پاکستان پریس ریلیز

پاکستان میں 75 ارب روپے کی مشروط پیٹرول سبسڈی کا اعلان، موٹر سائیکل اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین کو ریلیف

وفاقی حکومت نے پیٹرول سبسڈی کے لیے مجموعی طور پر 75 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے ملک بھر میں پیٹرول استعمال کرنے والے کم آمدنی اور نسبتاً کم استطاعت رکھنے والے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 75 ارب روپے کی مشروط پیٹرول سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم میاں شہباز شریف کی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، چنگ چی رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے اہل صارفین کو پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے تک کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونے والی توانائی کی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتوں کے ممکنہ اثرات سے عام شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

75 ارب روپے کے فنڈ کی منظوری

وفاقی حکومت نے پیٹرول سبسڈی کے لیے مجموعی طور پر 75 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ای سی سی نے سبسڈی کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ رقم مستحق اور مقررہ معیار پر پورا اترنے والے صارفین کو پیٹرول کی خریداری پر براہ راست ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

اس اسکیم کو عام صارفین تک پہنچانے کے لیے وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق اداروں کو بھی نظام کی تیاری اور تکنیکی معاونت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 2 ہزار روپے,ہفتے میں 5 لیٹرتک ریلیف

نئی اسکیم میں موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے۔

حکومت کے اعلان کے مطابق اہل موٹر سائیکل صارفین کو ہر ماہ 20 لیٹر پیٹرول تک فی لیٹر 100 روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

اس حساب سے ایک اہل موٹر سائیکل صارف کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے کا مالی ریلیف مل سکے گا۔

تاہم سبسڈی لینے کے لیے صارف کو مقررہ ڈیجیٹل طریقہ کار مکمل کرنا ہوگا اور ہر مرتبہ پیٹرول حاصل کرنے سے قبل اپنی شناخت اور گاڑی سے متعلق معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔

حکومت کے مطابق موٹر سائیکل صارفین کو ہر ہفتے زیادہ سے زیادہ 5 لیٹر سبسڈائزڈ پیٹرول حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

ماہانہ حد 20 لیٹر ہونے کے باعث اسکیم میں سبسڈی کے استعمال کو پورے مہینے میں تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس طریقہ کار کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ محدود سبسڈی چند دنوں میں ختم نہ ہو اور اہل صارفین پورے ماہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے 3 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی

800 سی سی تک کی گاڑیاں رکھنے والے اہل شہریوں کے لیے سبسڈی کی حد موٹر سائیکل صارفین کے مقابلے میں زیادہ رکھی گئی ہے۔

اس کیٹیگری میں شامل افراد کو ہر ماہ 30 لیٹر پیٹرول تک فی لیٹر 100 روپے کی رعایت دی جائے گی۔

یوں 800 سی سی تک کی گاڑی رکھنے والے اہل صارف کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 3 ہزار روپے کا ریلیف حاصل ہوسکے گا۔

حکومت نے تاہم اس مقدار کو ایک ہی مرتبہ استعمال کرنے کے بجائے مرحلہ وار فراہم کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔

حکومتی طریقہ کار کے مطابق 800 سی سی تک کی گاڑی رکھنے والے صارفین کو ماہانہ 30 لیٹر سبسڈائزڈ پیٹرول تین اقساط میں فراہم کیا جائے گا۔

یعنی ایک مرتبہ میں زیادہ سے زیادہ 10 لیٹر پیٹرول پر سبسڈی حاصل کی جاسکے گی۔

اس طرح صارف کو پورے مہینے کے لیے مختص 30 لیٹر کی رعایتی حد کو ایک ہی دن میں استعمال کرنے کے بجائے تین مرتبہ پیٹرول خریدنے کی صورت میں استعمال کرنا ہوگا۔

اسی طرح موٹر سائیکل صارفین کے لیے بھی سبسڈی والے پیٹرول کے حصول کی ہفتہ وار حد مقرر کی گئی ہے۔

سبسڈی کے لیے ڈیجیٹل نظام

اس اسکیم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ حکومت نے پیٹرول پمپ پر براہ راست نقد رقم یا عام رعایتی کوپن دینے کے بجائے ڈیجیٹل تصدیقی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اہل شہریوں کو مقررہ موبائل کوڈ کے ذریعے اپنی معلومات فراہم کرنا ہوں گی، جس کے بعد انہیں ایک ٹوکن نمبر موصول ہوگا۔

پیٹرول خریدتے وقت صارف یہ ٹوکن پیٹرول پمپ پر دکھائے گا اور مقررہ مقدار پر سبسڈی حاصل کرسکے گا۔

حکومت کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق اس عمل میں شناختی کارڈ نمبر، گاڑی یا موٹر سائیکل کا رجسٹریشن نمبر اور رہائش کے صوبے سمیت دیگر معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔

