اہم خبریںمشرق وسطیٰ

پاکستان میں مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی تیاری، لبنان پر اسرائیلی حملے جاری

انہوں نے مزید کہا، "اگر دورے کا شیڈول حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو وفد کی تشکیل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔"

ایجنسیاں

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد آج دس اپریل بروز جمعہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے  لیے ایرانی اور امریکی مذاکراتی وفود کی میزبانی کے لیے تیار ہے، تاہم لبنان پر اسرائیلی مہلک حملوں کے بعد ان مذاکرات میں تہران کی شرکت غیر یقینی ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے اس ہفتے طے پانے والی عارضی جنگ بندی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق اسرائیل اور لبنان آئندہ ہفتے واشنگٹن میں مذاکرات کریں گے جبکہ عالمی سطح پر اس خدشے میں اضافہ ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی بمباری مہم امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے ہی نازک دو ہفتوں کی جنگ بندی کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔

اسلام آباد ان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاریوں میں مصروف ہے، جن میں سرکاری ذرائع کے مطابق حساس امور پر بات چیت متوقع ہے، جن میں ایران کا جوہری افزودگی پروگرام اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت کی بلا رکاوٹ روانی شامل ہیں۔

توقع ہے کہ امن مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے
توقع ہے کہ امن مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گےتصویر: Shadati/Xinhua/dpa/picture alliance

اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیاں نہ روکنے کے فیصلے  نے پاکستان میں متوقع مذاکرات پر سایہ ڈال دیا ہے، جہاں دو روزہ سرکاری تعطیل کے باعث سڑکیں بند ہیں اور شہر وفود کی آمد سے قبل غیر معمولی طور پر سنسان دکھائی دے رہا ہے۔

ایران کا مشروط شرکت کا عندیہ

تاہم دارالحکومت میں سکیورٹی سخت کرنے اور وفود کی میزبانی کے لیے مرکزی ہوٹل خالی کرانے کے باوجود ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اس کی شرکت لبنان پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے سے مشروط ہو سکتی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا، "جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا انعقاد اس بات پر منحصر ہے کہ امریکہ تمام محاذوں، خصوصاً لبنان میں، جنگ بندی کی پاسداری کرے۔”

انہوں نے مزید کہا، "اگر دورے کا شیڈول حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو وفد کی تشکیل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔”

نازک جنگ بندی جاری

اس کے باوجود ایران کے طاقتور پاسدارانِ انقلاب نے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق جنگ بندی کی پابندی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران کسی ملک پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔

بدھ کو اسرائیل نے لبنان پر مارچ کے اوائل میں حزب اللہ کے جنگ میں شامل ہونے کے بعد سے اپنے شدید ترین حملے کیے، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور جنگ بندی کے نفاذ کے 48 گھنٹوں کے اندر ہی صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

اسلام آباد مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے
اسلام آباد مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گےتصویر: Jonathan Ernst/Pool Reuters/AP Photo/dpa/picture alliance

پاکستان کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، جبکہ واشنگٹن بھی بیروت کو متوازی مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے طے کی گئی تھی تاکہ ایسے تنازع کا خاتمہ ممکن ہو سکے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو "بے معنی” بنا دیا ہے اور لبنان جنگ بندی کا "لازمی حصہ” ہے۔

پاکستان میں ایران کے سفیر نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک پیغام حذف کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی وفد اسی روز پاکستان پہنچے گا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ہفتہ کو امریکی وفد کی قیادت کریں گے، جن کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ہوں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button