یورپتازہ ترین

اینڈی برنہم نے برطانیہ کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا

تاہم اس وقت 56 سالہ برنہم کو برطانیہ کی وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کے لیے ایک طویل سیاسی سفر طے کرنا پڑا۔

اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ

اینڈی برنہم نے پیر 20 جولائی کو برطانیہ کے نئے وزیراعظم کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھال لیا۔ وہ برطانیہ کے 59 ویں وزیر اعظم ہیں۔ قبل ازیں ان کے پیش رو کیئر اسٹارمر نے بادشاہ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔

اسٹارمر نے آج برطانوی بادشاہ چارلس سوم سے ملاقات کی اور اپنا استعفیٰ باضابطہ طور پر ان کے حوالے کر دیا۔ بعد میں اینڈی برنہم نے بھی برطانوی بادشاہ سے ملاقات کی، جنہوں نے ان کو حکومت سازی کی دعوت دی۔

گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم، جنہیں ‘کنگ آف دی نارتھ‘ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے، کو کیئر اسٹارمر کے گزشتہ ماہ کے استعفے کے بعد لیبر پارٹی نے اپنی قیادت سونپی تھی۔ پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کا خیال ہے کہ وہ امیگریشن مخالف ریفارم یو کے پارٹی اور اس کے رہنما نائجل فراج کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے لیبر پارٹی کی بہترین امید ہیں۔

برنہم کے پاس اپنی کارکردگی ثابت کرنے کے لیے صرف تین سال ہوں گے، کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 2029 میں متوقع آئندہ عام انتخابات میں ریفارم یو کے پارٹی کامیابی حاصل کر سکتی ہےتصویر: Oli Scarff/AFP

اینڈی برنہم کون ہیں؟

لیورپول میں پیدا ہونے والے اینڈی برنہم نے کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے برطانیہ میں پیشہ وارانہ سیاست میں داخل ہونے کا روایتی راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز ایک نوجوان محقق کے طور پر کیا، پھر پارلیمانی مشیر بنے، اس کے بعد رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور بالآخر 2000 کی دہائی کے اواخر میں ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کی حکومتوں میں وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

تاہم اس وقت 56 سالہ برنہم کو برطانیہ کی وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کے لیے ایک طویل سیاسی سفر طے کرنا پڑا۔

لیبر پارٹی کی قیادت حاصل کرنے کی 2010 اور 2015 کی دو ناکام کوششوں کے بعد انہوں نے لندن میں قومی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ بعد ازاں 2017 میں انہوں نے شمال مغربی انگلینڈ کے علاقے گریٹر مانچسٹر کے میئر کا انتخاب جیت لیا تھا۔

میئر کی حیثیت سے اپنے نو سالہ دور اقتدار میں برنہم نے عوامی مقبولیت اور مؤثر قیادت کا مظاہرہ کیا، جس سے انہیں ‘کنگ آف دی نارتھ‘ کا سیاسی لقب ملا اور قومی سطح پر بھی ان کی سیاسی حیثیت بھی مضبوط ہوئی۔

بکھنگم پیلیس میں اینڈی برنہم  برطانوی بادشاہ کنک چارلس سوم  سے ملاقات کرتے ہوئے
اینڈی برنہم نے برطانوی بادشاہ کنک چارلس سوم سے ملاقات کی، جنہوں نے ان کو حکومت سازی کی دعوت دیتصویر: Aaron Chown/REUTERS

برنہم کے سامنے اہم چیلنجز

اینڈی برنہم کو سست رفتار اقتصادی نمو، حکومتی قرضوں کی بلند لاگت، سماجی بہبود (ویلفیئر) پر بڑھتے ہوئے اخراجات اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

علاوہ ازیں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث توانائی کی غیر مستحکم قیمتیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیاں بھی برنہم کی حکومت کے لیے بڑے چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔

اتوار کی شب اخبار دی ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں برنہم نے ملک میں تبدیلی لانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے جاری سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

برنہم نے کہا کہ وہ سرکاری اخراجات اور معیشت چلانے کے حوالے سے مختلف حکمت عملی اپنائیں گے۔ انہوں نے کہا، ”ہم جلد سرمایہ کاری، بروقت اقدامات اور لوگوں کو کامیابی کے مواقع فراہم کرنے پر زیادہ توجہ دیں گے، جبکہ ناکامیوں کی قیمت چکانے پر کم انحصار کریں گے۔‘‘

اینڈی برنہم نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے اخراجات سے متاثرہ عوام کو فوری ریلیف دینے کا وعدہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے عوام کو اپنی معاشی مشکلات اور مالی دباؤ کے بارے میں شدید پریشان پایا۔

برنہم کے پاس اپنی کارکردگی ثابت کرنے کے لیے صرف تین سال ہوں گے، کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 2029 میں متوقع آئندہ عام انتخابات میں ریفارم یو کے پارٹی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button