اس اسکیم کے تحت سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کے لیے ہر مرتبہ پیٹرول خریدنے سے قبل تصدیقی عمل مکمل کرنا ضروری ہوگا۔

موٹر سائیکل صارف مقررہ موبائل کوڈ پر اپنی مطلوبہ معلومات بھیج کر ٹوکن حاصل کرے گا، جس کی بنیاد پر پیٹرول پمپ سے سبسڈائزڈ پیٹرول فراہم کیا جائے گا۔

800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے بھی یہی بنیادی طریقہ کار رکھا گیا ہے۔

اس نظام کے ذریعے حکومت یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ایک ہی گاڑی یا صارف مقررہ ماہانہ حد سے زیادہ سبسڈی حاصل نہ کرسکے۔

حکومت کا مؤقف: ٹارگٹڈ ریلیف دینا مقصد ہے

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کے باوجود پاکستان میں پیٹرول کی قلت پیدا نہ ہو۔

ان کے مطابق حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے اور سبسڈی کے ذریعے بالخصوص تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے شہریوں کی مدد کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق اس اسکیم سے متوسط طبقے کے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ براہ راست اور محدود پیمانے پر سبسڈی دینے کا مقصد قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کے بجائے مخصوص طبقات کو ہدف بنا کر ریلیف فراہم کرنا ہے۔

سبسڈی اسکیم کو عملی شکل دینے کے لیے وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق اداروں نے بھی تیاری شروع کردی ہے۔

چونکہ سبسڈی کی ادائیگی اور تصدیق ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہونی ہے، اس لیے صارفین کی شناخت، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور سبسڈی کی حد کو ایک مربوط نظام سے منسلک کرنے کی ضرورت ہوگی۔

حکومت کی جانب سے توقع کی جارہی ہے کہ تکنیکی نظام کے ذریعے جعلی درخواستوں، ایک ہی شخص کی جانب سے متعدد گاڑیوں کے ذریعے فائدہ اٹھانے اور مقررہ حد سے زیادہ سبسڈی لینے کی کوششوں کو روکا جاسکے گا۔

اسکیم کے پیچیدہ طریقہ کار پر سوالات

حکومت کی جانب سے سبسڈی کے اعلان کے ساتھ ہی اس کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

خصوصاً ایسے شہری جو اسمارٹ فون، موبائل انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل سہولتوں تک آسان رسائی نہیں رکھتے، ان کے لیے اس نظام کو استعمال کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

صارفین کو ہر مرتبہ پیٹرول خریدنے سے قبل موبائل کوڈ پر معلومات بھیجنا، ٹوکن حاصل کرنا اور پھر پیٹرول پمپ پر اسے استعمال کرنا ہوگا۔

اسی طرح موبائل نیٹ ورک یا انٹرنیٹ میں کسی تکنیکی خرابی کی صورت میں سبسڈی کے حصول میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

حکومت کو اس حوالے سے ایک ایسا متبادل طریقہ کار بھی یقینی بنانا ہوگا جس کے ذریعے تکنیکی مسائل یا ڈیجیٹل سہولتوں کی کمی کے باعث حقیقی مستحق صارفین اس سہولت سے محروم نہ ہوں۔

75 ارب روپے کا مالی بوجھ حکومت پر تنقید

حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ عارضی یا مشروط سبسڈی عوام کو فوری ریلیف تو دے سکتی ہے لیکن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بنیادی مسائل حل نہیں کرتی۔

ان حلقوں کے مطابق اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو حکومت کو بار بار سبسڈی دینے کے بجائے توانائی کی درآمدات، ٹیکس پالیسی، پیٹرولیم لیوی اور ملکی معیشت پر تیل کے انحصار کے حوالے سے طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

حکومت مخالف حلقوں کی جانب سے حکومتی اخراجات اور اعلیٰ حکام کے لیے کیے جانے والے بعض اخراجات کو بھی عوامی ریلیف کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔

75 ارب روپے کی سبسڈی ایک قابلِ ذکر مالی رقم ہے۔ حکومت کو اس رقم کے استعمال کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ سبسڈی حقیقی طور پر مستحق صارفین تک پہنچے اور اس میں جعلی رجسٹریشن، ڈپلی کیٹ گاڑیوں یا دیگر طریقوں سے بے ضابطگی نہ ہو۔

ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حکومت کے پاس سبسڈی کے استعمال کا ریکارڈ رکھنے کا امکان موجود ہوگا، تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار موبائل نیٹ ورک، ڈیٹا کی درستگی، گاڑیوں کے رجسٹریشن ریکارڈ اور پیٹرول پمپوں کے تکنیکی نظام کے باہمی رابطے پر ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button