنظیم کے مختلف کمانڈروں کے ساتھ بڑی تعداد میں افغان جنگجو موجود ہیں جو افغانستان میں تربیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
گرفتار دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ خوارجی نیٹ ورک متعدد سنگین دہشت گرد حملوں میں ملوث رہا ہے۔ اس کے مطابق شادی خیل بیس پر حملہ اور کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والا دھماکہ اسی نیٹ ورک کی کارروائیاں تھیں۔ اس دھماکے میں ماہِ رمضان کے دوران سات پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ عمر دین کے مطابق تنظیم کے عناصر پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے مسلسل منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔
اپنے اعترافی بیان میں عمر دین نے فتنہ الخوارج کے اندر موجود مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں سے بھی پردہ اٹھایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کے متعدد ارکان منشیات کے عادی ہیں اور تنظیمی مراکز کے اندر غیر اخلاقی سرگرمیاں عام ہیں۔ گرفتار دہشت گرد کے مطابق بعض کمانڈر نوجوان لڑکوں کے ساتھ نامناسب رویے اور غیر اخلاقی حرکات میں ملوث ہوتے ہیں، جبکہ باہر دنیا کے سامنے مذہب اور شریعت کے نفاذ کے دعوے کیے جاتے ہیں۔
عمر دین نے مزید بتایا کہ تنظیم کو افغانستان میں موجود اپنے کمانڈروں اور سہولت کاروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ اس مالی امداد کو دہشت گرد کارروائیوں، بھرتی مہمات اور تنظیمی نیٹ ورک کو فعال رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق تنظیم کے مالی وسائل صرف بیرونی معاونت تک محدود نہیں بلکہ بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے، اغوا برائے تاوان اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے بھی آمدنی حاصل کی جاتی ہے۔
گرفتار دہشت گرد کے مطابق فتنہ الخوارج نوجوانوں کو شریعت کے نفاذ، جہاد اور مذہبی جذبات کے نام پر متاثر کرتی ہے۔ نوجوانوں کو ایک پرکشش مگر گمراہ کن بیانیہ پیش کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے انہیں تنظیم میں شامل ہونے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ تاہم تنظیم میں شامل ہونے کے بعد انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت ان دعوؤں سے بالکل مختلف ہے اور تنظیم کے اکثر مقاصد مالی مفادات اور جرائم کے گرد گھومتے ہیں۔
عمر دین نے اپنے بیان میں نوجوانوں کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ خوارج کے جھوٹے دعوؤں، گمراہ کن پروپیگنڈے اور مذہب کے نام پر کیے جانے والے فریب سے بچیں۔ اس نے کہا کہ اس نے خود ان دعوؤں کی حقیقت دیکھی ہے اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنائیں اور کسی بھی انتہا پسند تنظیم کے بہکاوے میں نہ آئیں۔
دفاعی و سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر دین کا اعترافی بیان اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں نوجوانوں کے جذبات، مذہبی وابستگی اور سماجی مسائل سے فائدہ اٹھا کر انہیں شدت پسندی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی تنظیموں کا اصل مقصد معاشرے میں بدامنی پھیلانا، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور مجرمانہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہوتا ہے۔
ماہرین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کو انتہا پسند عناصر کے پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنے کے لیے تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں، والدین اور سماجی تنظیموں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر پھیلائے جانے والے انتہا پسندانہ بیانیوں کا مؤثر جواب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ اعترافات دہشت گرد تنظیموں کے اس دعوے کو بھی کمزور کرتے ہیں کہ وہ مذہبی یا نظریاتی بنیادوں پر سرگرم ہیں، کیونکہ ان کے اندرونی معاملات، مالی ذرائع اور مجرمانہ سرگرمیاں ان کے اصل مقاصد کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ریاستی اداروں کی مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کمزور ہو رہے ہیں اور گرفتار ہونے والے عناصر کے بیانات ان تنظیموں کی حقیقت عوام کے سامنے لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
عمر دین عرف جذبہ کے اعترافی بیان نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ نوجوانوں کو انتہا پسندی کے راستے پر لے جانے والے عناصر کس طرح مذہبی نعروں اور جذباتی اپیلوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے اعترافات نہ صرف دہشت گرد تنظیموں کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں بلکہ معاشرے کو انتہا پسندی کے خطرات سے آگاہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔



