
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر کھلی فوجی جھڑپوں میں بدل گئی ہے۔ گذشتہ تین روز کے دوران فضائی حملوں، سرحدی چوکیوں پر قبضوں اور بھاری جانی نقصان کے متضاد دعوؤں نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ دونوں جانب سے جاری بیانات میں ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے ان اعداد و شمار کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
آپریشن ’غضب للحق‘: پاکستان کا مؤقف
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اتوار کی شام دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت افغانستان بھر میں 46 مقامات کو مؤثر فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یکم مارچ کی شام چار بجے تک افغان طالبان کے 415 اہلکار ہلاک اور 580 سے زائد زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ افغان طالبان کی 182 چیک پوسٹیں، 185 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ 31 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ خراسان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا، جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے تھے۔
افغان طالبان کا دعویٰ: ’انتقامی حملے‘
دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران پاکستان کے خلاف کیے گئے ’انتقامی اور شدید جارحانہ‘ حملوں میں 110 پاکستانی فوجی ہلاک اور 68 شدید زخمی ہوئے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ اس دوران پاکستانی فوج کی 27 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا۔ بعد ازاں یہ بیان حذف کر دیا گیا.
افغان وزارتِ دفاع کے مطابق سرحدی علاقوں پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار، کنڑ اور نورستان میں چار گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی میں پاکستانی فوج کے دو اڈے اور 19 چوکیوں کو تباہ کیا گیا۔
جھڑپوں کا آغاز کیسے ہوا؟
سرحدی کشیدگی کا آغاز جمعرات کی رات ہوا جب افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کیں۔ طالبان کے مطابق یہ کارروائیاں اس ہفتے کے آغاز میں پکتیکا، خوست اور ننگرہار میں پاکستانی فضائی حملوں کے ’بدلے‘ میں کی گئیں، جن میں ان کے بقول کم از کم 18 افراد مارے گئے تھے۔
پاکستان نے جمعے کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت سرحد کے قریب واقع بڑے شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملوں کی تصدیق کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران کابل اور قندھار جیسے بڑے شہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل کے رہائشیوں نے شہر بھر میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنیں، جبکہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھی شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات دی گئیں۔
پاکستانی قیادت کے سخت بیانات
پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے افغان طالبان کی کارروائیوں کو ’ناقابلِ برداشت جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی افواج وطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اب کھلی جنگ ہوگی۔‘ انہوں نے افغان طالبان پر عالمی دہشتگرد عناصر کو پناہ دینے اور ’دہشتگردی ایکسپورٹ‘ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
پاکستانی حکام کے مطابق جمعرات کو سرحد پر طالبان حملوں میں دو پاکستانی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔
افغان ردعمل اور سفارتی احتجاج
افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا اور پاکستانی فضائی حملوں کو افغانستان کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کابل، قندھار اور پکتیکا میں پاکستانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے اور جارحیت کا جواب دیں گے۔
شدت پسند تنظیموں کا معاملہ
پاکستانی عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انٹیلیجنس بیسڈ فضائی حملوں میں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا، جس میں 80 سے زائد شدت پسند مارے گئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
افغان طالبان نے ان حملوں کو شہری علاقوں پر بمباری قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
ثالثی کی سابقہ کوششیں
یاد رہے کہ اکتوبر میں بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں۔ بعد ازاں دوست ممالک کی ثالثی سے دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں پاکستان میں بڑھتے دہشت گردی کے واقعات کے بعد ایک بار پھر دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔
صورتحال بدستور نازک
سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کی افواج ہائی الرٹ پر ہیں۔ زمینی حقائق اور نقصانات کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کے باعث درست تصویر سامنے آنا مشکل ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تصادم وسیع تر علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
فی الحال دونوں ممالک کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی حل کے بجائے عسکری راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔



