
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان معیشت اور حکمرانی کے شعبوں میں تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ حکومت کا وژن ملک کو ایک مضبوط اور جدید ڈیجیٹل نیشن میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار گوگل کے 9 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جس کے بعد پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کے افتتاح کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
وزیراعظم سے اسلام آباد میں گوگل کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت گوگل کے نائب صدر برائے گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی ولسن وائٹ کر رہے تھے، جبکہ پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی چارج ڈی افیئرز نٹالی بیکر بھی وفد کے ہمراہ موجود تھیں۔
ملاقات میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت، نوجوانوں کی فنی تربیت اور اپ اسکلنگ، ڈیجیٹل گورننس، مقامی کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کا عمل تیز ہو رہا ہے، وزیراعظم
گوگل وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اس وقت معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سمیت گورننس کے شعبے میں بھی ایک بڑی ڈیجیٹل تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے وفد کو حکومت کے "ڈیجیٹل نیشن پاکستان” کے وژن سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لیے متعدد اہم اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی ترجیح جدید ٹیکنالوجی کو عوامی سہولیات، حکومتی نظام، کاروباری سرگرمیوں اور معاشی ترقی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں انسانی وسائل کی استعداد بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک بڑی اور نوجوان آبادی موجود ہے جو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت میں نوجوانوں کی تربیت ترجیح ہے
وزیراعظم نے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تربیت دینے کے لیے مختلف پروگرام جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں جدید ہنر سے آراستہ کرکے نہ صرف ملک کے اندر روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں بلکہ پاکستانی نوجوان عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں بھی اپنی خدمات فراہم کرسکتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری اس مقصد کے حصول میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے گوگل جیسے عالمی ٹیکنالوجی لیڈر کے ساتھ تعاون کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا۔
پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کا خیرمقدم
وزیراعظم نے پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ گوگل کی مقامی موجودگی سے پاکستان اور کمپنی کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔
انہوں نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں گوگل کے کردار کو سراہا اور کمپنی کی جانب سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے مختلف مواقع اور تربیتی اقدامات کی تعریف کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ گوگل کے مختلف پروگراموں نے پہلے ہی ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کرنے اور پیداواری روزگار کے مواقع تک رسائی میں مدد فراہم کی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میں گوگل کی مستقل موجودگی کے بعد نوجوانوں کو ہنر مند بنانے، انہیں بااختیار کرنے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے مواقع فراہم کرنے کے لیے کمپنی کی سرگرمیوں میں مزید توسیع ہوگی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گوگل کی مقامی موجودگی قائم ہونے سے اعلیٰ اثر رکھنے والے پروگراموں کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں۔
گوگل کا پاکستان میں طویل مدتی شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا عزم
گوگل کے نائب صدر برائے گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی ولسن وائٹ نے وزیراعظم کو کمپنی کے مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گوگل کا مقامی دفتر ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے، پاکستانی نوجوانوں کے لیے طویل مدتی مواقع پیدا کرنے اور مقامی کاروباروں کو عالمی سطح پر اپنی سرگرمیاں وسعت دینے میں مدد فراہم کرنے کے عزم کو مزید مضبوط کرے گا۔
ولسن وائٹ نے کہا کہ گوگل پاکستان کے ساتھ کئی برسوں سے مختلف شعبوں میں شراکت داری کر رہا ہے اور نیا دفتر اس تعاون کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کا ذریعہ بنے گا۔
انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور گوگل اس صلاحیت کو مزید فروغ دینے کے لیے مختلف پروگرامز کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
آئی ٹی، اے آئی اور گیمنگ میں اپ اسکلنگ پروگرامز بڑھانے کا اعلان
گوگل کے نائب صدر نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، گیمنگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپ اسکلنگ پروگرامز کو مزید وسعت دینے کی خواہاں ہے۔
ان پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات کے مطابق تیار کرنے، جدید مہارتیں فراہم کرنے اور انہیں روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع سے منسلک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کی صلاحیت کو عالمی سطح پر بروئے کار لانے کے لیے ٹیکنالوجی اور مہارتوں کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہیں۔
پاکستان میں تیار ہونے والی کروم بکس کی برآمد کے امکانات
ملاقات کے دوران پاکستان میں گوگل کے مقامی شراکت داروں کے ساتھ قائم کی جانے والی کروم بک اسمبلی لائن کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔
ولسن وائٹ نے پاکستان میں کروم بکس کی اسمبلی کے منصوبے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اسمبل ہونے والی کروم بکس کو خطے کے دیگر ممالک کو برآمد کرنے کے مضبوط امکانات موجود ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان کے لیے صرف ڈیجیٹل شعبے میں روزگار اور صنعتی سرگرمیوں کے نئے مواقع ہی پیدا نہیں کرسکتی بلکہ ملک کو خطے میں ٹیکنالوجی سے متعلق مینوفیکچرنگ اور اسمبلی کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
مقامی کاروباروں کو عالمی منڈی تک رسائی میں مدد
گوگل کے نمائندے نے کہا کہ پاکستان میں کمپنی کی موجودگی کا ایک اہم مقصد مقامی کاروباری اداروں کو عالمی سطح پر جانے میں مدد فراہم کرنا بھی ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، آن لائن تجارت، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے پاکستانی کاروباروں کے لیے عالمی صارفین تک رسائی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں گوگل اور پاکستانی کاروباری و ٹیکنالوجی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات بھی زیر غور آئے۔
ڈیجیٹل معیشت کے لیے اہم شراکت داری
وزیراعظم اور گوگل وفد کے درمیان ملاقات کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ایک جانب حکومت ڈیجیٹل گورننس اور آئی ٹی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تو دوسری جانب عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی مقامی موجودگی سے نجی شعبے، نوجوانوں اور ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری پاکستان کے لیے ڈیجیٹل مہارتوں، مصنوعی ذہانت، ای کامرس، کلاؤڈ ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کے شعبوں میں ترقی کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔
گوگل دفتر کے افتتاح کی تقریب
ملاقات کے بعد پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کے افتتاح کے موقع پر خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف، گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ، امریکی سفارتخانے کی چارج ڈی افیئرز نٹالی بیکر اور دیگر معززین نے مشترکہ طور پر دفتر کے افتتاح کے موقع پر یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔
اس موقع پر پاکستان اور گوگل کے درمیان ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی تربیت، ڈیجیٹل معیشت اور مقامی کاروباری شعبے کے فروغ کے حوالے سے تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کی امید
پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ گوگل کے پاکستان میں مستقل دفتر کے قیام اور تربیتی پروگراموں میں ممکنہ توسیع سے نوجوانوں کے لیے آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، گیمنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ سے نہ صرف روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی برآمدات، کاروباری مسابقت اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ملک کی شمولیت بھی مضبوط ہوگی۔
گوگل کی جانب سے پاکستان میں مقامی موجودگی قائم کرنا اسی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ کروم بک اسمبلی، نوجوانوں کی اپ اسکلنگ اور مقامی کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی جیسے اقدامات پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
ڈیجیٹل پاکستان کی جانب اہم قدم
وزیراعظم شہباز شریف اور گوگل وفد کے درمیان ملاقات اور پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کا افتتاح اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو معاشی ترقی، روزگار، تعلیم اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے مرکزی حیثیت دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
حکومت اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون پاکستان کے نوجوانوں کو جدید عالمی مہارتوں سے آراستہ کرنے، مقامی ٹیکنالوجی صنعت کو فروغ دینے اور پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔



