
مسلم لیگ (ن) میں اندرونی سیاسی سرگرمیاں تیز، حمزہ شہباز دوبارہ متحرک
ان ملاقاتوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور تشہیر کی جا رہی ہے، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ حمزہ شہباز ایک منظم سیاسی مہم کے تحت دوبارہ فعال ہوئے ہیں۔
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں ان دنوں اندرونی سیاست ایک بار پھر سرگرم دکھائی دے رہی ہے، جہاں سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اچانک دوبارہ سیاسی میدان میں متحرک ہو گئے ہیں۔ ان کی حالیہ سرگرمیوں نے نہ صرف پارٹی حلقوں بلکہ سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔
ضلعی سطح سے یونین کونسل تک متحرک رابطہ مہم
حمزہ شہباز حالیہ دنوں میں پنجاب بھر میں پارٹی کے ضلعی صدور سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومت لاہور میں یونین کونسل کی سطح پر پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے بھی براہ راست ملاقاتیں جاری ہیں۔
ان ملاقاتوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور تشہیر کی جا رہی ہے، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ حمزہ شہباز ایک منظم سیاسی مہم کے تحت دوبارہ فعال ہوئے ہیں۔
مختصر وزارت اعلیٰ اور بعد ازاں خاموشی
یہ امر قابل ذکر ہے کہ حمزہ شہباز اپریل 2022 سے جولائی 2022 تک پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ اقتدار میں آئے، تاہم ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بن گئے۔
اس سیاسی تبدیلی کے بعد حمزہ شہباز عملی طور پر سیاست سے کچھ فاصلے پر چلے گئے۔ عام انتخابات 2024 کے بعد جب مریم نواز پنجاب کی وزیراعلیٰ بنیں تو وہ کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک بھی رہے اور واپسی پر بھی زیادہ سرگرم نظر نہیں آئے۔
ترجمان کا مؤقف: “حمزہ شہباز ہمیشہ متحرک رہے”
حمزہ شہباز کے ترجمان عمران گورائیہ کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ وہ سیاست سے غائب تھے۔
انہوں نے کہا:
“حمزہ شہباز پہلے بھی کارکنوں سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کو نمایاں نہیں کیا جاتا تھا۔ اب ان میں وسعت آئی ہے کیونکہ نچلی سطح پر کارکنوں کے مسائل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔”
ان کے مطابق اس وقت پارٹی کے کارکنوں میں یہ احساس پایا جا رہا ہے کہ ان کی آواز مؤثر طریقے سے نہیں سنی جا رہی، جسے دور کرنے کے لیے یہ رابطہ مہم شروع کی گئی ہے۔
کارکنوں کے مسائل پر توجہ
ترجمان کے مطابق حمزہ شہباز نہ صرف کارکنوں کے مسائل سن رہے ہیں بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ پارٹی کے نچلے ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے اور کارکنوں کا اعتماد بحال کیا جائے۔
یہ حکمت عملی اس وقت سامنے آئی ہے جب وفاق اور پنجاب دونوں میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہے، لیکن تنظیمی سطح پر کچھ چیلنجز برقرار ہیں۔
تجزیہ کاروں کی رائے: سیاسی حکمت عملی یا طاقت کی کشمکش؟
سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق حمزہ شہباز کا دوبارہ متحرک ہونا کوئی حیران کن بات نہیں۔
انہوں نے کہا:
“جب حکومت کا آدھا دور گزر جاتا ہے تو پارٹیاں اپنی سیاسی پوزیشن کا ازسرِنو جائزہ لیتی ہیں۔ حمزہ شہباز پنجاب میں پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بلدیاتی انتخابات کے حامی ہیں۔”
تاہم ان کے مطابق صوبائی حکومت، جو مریم نواز کی قیادت میں ہے، فی الحال بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔
صوبائی صدارت کی خواہش؟
دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز ممکنہ طور پر پارٹی کے صوبائی صدر بننا چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق:
“یہ عہدہ اس وقت رانا ثنا اللہ کے پاس ہے، جو وفاقی سطح پر مصروف ہیں۔ حمزہ شہباز چاہتے ہیں کہ انہیں پنجاب میں اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع دیا جائے۔”
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں اگر مریم نواز وفاقی سیاست کا رخ کرتی ہیں تو حمزہ شہباز کے لیے صوبے میں کردار ادا کرنے کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
اختلافی آراء اور قیاس آرائیاں
تاہم سلمان غنی اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق:
“شہباز شریف اس وقت مضبوط سیاسی پوزیشن میں ہیں اور فوری طور پر کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حمزہ شہباز کے صوبائی صدر بننے کی خبریں زیادہ تر قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور ان میں حقیقت کم نظر آتی ہے۔
وفاقی ذمہ داری کی قیاس آرائیاں
مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما، جو حمزہ شہباز کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں جلد وفاق میں کوئی اہم ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق:
“اس مقصد کے لیے ان کی ٹیم نے تیاری شروع کر دی ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔”
مستقبل کی سیاست: اہم دن قریب
سیاسی مبصرین کے مطابق حمزہ شہباز کی حالیہ سرگرمیاں محض معمول کی سیاسی مصروفیات نہیں بلکہ ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہیں۔ چاہے یہ تنظیمی بہتری ہو، صوبائی سیاست میں واپسی یا وفاقی کردار—آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔
فی الحال ایک بات واضح ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر سیاسی حرکیات تیزی سے بدل رہی ہیں، اور حمزہ شہباز اس تبدیلی کے مرکز میں نظر آ رہے ہیں۔


