پاکستاناہم خبریں

ایران جنگ میں ثالثی کوششوں سے پاکستان کے لیے اقتصادی فائدے؟

کامیاب سفارتی کوششوں کے نتائج سے پاکستانی معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں پائے جانے والے وہ مسائل براہ راست تو حل نہیں ہوں گے، جو بہت شدید ہیں

روئٹرز کے ساتھ

ایران جنگ کے خاتمے کی خاطر ایرانی امریکی ڈیل کے لیے اپنی مسلسل ثالثی کوششوں سے پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر قیمتی ’سفارتی نفع‘ کمایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس وجہ سے اسلام آباد کو آئندہ اقتصادی فوائد بھی حاصل ہوں گے؟

انہی امن کاوشوں کے نتیجے میں یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ اب پاکستان کو ممکنہ طور پر اپنی اس ‘سفارتی محنت‘ کے اقتصادی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ لیکن آیا واقعی ایسا ہو گا بھی، اس بارے میں ماہرین کی رائے منقسم ہے۔

کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتی ساکھ جتنی بھی بہتر ہو جائے، پاکستان کے اقتصادی مسائل اور مالیاتی پریشانیاں تب تک ختم نہیں ہوں گے، جب تک کہ جنوبی ایشیا کے اس ملک کی معیشت میں پائی جانے والی خامیوں کو دور نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں ماہرین جامع اقتصادی اصلاحات کو کہیں زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔

پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب بارہ جون کو قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے
پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب بارہ جون کو قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئےتصویر: Pakistan Finance Ministry Press Service/AP/picture alliance

ملکی اقتصادی ڈھانچے کے شدید مسائل

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی سے اس موضوع پر اپنے ایک تفصیلی جائزے میں نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ اسلام آباد حکومت کے لیے اب اہم مرحلہ یہ ہے کہ وہ اپنی بہتر سیاسی سفارتی ساکھ کے ساتھ ملنے والے اس موقع کو اپنے لیے اقتصادی بہتری کی خاطر ایک کھڑکی کے طور پر استعمال کرے۔

تاہم بہت اہم بات یہ بھی ہے کہ کامیاب سفارتی کوششوں کے نتائج سے پاکستانی معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں پائے جانے والے وہ مسائل براہ راست تو حل نہیں ہوں گے، جو بہت شدید ہیں اور جن کی وجہ سے اسلام آباد کو بار بار بین الاقومی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے اپنے لیے بیل آؤٹ پروگراموں کی ضرورت پڑتی ہے۔

بطور ریاست پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہاں عوام میں پائی جانے والی سماجی تفریق اور اقتصادی عدم مساوات دونوں بہت گہری ہیں اور اس ملک میں ریاست کو ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی کی بنیادیں بھی بہت محدود ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند دہائیوں سے بار بار آئی ایم ایف (تصویر میں اس ادارے کا لوگو) سے اپنے لیے کسی نہ کسی بیل آؤٹ پروگرام کی درخواست کرنا پڑتی ہے
پاکستان کو گزشتہ چند دہائیوں سے بار بار آئی ایم ایف (تصویر میں اس ادارے کا لوگو) سے اپنے لیے کسی نہ کسی بیل آؤٹ پروگرام کی درخواست کرنا پڑتی ہےتصویر: Yuri Gripas/REUTERS

وزیر خزانہ کے مشیر کا موقف

پاکستانی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے روئٹرز کو بتایا، ”ایک ایسی ریاست، جو اندرون ملک بھی استحکام کو فروغ دیتی ہو اور بیرون ملک بھی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے نتیجہ خیز حد تک کوشاں ہو، وہ ظاہر ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے زیادہ قابل اعتبار منزل بن جاتی ہے۔‘‘

لیکن پاکستانی معیشت کا ایک اور مسئلہ کم شرح نمو بھی ہے، جو افراط زر کی اونچی شرح کے ساتھ مل کر ملکی ترقی کے راستے کی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

پاکستانی مالی سال یکم جولائی سے شروع ہو کر تیس جون کو ختم ہوتا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران ملکی معیشت میں ترقی کی متوقع شرح 3.7 فیصد بتائی گئی اور افراط زر کی اوسط شرح 6.7 فیصد۔ اب اگلے مالی سال میں حکومت نے اقتصادی ترقی کی شرح چار فیصد رہنے اور افراط زر کی شرح 8.2 فیصد رہنے کے تخمینے لگائے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی ثالثی میں امن مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد (تصویر) میں اپریل میں ہوا تھا
امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی ثالثی میں امن مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد (تصویر) میں اپریل میں ہوا تھاتصویر: Wang Shen/Xinhua/dpa/picture alliance

‘وسیع تر مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا زیادہ بہتر انضمام‘

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر اور سینئر فیلو آلیکس واتانکا کہتے ہیں، ”پاکستان کے لیے ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وہ وسیع تر مشرق وسطیٰ میں زیادہ بہتر انضمام کا حامل ہو جائے اور یوں خطے میں اپنے لیے ایسی بڑی اقتصادی شراکت داریاں ممکن بنا لیے، جن میں دفاعی شعبہ بھی شامل ہو۔‘‘

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق نئے حالات میں ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں واضح نرمی یا ان کے خاتمے سے پاکستان اور ایران کے مابین تجارت کے حجم میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان پاکستانی صوبہ بلوچستان میں طویل زمینی سرحد کا استعمال بھی بڑی اہمیت کا حامل ہو گا۔

پاکستان میں زرعی اجناس بیچنے والی ایک دکان کی ایک تصویر: پاکستانی عوام کے لیے افراط زر ایک بڑا مسئلہ ہے

ان کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ وہ امریکہ، ایران، خلیجی عرب ریاستوں، ترکی اور چین تک، بیک وقت بہت سے فریق ممالک کے لیے سود مند ثابت ہو رہا ہے۔‘‘

دوسری طرف آکسفورڈ یونیورسٹی کے ترقیاتی اقتصادیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر عدیل ملک کی رائے میں پاکستان کے لیے ملکی اقتصادی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کے بقول، ”اگر انتظامی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل نہ کیا گیا، تو آئندہ عشروں میں پاکستان اپنے ہی بہت زیادہ بوجھ کے نیچے دبنا شروع ہو جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button