
By Voice of Germany Urdu News Team
پاکستان نے خاموش مگر متحرک سفارتی کوششوں کے ذریعے شمالی افریقی ملک لیبیا کے مشرقی اور مغربی اقتدار کے مراکز کے درمیان مفاہمت کرانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف کئی برسوں سے جاری لیبیا کا سیاسی بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سفارت کاری میں پاکستان کا کردار بھی نمایاں طور پر مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد گزشتہ کئی ماہ سے لیبیا کے متحارب دھڑوں کے درمیان اعتماد سازی اور سیاسی مفاہمت کے لیے پس پردہ سفارتی رابطے کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی قیادت میں بھی لیبیا کے بحران کے مستقل حل کے لیے مختلف سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اب تک کوئی جامع اور قابلِ عمل سیاسی فارمولہ سامنے نہیں آ سکا۔
امریکہ پاکستان کی کوششوں سے آگاہ
روئٹرز سے گفتگو کرنے والے دو پاکستانی ذرائع کے مطابق رواں برس امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی اہم سفارتی بات چیت میں بھی پاکستان نے پس پردہ ایک سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا، جسے امریکی حکام نے مختلف مواقع پر سراہا۔ انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ لیبیا سے متعلق پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں سے امریکہ مکمل طور پر آگاہ ہے اور بعض معاملات میں واشنگٹن اس عمل سے رابطے میں بھی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی ان کوششوں کو سعودی عرب کی حمایت بھی حاصل ہے، جبکہ قطر اور ترکی بھی چاہتے ہیں کہ اسلام آباد ایک غیرجانبدار ثالث کے طور پر دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں کردار ادا کرے۔
ثالثی کی درخواست دونوں فریقوں نے کی
پاکستانی ذرائع کے مطابق مفاہمتی عمل کا آغاز گزشتہ سال کے آخر میں اس وقت ہوا جب لیبیا کے دونوں متحارب سیاسی و عسکری دھڑوں نے پاکستان سے رابطہ کرتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اسلام آباد نے اس پیشکش پر خاموش سفارتی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے دونوں جانب اعتماد سازی کے لیے متعدد رابطے کیے۔
اگرچہ پاکستان کی وزارت خارجہ، فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)، لیبیا کی مشرقی اور مغربی انتظامیہ، امریکہ، قطر، ترکی اور سعودی عرب کی حکومتوں نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ خاموش سفارت کاری کی نوعیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ اکثر اس کی تفصیلات کسی معاہدے کے قریب پہنچنے تک منظر عام پر نہیں لائی جاتیں۔
36 ماہ پر مشتمل عبوری حکومت کی تجویز
روئٹرز کو موصول ہونے والی ایک دستاویز، جسے "لیبیا ری یونیفکیشن پلان” کا نام دیا گیا ہے، کے مطابق لیبیا میں 36 ماہ پر مشتمل عبوری اقتدار کی شراکت داری کا منصوبہ زیر غور ہے۔
اس منصوبے کے مطابق ملک میں نئی سیاسی ساخت قائم کی جائے گی جس کے تحت قومی اتفاق حکومت اور صدارتی کونسل کے نام سے نئے ادارے تشکیل دیے جائیں گے تاکہ برسوں سے جاری سیاسی تقسیم کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ مغربی حکومت کے وزیر اعظم عبد الحمید الدبیبہ اپنے منصب پر برقرار رہیں گے، جبکہ مشرقی لیبیا کی فوج لیبین نیشنل آرمی کے نائب کمانڈر صدام حفتر کو صدارتی کونسل کا سربراہ بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔
اسی منصوبے میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ مشرقی لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر کو قومی بجٹ اور مالی وسائل کی نگرانی میں نمایاں کردار دیا جائے، کیونکہ ان کے زیر اثر علاقوں میں لیبیا کے بیشتر تیل کے ذخائر اور اہم توانائی تنصیبات واقع ہیں۔
پاکستان کا ممکنہ کردار
ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق اگر سیاسی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان صرف ثالثی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ نئے عبوری سیاسی نظام کے استحکام، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں بھی فعال کردار ادا کرے گا۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کی کئی تفصیلات پر ابھی مزید مشاورت جاری ہے اور مختلف علاقائی و عالمی طاقتوں کے تحفظات کو بھی زیر غور لایا جا رہا ہے۔
