
ٹرمپ کا ایران سے نکلنے کا اعلان، نیٹو سے علیحدگی کی دھمکی، اور جنگ بندی کی کوششیں
"ہم غور کریں گے کہ آبنائے ہرمز کب کھلے گا، آزاد اور صاف ہوگا۔ تب تک، ہم ایران کو فراموش کر رہے ہیں۔"
By www.vogurdunews.de
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران سے نکلنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ "بہت جلد” ایران سے نکل جائے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر واپس آ سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کے فوراً بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنگ بندی کی اپیل کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بحث جاری ہے۔
ٹرمپ نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ ایران سے نکلنے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے اپنے فیصلے پر غور کرے گا، اور جب تک یہ آبی گزرگاہ "آزاد اور صاف” نہیں ہو جاتی، امریکہ ایران کو "فراموش” کرے گا۔ ان کا کہنا تھا، "ہم غور کریں گے کہ آبنائے ہرمز کب کھلے گا، آزاد اور صاف ہوگا۔ تب تک، ہم ایران کو فراموش کر رہے ہیں۔”
اس کے علاوہ، ٹرمپ نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا کہ نیٹو ایران میں امریکہ کے مقاصد کے لیے اتنی فعال حمایت نہیں کر رہا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ نیٹو سے علیحدہ ہونے پر "بالکل” غور کر رہے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس اتحاد کی جانب سے ایران کے حوالے سے امریکی پالیسیوں کی حمایت میں کمی آئی ہے۔
ایران سے نکلنے کے فیصلے پر ٹرمپ کا موقف
ٹرمپ نے ایک خاص موقع پر یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں امریکی فوجیوں کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کریں گے اور امریکہ بہت جلد ایران سے نکل جائے گا۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ اگر ایران میں کوئی فوری خطرہ محسوس ہوا تو وہ فوری طور پر "اسپاٹ ہٹ” کے طور پر واپس آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ ایران سے مکمل طور پر دستبردار ہو رہا ہے، بلکہ ان کا مقصد ایران کے ساتھ معاملات کو بہتر بنانا ہے اور امریکہ کو کسی بھی وقت وہاں کارروائی کرنے کے لیے تیار رکھنا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا کردار اور ہرمز کو کھولنے کی حمایت
دریں اثنا، وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) امریکہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کے لیے لابنگ کر رہا ہے جو اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی کارروائی کی اجازت دے گی۔
رپورٹ کے مطابق، یو اے ای اس وقت اپنی فوجی تیاریوں کا بھی جائزہ لے رہا ہے، جس میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی کارروائیاں شامل ہیں۔ یو اے ای اس تنازعے میں پہلی بار براہ راست حصہ لینے کے بارے میں سوچ رہا ہے، اور اس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ "عالمی سطح پر اس بات پر وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔”
امریکی-اسرائیلی حملے اور ایران کی جوابی کارروائیاں
اس دوران، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں نے ایران کے وسطی اور جنوب مغربی حصوں میں موجود اسٹیل کمپلیکسوں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے ایرانی فوجی اور صنعتی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، ان حملوں سے ایران کے مختلف اسٹیل پیدا کرنے والے یونٹس کو شدید نقصان پہنچا، جن میں خاص طور پر سیفد دشت اسٹیل کمپلیکس شامل ہے جو جنوب مغربی ایران میں واقع ہے۔
یہ اسٹیل کمپلیکس ایران کے لیے نہ صرف صنعتی بلکہ فوجی پیداوار کے لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ان سے میزائل، ڈرون، اور بحری جہاز تیار کیے جاتے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے امریکی اڈوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ ان حملوں نے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے بلکہ تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا ہے اور عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
نیٹو سے نکلنے کا ممکنہ فیصلہ
ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ نیٹو سے نکلنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو ایک "کاغذی شیر” ہے اور انہوں نے اس بات پر تنقید کی کہ نیٹو نے ایران اور دوسرے عالمی مسائل میں امریکہ کی حمایت میں ناکامی دکھائی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ "ہم خود بخود وہاں گئے ہیں، بشمول یوکرین، جہاں ہمیں کبھی بھی وہاں نہیں جانا چاہیے تھا، یہ ہمارا مسئلہ نہیں تھا، لیکن ہم ان کے لیے وہاں تھے۔ وہ ہمارے لیے وہاں نہیں تھے۔” ان کے اس بیان میں نیٹو کی عدم حمایت اور اس کے اہمیت میں کمی کو ہدف بنایا گیا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان "فائنش لائن”
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ میں ایک "فائنش لائن” دیکھ سکتا ہے، جو اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ روبیو نے فاکس نیوز کے پروگرام "ہینیٹی” میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم فائنش لائن دیکھ سکتے ہیں۔ یہ آج نہیں ہے، یہ کل نہیں ہے، لیکن یہ آنے والا ہے۔”
روبنیو نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان کسی وقت براہ راست ملاقات کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات اس وقت انتہائی کشیدہ ہیں۔
ایران-امریکہ جنگ کی صورتحال
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے خلیج کی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے، اور اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی تھی، اور دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی کے بڑھنے کے امکانات ہیں۔ ایران کی طرف سے امریکہ اور اسرائیل پر حملے جاری ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ یہ تنازعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کو اس جنگ میں اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
یہ جنگ صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور سیاسی تعلقات پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا یہ سلسلہ عالمی برادری کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، اور اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہو گا تاکہ عالمی امن اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
نتیجہ
ٹرمپ کی جانب سے ایران سے نکلنے کا اعلان اور نیٹو سے علیحدگی کی دھمکی عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس دوران، ایران کے ساتھ جاری جنگ، امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیاں، اور خلیج کی آبی گزرگاہوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک سنگین صورتحال کو جنم دے رہی ہیں۔ عالمی برادری کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے تاکہ خطے میں امن و سکون قائم ہو سکے۔



