
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میرین ون ہیلی کاپٹر سے متعلق فضائی حفاظتی واقعے کی تحقیقات شروع، ایف اے اے نے سیفٹی ریویو کا اعلان کر دیا
وائٹ ہاؤس نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جبکہ ایف اے اے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مدثر احمد-ادارت
واشنگٹن: امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لے جانے والے صدارتی ہیلی کاپٹر "میرین ون” سے متعلق پیش آنے والے ایک فضائی حفاظتی واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ادارے کے مطابق یہ ایک حفاظتی نوعیت کا واقعہ تھا تاہم اس دوران کسی بھی مرحلے پر فوری تصادم یا سنگین خطرہ پیدا نہیں ہوا۔
ایف اے اے نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ ادارہ میرین ون سے متعلق پیش آنے والے واقعے کا مکمل جائزہ لے رہا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ فضائی ٹریفک کے طریقہ کار پر مکمل عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا۔ ادارے نے واضح کیا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ خطرناک نوعیت کا نہیں تھا، تاہم حفاظتی ضوابط کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
یہ واقعہ منگل کی سہ پہر اس وقت پیش آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی ہیلی کاپٹر وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوا۔ معمول کے مطابق اس دوران قریبی رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ پر تجارتی فضائی آمدورفت کو عارضی طور پر معطل کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ذرائع کے مطابق اس مرتبہ فضائی ٹریفک کنٹرولرز نے یہ کارروائی بروقت انجام نہیں دی۔
معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے اس واقعے کی خبر شائع کی، جس کے بعد بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی متعدد ذرائع کے حوالے سے اس کی تصدیق کی۔
ذرائع کے مطابق اسی دوران اینوائے ایئر کی پرواز 3742 فلوریڈا کے لیے روانہ ہوئی، جو میرین ون کے پروازی راستے کے نسبتاً قریب آ گئی۔ اینوائے ایئر، امریکن ایئرلائنز کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ کمپنی کی جانب سے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔
ایف اے اے کے موجودہ حفاظتی ضوابط کے مطابق کسی بھی دو فضائی جہازوں کے درمیان کم از کم 1.5 میل افقی اور 500 فٹ عمودی فاصلہ برقرار رکھنا لازمی ہوتا ہے تاکہ فضائی تصادم کے کسی بھی امکان کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے میں مطلوبہ حفاظتی فاصلہ مکمل طور پر برقرار نہیں رکھا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں طیارے ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں آئے کہ فوری تصادم کا خطرہ پیدا ہو جاتا۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے باوجود صدر ٹرمپ کا میرین ون ہیلی کاپٹر اور متعلقہ تجارتی طیارہ دونوں محفوظ انداز میں اپنی اپنی منزل پر اتر گئے اور کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
تحقیقات سے واقف دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایف اے اے اس معاملے کے جائزے کے لیے ایک خصوصی سیفٹی ریویو ٹیم تشکیل دینے کا ارادہ رکھتا ہے، جو واقعے کے تمام تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ اس ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر مستقبل میں فضائی ٹریفک کے طریقہ کار میں مزید بہتری کے لیے سفارشات بھی مرتب کی جا سکتی ہیں۔
واقعے کے دوران ایک اور علاقائی پرواز بھی رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر موجود تھی، جسے احتیاطی اقدام کے طور پر واپس بھیج دیا گیا تاکہ فضائی حدود میں غیر ضروری ازدحام سے بچا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جبکہ ایف اے اے کی تحقیقات جاری ہیں۔
پس منظر
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب واشنگٹن کے فضائی نظام کو پہلے ہی انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوری 2025 میں رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی علاقائی مسافر بردار جیٹ اور امریکی فوج کے ایک ہیلی کاپٹر کے درمیان ہونے والے المناک فضائی تصادم میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حادثے نے امریکی فضائی تحفظ کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔
اس حادثے کے بعد ایف اے اے نے واشنگٹن کے فضائی علاقے، بالخصوص رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے اطراف ہیلی کاپٹر آپریشنز پر مستقل نوعیت کی سخت پابندیاں عائد کیں۔ نئی پالیسی کے تحت جب بھی میرین ون یا دیگر حساس سرکاری ہیلی کاپٹر ایئرپورٹ کے قریب پرواز کرتے ہیں تو تجارتی فضائی آمدورفت کو عارضی طور پر روک دیا جاتا ہے تاکہ دونوں اقسام کی پروازوں کے درمیان مکمل حفاظتی فاصلہ برقرار رکھا جا سکے۔
ضابطے کے مطابق ایف اے اے کا فضائی ٹریفک کنٹرول نظام عام طور پر میرین ون کی روانگی سے کم از کم تین منٹ قبل متعلقہ کنٹرول ٹاورز کو اطلاع دیتا ہے تاکہ تجارتی پروازوں کو وقتی طور پر روک کر فضائی حدود کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق موجودہ واقعے میں یہی مرحلہ بروقت مکمل نہ ہونے کے باعث حفاظتی طریقہ کار پر سوالات اٹھے ہیں۔
فضائی تحفظ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس واقعے میں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا، تاہم واشنگٹن جیسے انتہائی مصروف اور حساس فضائی علاقے میں معمولی انتظامی یا رابطے کی غلطی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے ایف اے اے کی تحقیقات کو مستقبل میں فضائی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔



