پاکستاناہم خبریں

قندھار میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز 205 کور پر فضائی کارروائی، بھاری نقصان کی اطلاعات

ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں عسکری سازوسامان، گولہ بارود اور فوجی انفراسٹرکچر کو بڑا نقصان پہنچا ہے جبکہ افغان طالبان کو بھی بھاری فوجی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

سیدعاطف ندیم-وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

اسلام آباد: سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاک فوج کی جانب سے مبینہ طور پر ایک بڑی فضائی کارروائی کی گئی ہے جس میں افغانستان کے شہر Kandahar میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز 205 Corps کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں عسکری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس دوران اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر بھی تباہ ہوئے ہیں۔

فضائی کارروائی کی تفصیلات

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی انتہائی منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ فضائی حملے میں مبینہ طور پر جدید ہتھیاروں اور درست نشانہ لگانے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا جس کے باعث ہدف کو براہ راست نقصان پہنچا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران 205 کور کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ ساتھ قریبی ایمونیشن ڈپو بھی نشانہ بنائے گئے جس کے نتیجے میں متعدد دھماکے سنے گئے اور علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔

سیکیورٹی ذرائع کا مؤقف

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سرحد پار دہشت گرد عناصر اور عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کی گئی جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں ملوث سمجھے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور ان کے لاجسٹک مراکز کو نقصان پہنچانا تھا۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں عسکری سازوسامان، گولہ بارود اور فوجی انفراسٹرکچر کو بڑا نقصان پہنچا ہے جبکہ افغان طالبان کو بھی بھاری فوجی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

خطے میں سیکیورٹی صورتحال

ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال گزشتہ کچھ عرصے سے کشیدہ رہی ہے۔ سرحد پار حملوں اور عسکری سرگرمیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بھی تناؤ دیکھا گیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں اور اس کے سفارتی و سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

ممکنہ ردعمل اور سفارتی پہلو

تاحال Islamic Emirate of Afghanistan کی جانب سے اس کارروائی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس واقعے کی تصدیق ہوتی ہے تو اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر ردعمل اور بیانات سامنے آنے کا امکان ہے۔

نتیجہ

دفاعی ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں جاری عسکری سرگرمیوں نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے اور سفارتی کوششیں مستقبل میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button