بین الاقوامیاہم خبریں

ٹرمپ کی ایران کو ایک اور سخت وارننگ، "یا معاہدہ ہوگا یا کام تمام کر دیں گے”؛ تہران نے مزاحمت کے عزم کا اعادہ کر دیا

یہ مذاکرات اس 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ہوئے تھے جس کا مقصد حالیہ جنگ کے بعد کشیدگی میں کمی لانا اور سفارتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا تھا۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور حالیہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن یا تو تہران کے ساتھ ایک جامع معاہدہ کرے گا یا پھر امریکہ ایران کا "کام تمام کر دے گا”۔ ان کے اس بیان کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کا اعادہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات بغیر کسی نمایاں پیش رفت کے ختم ہو چکے ہیں، جبکہ تہران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے بعد ایرانی قیادت اور عوام کی جانب سے مزاحمت، قومی اتحاد اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔

اوول آفس میں ٹرمپ کا سخت مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس ایران کے حوالے سے صرف دو راستے موجود ہیں۔

انہوں نے کہا:

"یا تو ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کریں گے یا پھر ان کا کام تمام کر دیں گے۔ یہ کام کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں ہوگا، لیکن میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا کیونکہ میں تقریباً 9 کروڑ 10 لاکھ افراد کو متاثر نہیں کرنا چاہتا۔”

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے بنیادی انفراسٹرکچر کو مختصر وقت میں شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا:

"ہم ایک گھنٹے کے اندر ان کے پل تباہ کر سکتے ہیں، ان کی توانائی کی فراہمی بند کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اب پیسہ بھی نہیں ہے کیونکہ ہم نے انہیں کوئی مالی سہولت فراہم نہیں کی۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان نہ صرف ایران کے لیے ایک واضح پیغام ہے بلکہ خطے میں امریکی عسکری برتری کا اظہار بھی سمجھا جا رہا ہے۔

مذاکرات بے نتیجہ ختم

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات گزشتہ ہفتے اختتام پذیر ہوئے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کسی اہم پیش رفت یا نئے معاہدے کا اعلان نہیں کیا جا سکا۔

یہ مذاکرات اس 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ہوئے تھے جس کا مقصد حالیہ جنگ کے بعد کشیدگی میں کمی لانا اور سفارتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق جنگ بندی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے ایک نئے سفارتی فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا، تاہم اب تک اس حوالے سے دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

جنگ کیسے شروع ہوئی؟

حالیہ بحران کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔ ان حملوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور دونوں جانب سے متعدد عسکری کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔

اگرچہ بعد ازاں امریکی ثالثی کے ذریعے 60 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا، لیکن بنیادی اختلافات برقرار رہے اور مستقل سیاسی حل سامنے نہیں آ سکا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق جنگ بندی صرف فوری عسکری تصادم روکنے کے لیے تھی، جبکہ جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی سلامتی جیسے بنیادی معاملات پر ابھی بھی اختلافات موجود ہیں۔

ایران میں مزاحمت کا پیغام

ٹرمپ کا سخت بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے موقع پر بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔

تقریب کے دوران ایرانی قیادت نے بیرونی دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا اعادہ کیا، جبکہ عوام کی جانب سے بھی مزاحمت اور قومی اتحاد کے حق میں نعرے لگائے گئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ اور معاشی پابندیوں کے باوجود ایرانی ریاست یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ملک کے اندر سیاسی نظام مستحکم ہے اور بیرونی دباؤ اس کے بنیادی مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

جوہری تنازع پھر مرکزِ نگاہ

امریکہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے حقِ خودمختاری کے تحت جوہری توانائی حاصل کر رہا ہے۔

واشنگٹن کا اصرار ہے کہ اگر سفارتی راستہ ناکام ہوا تو تمام آپشنز میز پر موجود ہیں، جبکہ تہران بارہا واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی فوجی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

خطے پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو جاتے ہیں تو مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر بڑے عسکری بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

ممکنہ کشیدگی کے نتیجے میں:

  • خلیج میں تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
  • اسرائیل، لبنان، عراق، شام اور یمن میں سرگرم ایران نواز گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں۔
  • عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

عالمی برادری کی تشویش

یورپی ممالک، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ امریکہ اور ایران اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں تاکہ خطے میں ایک نئی جنگ سے بچا جا سکے۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی اشتعال انگیز بیان، فوجی کارروائی یا غلط اندازے سے پورا مشرق وسطیٰ ایک وسیع تر تنازع کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ ایران بھی اپنے دفاعی اور سیاسی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔

اگر آنے والے ہفتوں میں مذاکرات کا کوئی نیا دور شروع نہ ہو سکا تو امریکہ اور ایران کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے اور خطے میں نئی عسکری کشیدگی پیدا ہونے کے امکانات کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب اگر سفارتی رابطے بحال ہو جاتے ہیں تو یہ بحران ایک نئے مذاکراتی مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، جو مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے اہم ثابت ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button