عاصم منیر اور صدام حفتر کی ملاقات
لیبیا میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں گزشتہ ماہ راولپنڈی میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مشرقی لیبیا کی فوج کے نائب کمانڈر صدام حفتر کے درمیان ہونے والی ملاقات کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ لیبیا کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کے چند روز بعد صدام حفتر نے واشنگٹن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی، جس کے بعد پاکستان کے سفارتی کردار پر مزید توجہ مرکوز ہو گئی۔
دفاعی تعاون بھی زیر بحث
روئٹرز کے مطابق پاکستان اور مشرقی لیبیا کی فوج کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے دفاعی تعاون پر بھی گفتگو جاری ہے۔ ان رابطوں میں اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کے باوجود پاکستانی ساختہ جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی ممکنہ فراہمی سمیت مختلف دفاعی منصوبوں پر بھی ابتدائی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب مغربی لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت نے بھی حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ براہِ راست سیاسی مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں متحارب فریق اسلام آباد کو ایک قابلِ اعتماد ثالث تصور کر رہے ہیں۔
عالمی طاقتوں کے مفادات سب سے بڑا چیلنج
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق لیبیا کا بحران صرف داخلی سیاسی اختلافات تک محدود نہیں بلکہ اس میں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات بھی شامل ہیں۔
برطانیہ کے معروف تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (RUSI) سے وابستہ تجزیہ کار جلال حرشاوی کے مطابق امریکہ لیبیا میں سیاسی حل کے لیے سرگرم ضرور ہے، لیکن ابھی تک ایسا واضح اور جامع فریم ورک سامنے نہیں آیا جس پر تمام فریق متفق ہو سکیں۔
اسی طرح جغرافیائی سیاسی امور کے مشاورتی ادارے انفارمی کے ڈائریکٹر طارق مغریسی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی کامیابی صرف اس کے اعلان سے ممکن نہیں ہوگی بلکہ اصل امتحان اس پر عملدرآمد ہوگا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس روانڈا اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ بھی چند ماہ بعد عملی طور پر ناکام ہو گیا تھا۔
پاکستان کے لیے سفارتی موقع
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ لیبیا میں امریکہ، ترکی، مصر، متحدہ عرب امارات، قطر اور روس جیسے ممالک کا اثر و رسوخ پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، تاہم پاکستان کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے دونوں متحارب فریقوں کے ساتھ قابلِ قبول روابط موجود ہیں اور اسلام آباد کسی ایک فریق کا کھلا حامی نہیں سمجھا جاتا۔
اسی غیرجانبدار حیثیت کی وجہ سے پاکستان کو ایک ایسے ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو دونوں جانب اعتماد بحال کرنے اور سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
لیبیا کا بحران
واضح رہے کہ 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد لیبیا مسلسل سیاسی عدم استحکام، مسلح تصادم اور اقتدار کی تقسیم کے بحران کا شکار ہے۔ ملک اس وقت مشرق اور مغرب میں تقسیم ہے، جہاں ایک جانب اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومتِ قومی اتحاد ہے جبکہ دوسری جانب خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبین نیشنل آرمی ملک کے وسیع مشرقی علاقوں اور اہم تیل کی تنصیبات پر کنٹرول رکھتی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی ممالک اور علاقائی طاقتوں کی متعدد کوششوں کے باوجود لیبیا میں مستقل سیاسی مفاہمت قائم نہیں ہو سکی۔
مستقبل کا منظرنامہ
سفارتی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان کی ثالثی میں دونوں فریق کسی قابلِ قبول عبوری سیاسی فارمولے پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف لیبیا کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی سفارتی کردار کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے مفادات میں توازن پیدا کرنا اور معاہدے پر عملی عملدرآمد یقینی بنانا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔




